دل پر آرے چلتے ہیں
بچپن میں جب میں نے اپنے اردگردکی بعض عمارتوں پر کدالیں چلتےدیکھیں تو دل پرآرے چلے، کیسی شانداراور بارونق عمارتیں تھیں۔
zahedahina@gmail.com
میں پرانے کراچی کی رہنے والی، بچپن میں جب میں نے اپنے اردگرد کی بعض عمارتوں پر کدالیں چلتے دیکھیں تو دل پر آرے چلے۔ کیسی شاندار اور بارونق عمارتیں تھیں۔ کسی کی پیشانی پر 1930ء اور کسی پر 1923ء کندہ تھا۔ ایسی کوٹھیاں بھی دیکھیں جن کے سبزہ زار کے بیچوں بیچ گول تالاب تھے جن میں پتھر سے تراشے ہوئے کنول کے پھول سر اٹھائے کھڑے تھے۔ کبھی ان سے پانی کی دھاریں پھوٹتی ہوں گی۔ اب سوکھ گئے تھے، پھر بھی دل کو لُبھاتے تھے۔ ایسے ہی ایک خشک فوارے کو کدال سے ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر آنکھوں سے آنسو بہتے رہے تھے۔
بچپن کے وہ دن گزر گئے، پرانی عمارتوں، خستہ حال کوٹھیوں، جانوروں کے پینے کے لیے بنے ہوئے پیائو اور صدر کے پرانے فلیٹوں کی شکست و ریخت پر آہ بھری۔ شہر کا تہذیبی سرمایہ لٹ رہا تھا اور سب خاموش تھے۔ شاید اس سرمائے سے کسی کو محبت نہ تھی۔ سکھر، حیدرآباد، لاہور اور دوسرے شہروں اور بستیوں کی پرانی ہو جانے والی تاریخی عمارتوں کو گرا کر ان پر کبوتروں کے کابکوں جیسی اونچی، نیچی عمارتوں کی تعمیر دیکھی اور ماتم کیا۔ کچھ لوگوں نے اپنے اپنے علاقوں اور شہروں کی بعض یادگار عمارتوں کو محفوظ کر لیا۔ ان کی نئے سرے سے تعمیر اور تزئین کی لیکن آج بھی اندرون لاہور کی سیکڑوں برس پرانی کئی عمارتیں ڈھے رہی ہیں، ان کے نقشیں دروازے اور جھروکے نودولتیوں کے گھروں میں نصب کرنے کے لیے اکھاڑے جا رہے ہیں اور منہ مانگی قیمت پر فروخت ہو رہے ہیں۔
کراچی سے چند میل کے فاصلے پر چوکھنڈی کے قبرستان کی بے حرمتی ہو رہی ہے اور وہاں دفن نامعلوم مردوں اور عورتوں کے سنگ مزار ہمارے خوش ذوق امیروں کے گھروں کو رونق بخش رہے ہیں۔ ٹیکسلا کے ارد گرد زمین میں دبی ہوئی مورتیاں نکال کر ہزاروں ڈالر کے عوض بیچ دی جاتی ہیں۔ یہ مورتیاں، کتبے، کواڑ اور جھروکے ہمارا تہذیبی ورثہ اور خزانہ ہیں۔ ان کی تباہی اور بے توقیری پر واویلا کیجیے تو بیشتر لوگوں کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔ واقعی آنا بھی نہیں چاہیے۔ جہاں صبح و شام بے گناہ انسان مذہب، مسلک، نسل اور زبان کے اختلاف کے سبب ہلاک کر دیے جاتے ہوں، عبادت گاہیں، مدرسے، اسپتال، اسکول، خانقاہیں اور مزارات بارود کی نذر ہوتے ہوں۔ جہاں اخلاقی روایات اور مذہبی ہدایات کی گرفت اتنی کمزور ہو گئی ہو کہ کچھ لوگوں کی ہوس 5 اور سات برس کی بچیوں کو روند دیتی ہو، چھ سات برس کے بچے برباد کر دیے جاتے ہوں اور جرگے ریاست کے عدالتی نظام کی توہین کرتے ہوئے، اپنے نادر شاہی فیصلے صادر کرتے ہوں۔ عورتیں سنگسار کی جاتی ہوں، اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے مرد دہکتے انگاروں پر چلائے جاتے ہوں۔ وہاں کسی مجسمے، کسی نقشیں کواڑ اور کسی جھروکے کی بربادی کا واویلا بیشتر لوگوں کو یقیناً عجیب سی بات محسوس ہوتا ہو گا۔
