نیوٹریشن پالیسی متعارف کرانیکی منصوبہ بندی صوبوں نے آمادگی ظاہر کردی
آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان نے بھی آمادگی ظاہر کردی، جلدقومی سطح پر ایک مکمل پالیسی تشکیل دی جائے گی۔
آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان نے بھی آمادگی ظاہر کردی، جلدقومی سطح پر ایک مکمل پالیسی تشکیل دی جائے گی. فوٹو: فائل
خیبر پختونخوا حکومت نے اٹھارویں ترمیم کی منظوری کے بعد صوبے میں نئی کثیر شعبہ جاتی نیوٹریشن پالیسی متعارف کرانے کیلیے منصوبہ بندی کا آغاز کر دیا ہے جس کیلیے پشاور میں دو روزہ ورکشاپ کا ا نعقاد کیا گیا ہے، ورکشاپ کا باقاعدہ افتتاح ایڈیشنل چیف سیکریٹری پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ عطاء اﷲ خان نے کیا جبکہ ورکشاپ میں فاٹا و خیبر پختونخوا کے مختلف سرکاری شعبہ جات کے اعلیٰ افسران، صحت منصوبوں کے منیجرز ' عالمی امدادی اداروں و تنظیموں کے نمائندہ افراد نے شرکت کی۔
ورکشاپ سے سیکریٹری سوشل ویلفیئر فاٹا ڈاکٹر آفتاب اکبر درانی ' ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر شریف احمد خان ' عالمی بینک کی نمائندہ سمن عزیری ' یونیسیف کی نمائندہ سلویا خوفمین ' ڈاکٹر خضر حیات ' ڈاکٹر ایوب و دیگر نے خطاب کیا ' دو روزہ ورکشاپ میں فاٹا و خیبر پختونخوا کیلیے نیوٹریشن پالیسی گائیڈ لائن اور کثیر الاشعبہ جاتی نیوٹریشن حکمت عملی کیلیے آپریشنل پلان تیار کیا جائیگا جبکہ نئی نیوٹریشن پالیسی کے تحت صوبے میں صحت ' تعلیم ' محکمہ خوراک ' محکمہ زراعت ' محکمہ سماجی بہبود و ترقی نسواں ' لوکل گورنمنٹ سمیت تمام شعبہ جات کو جوابدہ بنایا جائیگا۔
اس موقع پر مختلف طبی ماہرین و عالمی امدادی اداروں کے نمائندہ افراد نے اپنی پریذینٹیشن پیش کیں جن میں بتایا گیا کہ نیشنل نیوٹریشن سروے 2011ء کی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں پانچ سال سے کم عمر کے 48 فیصد اور فاٹا میں 58 فیصد بچے شدید غذائی کمی کے باعث اپنی عمر کے لحاظ سے قد میں چھوٹے ہیں جبکہ 24 فیصد بچے کم وزن اور17.3 فیصد شدید غذائی کمی کا شکار ہیں جبکہ ایسے بچوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ اس وقت حکومت کیلیے الارمنگ صورتحال ہے، مجوزہ پالیسی پر صوبوں سمیت آزاد کشمیر ' گلگت بلتستان نے باقاعدہ آمادگی کا اظہار کیا ہے جسکے بعد قومی سطح پر ایک مکمل پالیسی تشکیل دی جائیگی۔
ورکشاپ سے سیکریٹری سوشل ویلفیئر فاٹا ڈاکٹر آفتاب اکبر درانی ' ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر شریف احمد خان ' عالمی بینک کی نمائندہ سمن عزیری ' یونیسیف کی نمائندہ سلویا خوفمین ' ڈاکٹر خضر حیات ' ڈاکٹر ایوب و دیگر نے خطاب کیا ' دو روزہ ورکشاپ میں فاٹا و خیبر پختونخوا کیلیے نیوٹریشن پالیسی گائیڈ لائن اور کثیر الاشعبہ جاتی نیوٹریشن حکمت عملی کیلیے آپریشنل پلان تیار کیا جائیگا جبکہ نئی نیوٹریشن پالیسی کے تحت صوبے میں صحت ' تعلیم ' محکمہ خوراک ' محکمہ زراعت ' محکمہ سماجی بہبود و ترقی نسواں ' لوکل گورنمنٹ سمیت تمام شعبہ جات کو جوابدہ بنایا جائیگا۔
اس موقع پر مختلف طبی ماہرین و عالمی امدادی اداروں کے نمائندہ افراد نے اپنی پریذینٹیشن پیش کیں جن میں بتایا گیا کہ نیشنل نیوٹریشن سروے 2011ء کی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں پانچ سال سے کم عمر کے 48 فیصد اور فاٹا میں 58 فیصد بچے شدید غذائی کمی کے باعث اپنی عمر کے لحاظ سے قد میں چھوٹے ہیں جبکہ 24 فیصد بچے کم وزن اور17.3 فیصد شدید غذائی کمی کا شکار ہیں جبکہ ایسے بچوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ اس وقت حکومت کیلیے الارمنگ صورتحال ہے، مجوزہ پالیسی پر صوبوں سمیت آزاد کشمیر ' گلگت بلتستان نے باقاعدہ آمادگی کا اظہار کیا ہے جسکے بعد قومی سطح پر ایک مکمل پالیسی تشکیل دی جائیگی۔