علما و مشائخ کا مفتی منیب پر اظہار اعتماد پروپیگنڈے کی مذمت
ٹی وی چینلز مذہب کی سرخ لائن عبور نہ کریں، علما کے قاتل گرفتار کیے جائیں، متفقہ بیان
ٹی وی چینلز مذہب کی سرخ لائن عبور نہ کریں، علما کے قاتل گرفتار کیے جائیں، متفقہ بیان، فوٹو : فائل
QUETTA:
'' تنظیم المساجد اہلسنت پاکستان ''کے زیرِاہتمام دارالعلوم نعیمیہ میں علماء ومشائخ اور آئمہ وخطباء کرام کا ایک نمائندہ اجتماع منعقد ہوا۔ اجتماع میں ملک کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی غوروخوض کیا گیا۔ علماء ومشائخ اہلسنت نے واضح طور پر محسوس کیا کہ ایک خاص طبقے کی جانب سے مفتیِ اعظم پاکستان پروفیسر مفتی منیب الرحمن کے خلاف ایک منظم پروپیگنڈا مہم برپاکی گئی ہے۔
اس موقع پر ایک مشترکہ ومتفقہ بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ پاکستان بھر میں علماء ومشائخ اور آئمہ وخطبائِ اہلسنت مفتیِ اعظم پاکستان پروفیسر مفتی منیب الرحمن پر بھرپور اعتما د کا اظہار کرتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ایک سیاسی مذہبی جماعت جمعیت علمائے اسلام کے بعض رہنماؤں نے مہم چلانے کا اعلان کیا ہے اور انتہائی بے ہودہ زبان استعمال کی ہے ہم عہد کرتے ہیں کہ ایسی ہر مکروہ مہم کا بھرپور جواب دیا جائے گا ہم جمعیت علمائِ پاکستان کی قیادت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسے حالات میں کسی مذہبی سیاسی اتحاد میں اِن لوگوں کے ساتھ بیٹھنا اہلسنت وجماعت کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے تاوقتیکہ جمعیت کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اپنی پوزیشن واضح نہ کریں۔
متفقہ بیان میں علماء کرام نے کہا کہ ہم ٹیلی ویژن چینلز کے مالکان کو بھی متنبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے چینلز پر مُسلَّمہ مذہبی شخصیات کے بارے میںعالمی ایجنسیوں کے پیشہ ور مذہبی ایجنٹوںکے ذریعے اہانت آمیز ریمارکس کا سلسلہ بند کریں۔ ہم نہایت ذمّے داری کے ساتھ متوجہ کرنا چاہتے ہیں کہ مذہب کے حساس معاملات میں ''سرخ لائن'' کو عبور نہ کیا جائے۔ اجلاس میں مطالبہ کیاگیاکہ بلوچستان اور کراچی میں علمائے اہلسنّت کی ٹارگٹ کلنگ بندکی جائے اور اِن علماء کے قاتلوں اوراُن کے سرپرستوں کو بے نقاب کرکے کٹہرے میں لایاجائے ۔ ایک اور قرارداد میں مطالبہ کیاگیاکہ الیکٹرانک اورپرنٹ میڈیا کے لیے دینی و ملی تہذیبی اَقدار کا ایک ضابطۂ اَخلاق مُرتب کرکے اُسے قانونی حیثیت دی جائے کیونکہ میڈیا نے فحاشی وعریانی کے فروغ میں تمام اَقدار کو پامال کردیا ہے۔
اجلاس سے مولانا جمیل احمد نعیمی، مفتی محمد اطہر نعیمی، مولانا غلام محمد سیالوی، مولانا غلام دستگیر افغانی، مفتی محمد رفیق حسنی، مفتی وسیم اختر المدنی، مولانا ریحان امجد نعمانی، علامہ مفتی محمد اکمل مدنی، مفتی عابد مبارک، علامہ رضوان احمد نقشبندی، علامہ عقیل انجم، مفتی خالدکمال، مفتی محمد اطہر نعیمی، قاضی احمد نورانی، مفتی محمدرفیق الحسنی، مفتی غلام نبی فخری، مفتی رفیع الرحمٰن نورانی، مفتی عبدالقیوم محمود نقشبندی، مفتی عظمت علی شاہ ہمدانی، مولانا محمد ناصرخان چشتی، علامہ بابرشاہ گیلانی، علامہ آصف سعید قادری، علامہ راشدفرید قادری، محمدشمیم خان، مولانامحمد ایاز سعیدی اور دیگرعلمائے کرام نے بھی خطاب کیا۔