آپ کے تہذیبی ورثے کا تعلق آپ کے عقائد سے نہیں ہوتا۔ اس کے ڈانڈے آپ کی تاریخ سے ملتے ہیں۔ تب ہی مصری اپنے فراعنہ کے بنائے ہوئے اہرام پر ناز کرتے ہیں اور ہمایوں کے مقبرے کی نئے سرے سے تعمیر و تزئین پر ہندوستان کے سکھ وزیر اعظم منموہن سنگھ نازاں اور شاداں و فرحاں نظر آتے ہیں۔ افسوس کہ نہ ہم نے گندھارا تہذیب کے آثار کی قدر کی، نہ مہاراجا رنجیت سنگھ کی تعمیرات کو محفوظ کرنے کی کوشش کی اور نہ مغلوں کے لگائے ہوئے باغات کو سرسبز رکھ سکے۔
میں اپنے قدیم ورثے کی ناقدری اور بے حرمتی پر کڑھتی ہوں تو شاید اس لیے کہ گزر جانے والوں کے آثار کا احترام مجھے نسل در نسل ملا ہے۔ میں ہندوستان کے ایک چھوٹے سے شہر سہسرام میں پیدا ہوئی، ہمارے گھروں کے مرد ہی نہیں، عورتیں بھی اس بات پر اتراتی تھیں کہ ان کے شہر کے داخلی راستے پر 2600 برس پہلے گزر جانے والے اشوک اعظم کی لگوائی ہوئی لوہے کی لاٹھ آج بھی گڑی ہوئی ہے جس پر اشوک اعظم کا فرمان کھدا ہوا ہے۔ یہ وہ مرد اور عورتیں تھیں جن سے نہ روزہ چھوٹتا تھا اور نہ نماز قضا ہوتی تھی۔ ہندوستان بھر میں ایسے ایک نہیں متعدد ستون اور چٹانیں ہیں۔ لوہے اور پتھر کو چھیل کر لوگوں کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ وہ انسانوں سے محبت اور جانوروں کے ساتھ رحم کریں۔ تلوار نہ اٹھائیں اور لوگوں کے ساتھ عدل کریں۔
اشوک اعظم نے سارے ہندوستان کے اہم شہروں کے داخلی راستے پر اپنی لاٹھ گڑ وائی یا بڑی بڑی چٹانوں پر انسان دوستی اور اخلاقی اصولوں پر مشتمل فرمان کندہ کروائے تھے۔ ان میں سے ہر فرمان 'میرے بچو!' سے شروع ہوتا تھا۔ اس طرح کے کچھ فولادی ستون اور کچھ چٹانیں ہمارے حصے میں بھی آئی ہیں اور ہمارا عظیم تاریخی ورثہ ہیں۔ بٹوارے نے ہمارے جغرافیے کو ضرور بانٹ دیا لیکن تاریخ تقسیم نہیں کی جا سکی۔ اشوک اعظم نے انسانوں کی بھلائی کے جو حکم چٹانوں پر کھدوائے وہ پاکستان کے آثار قدیمہ میں شامل ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم اپنے اس تاریخی ورثے کی حفاظت کرتے لیکن اس طرف ہمارے آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ نے خاطر خواہ توجہ نہیں دی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ خیبرپختونخوا کے شہر مانسہرہ میں کالا بت کے پل کے قریب ایک چٹان اور مردان کی شہباز گڑھی میں دو چٹانوں پر کھدے ہوئے اشوک اعظم کے فرمان غائب ہو رہے ہیں اور کیوں نہ ہوں کہ ہوا، بارش اور سردی کے سخت موسم سے ان کو بچانے کا کوئی اہتمام نہیں کیا گیا ہے۔ ان چٹانوں پر ٹین کا سائبان لگا کر ہمارا آرکیالوجیکل ڈیپارٹمنٹ اطمینان سے ہے۔ انھیں ان جانوروں کے پنجوں کی کھرونچوں سے بچانے کا بھی کوئی انتظام نہیں کیا گیا جو ان چٹانوں کے آس پاس گھاس چرتے ہیں، نہ پرندوں کی بیٹ سے انھیں محفوظ رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔
اشوک اعظم دنیا کا وہ واحد شہنشاہ ہے جس نے فتح پانے کے بعد کالنگا کے میدان میں بچھی ہوئی لاکھ لاشوں اور ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ زخمیوں کی آہوں اور کراہوں کو سن کر اپنی تلوار توڑ دی تھی اور پھر عمر بھر کبھی جنگ نہیں کی تھی۔ اس دل دوز منظر کو دیکھ کر اس نے آسمان کی طرف سر اٹھا کر جو فریاد کی تھی، وہ دل دہلا دینے والا مرثیہ ہے۔ فاتح بادشاہ کی طرف سے مفتوح ہونے والوں کا مرثیہ۔ کالنگا کے میدان میں فتح نے اشوک اعظم کے ذہن کو اس طرح منقلب کیا کہ پھر اس کی سلطنت میں جانوروں اور پرندوں کے شکار پر بھی پابندی لگ گئی تھی۔ اس کی یہ سلطنت آسام اور برما سے بلخ و بامیان تک پھیلی ہوئی تھی۔ اپنی اس وسیع اور عظیم سلطنت میں اشوک نے انسان دوستی اور اخلاقی اقدار پر عمل کرنے کے احکامات کو اپنی سلطنت کی حدوں میں چٹانوں پر کھدوایا تھا جنھیں تمام دنیا کا تاریخی اور تہذیبی سرمایہ کہا جاتا ہے۔
قراقرم ہائی وے کے آخری ٹکڑے کے قریب ہی اشوک کی ایک اور چٹان ہے جسے نہ صرف موسم نے نقصان پہنچایا ہے بلکہ گزرتے ہوئے لوگوں نے اس پر اپنے نام بھی کھودے ہیں اور اشوک کے کھدوائے ہوئے لفظوں کو کھرچنے کی کوشش کی ہے۔ آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ نے وہاں ایک گارڈ کی ڈیوٹی لگائی ہے کہ وہ وہاں آنے والوں کے ہاتھوں سے قومی ورثے کو کو نقصان نہ پہنچنے دے لیکن جب اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ ان چٹانوں سے محبت نہیں کرتے، ان کی قدر نہیں کرتے تو اس گارڈ سے کیا شکوہ۔ اشوک اعظم کے کھدوائے ہوئے لفظوں کو مسخ کرنے یا اس پر اپنا نام لکھنے والوں پر ہم صرف افسوس ہی کر سکتے ہیں۔ کچھ عرصے پہلے اشوک کی اس چٹان کے قریب ایک خود کش بمبار نے حملہ کیا تھا۔ جس کی وجہ سے اس چٹان کو نقصان پہنچا اور اس کا ایک حصہ اڑ گیا۔ میڈیا میں ہمارے ثقافتی ورثے کے اس نقصان کا شاید کسی نے ذکر بھی نہیں کیا۔
