چیف سیکریٹری کا حکم نظر انداز کے بی فیڈر سے آلودہ پانی کی فراہمی جاری
آلودہ پانی کی وجہ سے کراچی میں گیسٹرو، جلد کی بیماریوں سمیت دیگر امراض میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ٹھٹھہ اور کوٹری کے لاکھوں عوام کو کے بی فیڈر کے ذریعے صنعتی فضلے سے آلودہ پانی کی فراہمی جاری ہے، فوٹو : فائل
کے بی فیڈر کے ذریعے کراچی کے 2 کروڑ عوام سمیت ٹھٹھہ اور کوٹری کے لاکھوں شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی کیلیے سپریم کورٹ کے حکم پر کوٹری میں تقریباً 63 کروڑ کی لاگت سے بنایا گیا ایفلیونٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ پہلے روز ہی ناکارہ ہوجانے کا چیف سیکریٹری اور کمشنر حیدرآباد ڈویژن کی جانب سے نوٹس لیے جانے کے 10 روز بعد بھی نہ تو ٹریٹمنٹ پلانٹ کو فعال کیا گیا ہے اور نہ ہی ذمے داروں کا تعین کرنے کیلیے موثر کارروائی کی گئی ہے۔
جس کے باعث کراچی کی 2کروڑ سے زائد آبادی سمیت ٹھٹھہ اور کوٹری کے لاکھوں عوام کو کے بی فیڈر کے ذریعے صنعتی فضلے سے آلودہ پانی کی فراہمی جاری ہے، آلودہ پانی کے استعمال سے موذی امراض پھیلنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق کوٹری، نوری آباد، لیاقت میڈیکل اسپتال، لاکھڑا، تھر مل پاور ہاؤس، کوٹری ٹی بی اسپتال، نمرا کینسر اسپتال جامشورو، سمیت دیگر علاقوں کا صنعتی فضلہ اور سیوریج کا پانی کے بی فیڈر میں بہایا جاتا ہے اور یہی پانی کراچی اور ٹھٹھہ کو فراہم کیا جاتا ہے ۔
جس کے باعث کچھ برسوں سے کراچی میں گیسٹرو، جلد کی بیماریوں سمیت دیگر امراض میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، سپریم کورٹ نے نوٹس لیتے ہوئے صنعتی فضلے کا کے بی فیڈر میں اخراج روکنے کے احکام جاری کیے تھے، اس وقت کے صوبائی وزیر صنعت و تجارت رؤف صدیقی نے2010ء میں66.7 ملین ڈالر کی رقم سے ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے کا ٹھیکہ دیا تھا ۔ تکمیل کے بعد کمشنر حیدرآباد کے حکم پر اے آر اے کمپنی نے12ستمبر کو پلانٹ کے لیے 14 ٹینکوں میں سے 4 کو صنعتی فضلے سے بھر کر چلانے کی کوشش کی لیکن گندہ پانی ٹینکوں سے لیک ہونے لگا ۔
پائپ لائنیں پھٹ گئیں اور گندہ پانی پلانٹ میں بھرنے کے بعد قریبی گوٹھوں میں داخل ہو گیا۔ پلانٹ کے ٹینک لیک ہونے کا چیف سکریٹری نے نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر جامشورو ساجد جمال ابڑو کو رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا، ڈی سی نے رپورٹ میں بتایاکہ پلانٹ کے کام میں کوتاہی برتی گئی ہے۔ واضح رہے کہ پلانٹ بنانے والی کمپنی نے 20 سال کی گارنٹی دی تھی۔ چیف سیکریٹری کو رپورٹ ارسال کیے جانے کے ایک ہفتہ بعد بھی اس حوالے سے سندھ حکومت نے کوئی اقدام نہیں اٹھائے ۔ ڈویژنل کمشنر حیدرآباد جمال مصطفیٰ سید نے بھی اجلاس میں واضح کیا تھا کہ ٹریٹمنٹ پلانٹ میں ناقص مٹیریل استعمال کیا گیا ہے۔
جس کے باعث کراچی کی 2کروڑ سے زائد آبادی سمیت ٹھٹھہ اور کوٹری کے لاکھوں عوام کو کے بی فیڈر کے ذریعے صنعتی فضلے سے آلودہ پانی کی فراہمی جاری ہے، آلودہ پانی کے استعمال سے موذی امراض پھیلنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق کوٹری، نوری آباد، لیاقت میڈیکل اسپتال، لاکھڑا، تھر مل پاور ہاؤس، کوٹری ٹی بی اسپتال، نمرا کینسر اسپتال جامشورو، سمیت دیگر علاقوں کا صنعتی فضلہ اور سیوریج کا پانی کے بی فیڈر میں بہایا جاتا ہے اور یہی پانی کراچی اور ٹھٹھہ کو فراہم کیا جاتا ہے ۔
جس کے باعث کچھ برسوں سے کراچی میں گیسٹرو، جلد کی بیماریوں سمیت دیگر امراض میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، سپریم کورٹ نے نوٹس لیتے ہوئے صنعتی فضلے کا کے بی فیڈر میں اخراج روکنے کے احکام جاری کیے تھے، اس وقت کے صوبائی وزیر صنعت و تجارت رؤف صدیقی نے2010ء میں66.7 ملین ڈالر کی رقم سے ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے کا ٹھیکہ دیا تھا ۔ تکمیل کے بعد کمشنر حیدرآباد کے حکم پر اے آر اے کمپنی نے12ستمبر کو پلانٹ کے لیے 14 ٹینکوں میں سے 4 کو صنعتی فضلے سے بھر کر چلانے کی کوشش کی لیکن گندہ پانی ٹینکوں سے لیک ہونے لگا ۔
پائپ لائنیں پھٹ گئیں اور گندہ پانی پلانٹ میں بھرنے کے بعد قریبی گوٹھوں میں داخل ہو گیا۔ پلانٹ کے ٹینک لیک ہونے کا چیف سکریٹری نے نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر جامشورو ساجد جمال ابڑو کو رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا، ڈی سی نے رپورٹ میں بتایاکہ پلانٹ کے کام میں کوتاہی برتی گئی ہے۔ واضح رہے کہ پلانٹ بنانے والی کمپنی نے 20 سال کی گارنٹی دی تھی۔ چیف سیکریٹری کو رپورٹ ارسال کیے جانے کے ایک ہفتہ بعد بھی اس حوالے سے سندھ حکومت نے کوئی اقدام نہیں اٹھائے ۔ ڈویژنل کمشنر حیدرآباد جمال مصطفیٰ سید نے بھی اجلاس میں واضح کیا تھا کہ ٹریٹمنٹ پلانٹ میں ناقص مٹیریل استعمال کیا گیا ہے۔