'' تنظیم المساجد اہلسنت پاکستان ''کے زیرِاہتمام دارالعلوم نعیمیہ میں علماء ومشائخ اور آئمہ وخطباء کرام کا ایک نمائندہ اجتماع منعقد ہوا۔ اجتماع میں ملک کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی غوروخوض کیا گیا۔ علماء ومشائخ اہلسنت نے واضح طور پر محسوس کیا کہ ایک خاص طبقے کی جانب سے مفتیِ اعظم پاکستان پروفیسر مفتی منیب الرحمن کے خلاف ایک منظم پروپیگنڈا مہم برپاکی گئی ہے۔
اس موقع پر ایک مشترکہ ومتفقہ بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ پاکستان بھر میں علماء ومشائخ اور آئمہ وخطبائِ اہلسنت مفتیِ اعظم پاکستان پروفیسر مفتی منیب الرحمن پر بھرپور اعتما د کا اظہار کرتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ایک سیاسی مذہبی جماعت جمعیت علمائے اسلام کے بعض رہنماؤں نے مہم چلانے کا اعلان کیا ہے اور انتہائی بے ہودہ زبان استعمال کی ہے ہم عہد کرتے ہیں کہ ایسی ہر مکروہ مہم کا بھرپور جواب دیا جائے گا ہم جمعیت علمائِ پاکستان کی قیادت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسے حالات میں کسی مذہبی سیاسی اتحاد میں اِن لوگوں کے ساتھ بیٹھنا اہلسنت وجماعت کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے تاوقتیکہ جمعیت کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اپنی پوزیشن واضح نہ کریں۔
متفقہ بیان میں علماء کرام نے کہا کہ ہم ٹیلی ویژن چینلز کے مالکان کو بھی متنبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے چینلز پر مُسلَّمہ مذہبی شخصیات کے بارے میںعالمی ایجنسیوں کے پیشہ ور مذہبی ایجنٹوںکے ذریعے اہانت آمیز ریمارکس کا سلسلہ بند کریں۔ ہم نہایت ذمّے داری کے ساتھ متوجہ کرنا چاہتے ہیں کہ مذہب کے حساس معاملات میں ''سرخ لائن'' کو عبور نہ کیا جائے۔ اجلاس میں مطالبہ کیاگیاکہ بلوچستان اور کراچی میں علمائے اہلسنّت کی ٹارگٹ کلنگ بندکی جائے اور اِن علماء کے قاتلوں اوراُن کے سرپرستوں کو بے نقاب کرکے کٹہرے میں لایاجائے ۔ ایک اور قرارداد میں مطالبہ کیاگیاکہ الیکٹرانک اورپرنٹ میڈیا کے لیے دینی و ملی تہذیبی اَقدار کا ایک ضابطۂ اَخلاق مُرتب کرکے اُسے قانونی حیثیت دی جائے کیونکہ میڈیا نے فحاشی وعریانی کے فروغ میں تمام اَقدار کو پامال کردیا ہے۔
اجلاس سے مولانا جمیل احمد نعیمی، مفتی محمد اطہر نعیمی، مولانا غلام محمد سیالوی، مولانا غلام دستگیر افغانی، مفتی محمد رفیق حسنی، مفتی وسیم اختر المدنی، مولانا ریحان امجد نعمانی، علامہ مفتی محمد اکمل مدنی، مفتی عابد مبارک، علامہ رضوان احمد نقشبندی، علامہ عقیل انجم، مفتی خالدکمال، مفتی محمد اطہر نعیمی، قاضی احمد نورانی، مفتی محمدرفیق الحسنی، مفتی غلام نبی فخری، مفتی رفیع الرحمٰن نورانی، مفتی عبدالقیوم محمود نقشبندی، مفتی عظمت علی شاہ ہمدانی، مولانا محمد ناصرخان چشتی، علامہ بابرشاہ گیلانی، علامہ آصف سعید قادری، علامہ راشدفرید قادری، محمدشمیم خان، مولانامحمد ایاز سعیدی اور دیگرعلمائے کرام نے بھی خطاب کیا۔