اس وقت ہمارے یہاں شدت پسندی کا جو طوفان اٹھا ہوا ہے، اس نے ہزارہ ڈویژن اور آس پاس کے علاقوں میں زمین کے اندر چھپے ہوئے ہمارے اس ثقافتی ورثے کو بھی نقصان پہنچایا ہے جن کو ابھی آرکیالوجیکل ڈیپارٹمنٹ تلاش کرنے اور دنیا کے سامنے لانے میں کامیاب نہیں ہوا ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں ہمارے ہزاروں بے گناہ شہری شدت پسندوں کے ہاتھوں ہلاک ہوئے۔ ان کے بارودی حملوں سے مسجدیں، امام باڑے، اسکول، اسپتال، خیرات گھر، بچے اور عورتیں نہ بچ سکیں۔ ایسے لوگوں سے اس بات کی کیا شکایت کی جائے کہ انھوں نے اشوک اعظم کی یادگاروں یا دوسرے تاریخی اور قومی ورثے کو نقصان پہنچایا ۔ ہم ان سے شکایت نہیں کر سکتے لیکن دل پر آرے تو چلتے ہیں۔
بچپن کے وہ دن گزر گئے، پرانی عمارتوں، خستہ حال کوٹھیوں، جانوروں کے پینے کے لیے بنے ہوئے پیائو اور صدر کے پرانے فلیٹوں کی شکست و ریخت پر آہ بھری۔ شہر کا تہذیبی سرمایہ لٹ رہا تھا اور سب خاموش تھے۔ شاید اس سرمائے سے کسی کو محبت نہ تھی۔ سکھر، حیدرآباد، لاہور اور دوسرے شہروں اور بستیوں کی پرانی ہو جانے والی تاریخی عمارتوں کو گرا کر ان پر کبوتروں کے کابکوں جیسی اونچی، نیچی عمارتوں کی تعمیر دیکھی اور ماتم کیا۔ کچھ لوگوں نے اپنے اپنے علاقوں اور شہروں کی بعض یادگار عمارتوں کو محفوظ کر لیا۔ ان کی نئے سرے سے تعمیر اور تزئین کی لیکن آج بھی اندرون لاہور کی سیکڑوں برس پرانی کئی عمارتیں ڈھے رہی ہیں، ان کے نقشیں دروازے اور جھروکے نودولتیوں کے گھروں میں نصب کرنے کے لیے اکھاڑے جا رہے ہیں اور منہ مانگی قیمت پر فروخت ہو رہے ہیں۔
کراچی سے چند میل کے فاصلے پر چوکھنڈی کے قبرستان کی بے حرمتی ہو رہی ہے اور وہاں دفن نامعلوم مردوں اور عورتوں کے سنگ مزار ہمارے خوش ذوق امیروں کے گھروں کو رونق بخش رہے ہیں۔ ٹیکسلا کے ارد گرد زمین میں دبی ہوئی مورتیاں نکال کر ہزاروں ڈالر کے عوض بیچ دی جاتی ہیں۔ یہ مورتیاں، کتبے، کواڑ اور جھروکے ہمارا تہذیبی ورثہ اور خزانہ ہیں۔ ان کی تباہی اور بے توقیری پر واویلا کیجیے تو بیشتر لوگوں کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔ واقعی آنا بھی نہیں چاہیے۔ جہاں صبح و شام بے گناہ انسان مذہب، مسلک، نسل اور زبان کے اختلاف کے سبب ہلاک کر دیے جاتے ہوں، عبادت گاہیں، مدرسے، اسپتال، اسکول، خانقاہیں اور مزارات بارود کی نذر ہوتے ہوں۔ جہاں اخلاقی روایات اور مذہبی ہدایات کی گرفت اتنی کمزور ہو گئی ہو کہ کچھ لوگوں کی ہوس 5 اور سات برس کی بچیوں کو روند دیتی ہو، چھ سات برس کے بچے برباد کر دیے جاتے ہوں اور جرگے ریاست کے عدالتی نظام کی توہین کرتے ہوئے، اپنے نادر شاہی فیصلے صادر کرتے ہوں۔ عورتیں سنگسار کی جاتی ہوں، اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے مرد دہکتے انگاروں پر چلائے جاتے ہوں۔ وہاں کسی مجسمے، کسی نقشیں کواڑ اور کسی جھروکے کی بربادی کا واویلا بیشتر لوگوں کو یقیناً عجیب سی بات محسوس ہوتا ہو گا۔
آپ کے تہذیبی ورثے کا تعلق آپ کے عقائد سے نہیں ہوتا۔ اس کے ڈانڈے آپ کی تاریخ سے ملتے ہیں۔ تب ہی مصری اپنے فراعنہ کے بنائے ہوئے اہرام پر ناز کرتے ہیں اور ہمایوں کے مقبرے کی نئے سرے سے تعمیر و تزئین پر ہندوستان کے سکھ وزیر اعظم منموہن سنگھ نازاں اور شاداں و فرحاں نظر آتے ہیں۔ افسوس کہ نہ ہم نے گندھارا تہذیب کے آثار کی قدر کی، نہ مہاراجا رنجیت سنگھ کی تعمیرات کو محفوظ کرنے کی کوشش کی اور نہ مغلوں کے لگائے ہوئے باغات کو سرسبز رکھ سکے۔
میں اپنے قدیم ورثے کی ناقدری اور بے حرمتی پر کڑھتی ہوں تو شاید اس لیے کہ گزر جانے والوں کے آثار کا احترام مجھے نسل در نسل ملا ہے۔ میں ہندوستان کے ایک چھوٹے سے شہر سہسرام میں پیدا ہوئی، ہمارے گھروں کے مرد ہی نہیں، عورتیں بھی اس بات پر اتراتی تھیں کہ ان کے شہر کے داخلی راستے پر 2600 برس پہلے گزر جانے والے اشوک اعظم کی لگوائی ہوئی لوہے کی لاٹھ آج بھی گڑی ہوئی ہے جس پر اشوک اعظم کا فرمان کھدا ہوا ہے۔ یہ وہ مرد اور عورتیں تھیں جن سے نہ روزہ چھوٹتا تھا اور نہ نماز قضا ہوتی تھی۔ ہندوستان بھر میں ایسے ایک نہیں متعدد ستون اور چٹانیں ہیں۔ لوہے اور پتھر کو چھیل کر لوگوں کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ وہ انسانوں سے محبت اور جانوروں کے ساتھ رحم کریں۔ تلوار نہ اٹھائیں اور لوگوں کے ساتھ عدل کریں۔
اشوک اعظم نے سارے ہندوستان کے اہم شہروں کے داخلی راستے پر اپنی لاٹھ گڑ وائی یا بڑی بڑی چٹانوں پر انسان دوستی اور اخلاقی اصولوں پر مشتمل فرمان کندہ کروائے تھے۔ ان میں سے ہر فرمان 'میرے بچو!' سے شروع ہوتا تھا۔ اس طرح کے کچھ فولادی ستون اور کچھ چٹانیں ہمارے حصے میں بھی آئی ہیں اور ہمارا عظیم تاریخی ورثہ ہیں۔ بٹوارے نے ہمارے جغرافیے کو ضرور بانٹ دیا لیکن تاریخ تقسیم نہیں کی جا سکی۔ اشوک اعظم نے انسانوں کی بھلائی کے جو حکم چٹانوں پر کھدوائے وہ پاکستان کے آثار قدیمہ میں شامل ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم اپنے اس تاریخی ورثے کی حفاظت کرتے لیکن اس طرف ہمارے آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ نے خاطر خواہ توجہ نہیں دی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ خیبرپختونخوا کے شہر مانسہرہ میں کالا بت کے پل کے قریب ایک چٹان اور مردان کی شہباز گڑھی میں دو چٹانوں پر کھدے ہوئے اشوک اعظم کے فرمان غائب ہو رہے ہیں اور کیوں نہ ہوں کہ ہوا، بارش اور سردی کے سخت موسم سے ان کو بچانے کا کوئی اہتمام نہیں کیا گیا ہے۔ ان چٹانوں پر ٹین کا سائبان لگا کر ہمارا آرکیالوجیکل ڈیپارٹمنٹ اطمینان سے ہے۔ انھیں ان جانوروں کے پنجوں کی کھرونچوں سے بچانے کا بھی کوئی انتظام نہیں کیا گیا جو ان چٹانوں کے آس پاس گھاس چرتے ہیں، نہ پرندوں کی بیٹ سے انھیں محفوظ رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔
اشوک اعظم دنیا کا وہ واحد شہنشاہ ہے جس نے فتح پانے کے بعد کالنگا کے میدان میں بچھی ہوئی لاکھ لاشوں اور ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ زخمیوں کی آہوں اور کراہوں کو سن کر اپنی تلوار توڑ دی تھی اور پھر عمر بھر کبھی جنگ نہیں کی تھی۔ اس دل دوز منظر کو دیکھ کر اس نے آسمان کی طرف سر اٹھا کر جو فریاد کی تھی، وہ دل دہلا دینے والا مرثیہ ہے۔ فاتح بادشاہ کی طرف سے مفتوح ہونے والوں کا مرثیہ۔ کالنگا کے میدان میں فتح نے اشوک اعظم کے ذہن کو اس طرح منقلب کیا کہ پھر اس کی سلطنت میں جانوروں اور پرندوں کے شکار پر بھی پابندی لگ گئی تھی۔ اس کی یہ سلطنت آسام اور برما سے بلخ و بامیان تک پھیلی ہوئی تھی۔ اپنی اس وسیع اور عظیم سلطنت میں اشوک نے انسان دوستی اور اخلاقی اقدار پر عمل کرنے کے احکامات کو اپنی سلطنت کی حدوں میں چٹانوں پر کھدوایا تھا جنھیں تمام دنیا کا تاریخی اور تہذیبی سرمایہ کہا جاتا ہے۔
قراقرم ہائی وے کے آخری ٹکڑے کے قریب ہی اشوک کی ایک اور چٹان ہے جسے نہ صرف موسم نے نقصان پہنچایا ہے بلکہ گزرتے ہوئے لوگوں نے اس پر اپنے نام بھی کھودے ہیں اور اشوک کے کھدوائے ہوئے لفظوں کو کھرچنے کی کوشش کی ہے۔ آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ نے وہاں ایک گارڈ کی ڈیوٹی لگائی ہے کہ وہ وہاں آنے والوں کے ہاتھوں سے قومی ورثے کو کو نقصان نہ پہنچنے دے لیکن جب اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ ان چٹانوں سے محبت نہیں کرتے، ان کی قدر نہیں کرتے تو اس گارڈ سے کیا شکوہ۔ اشوک اعظم کے کھدوائے ہوئے لفظوں کو مسخ کرنے یا اس پر اپنا نام لکھنے والوں پر ہم صرف افسوس ہی کر سکتے ہیں۔ کچھ عرصے پہلے اشوک کی اس چٹان کے قریب ایک خود کش بمبار نے حملہ کیا تھا۔ جس کی وجہ سے اس چٹان کو نقصان پہنچا اور اس کا ایک حصہ اڑ گیا۔ میڈیا میں ہمارے ثقافتی ورثے کے اس نقصان کا شاید کسی نے ذکر بھی نہیں کیا۔
اس وقت ہمارے یہاں شدت پسندی کا جو طوفان اٹھا ہوا ہے، اس نے ہزارہ ڈویژن اور آس پاس کے علاقوں میں زمین کے اندر چھپے ہوئے ہمارے اس ثقافتی ورثے کو بھی نقصان پہنچایا ہے جن کو ابھی آرکیالوجیکل ڈیپارٹمنٹ تلاش کرنے اور دنیا کے سامنے لانے میں کامیاب نہیں ہوا ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں ہمارے ہزاروں بے گناہ شہری شدت پسندوں کے ہاتھوں ہلاک ہوئے۔ ان کے بارودی حملوں سے مسجدیں، امام باڑے، اسکول، اسپتال، خیرات گھر، بچے اور عورتیں نہ بچ سکیں۔ ایسے لوگوں سے اس بات کی کیا شکایت کی جائے کہ انھوں نے اشوک اعظم کی یادگاروں یا دوسرے تاریخی اور قومی ورثے کو نقصان پہنچایا ۔ ہم ان سے شکایت نہیں کر سکتے لیکن دل پر آرے تو چلتے ہیں۔