ماحولیاتی آلودگی کے خلاف انوکھا احتجاج
نسل انسانی کا فرض ہے کہ وہ ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والوں کی راہ روکیں۔
نسل انسانی کا فرض ہے کہ وہ ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والوں کی راہ روکیں۔ فوٹو: سوشل میڈیا
ایک کمسن سویڈش لڑکی گریٹا تھنبرگ ماحولیاتی آلودگی کے بارے میں آگاہی مہم کے لیے اقوام متحدہ کی کانفرنس کے باہر نوجوانوں کے مظاہرے میں شرکت کے لیے برطانیہ کی پلے ماؤتھ بندر گاہ سے ایک کشتی میں نیویارک روانہ ہو گئی ہے۔ وہ اس کشتی کے ذریعے بحر اوقیانوس کو عبور کرکے نیویارک کی بندرگاہ پر اترے گی۔
اس کشتی YACHT کی کپتانی کے فرائض مناکو کے شاہی خاندان کا فرد پیریری کیسیراغی انجام دے گا۔ گریٹا کی عمر سولہ سال ہے اور وہ ماحولیاتی آلودگی کے خلاف نوجوانوں کی جدوجہد میں شرکت کر رہی ہے۔
اس لڑکی کے اسکول نے بھی گزشتہ دنوں ماحولیاتی آلودگی کے خلاف ہڑتال کی تھی جس سے پوری دنیا کے بچوں کی توجہ اس اہم مسئلہ پر مبذول ہو گئی۔ بحراوقیاس کو کشتی کے ذریعے پار کرنا بھی ماحولیاتی آلودگی کے خلاف احتجاج کا حصہ ہے۔ گریٹا نے طیارے میں سفر کرنے سے انکار کر دیا ہے کیونکہ طیارہ دوران پرواز بہت زیادہ فضائی آلودگی پھیلاتا ہے۔
گریٹا اور اس کے ساتھیوں نے جس کشتی YATCH کا انتخاب کیا ہے وہ بھی آلودگی سے مکمل طور پر پاک ہے۔ اس میں اس لڑکی کے والد سوانتے اور ایک فلم میکر بھی سوار ہیں جو اس سفر کی فلم بندی کریں گے جس کی بنیاد پر گریٹا نیو یارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس کے باہر مظاہرے میں شرکت کر سکے گی۔ کشتی کا یہ سفر دو ہفتے کے دورانیے کا ہو گا۔
گریٹا کا کہنا ہے کہ وہ کشتی میں سمندری سفر سے ہونے والی بیماری (سی سک نیس) کو خوش دلی سے قبول کرے گی اور بے آرامی کو بخوشی برداشت کرے گی۔ اس نے کہا کہ اس کے خیال میں وہ دنیا بھر کی واحد لڑکی ہے جس نے اس چیلنج کو قبول کیا ہے۔ جس کشتی YATCH پر یہ سفر کیا جا رہا ہے وہ 60 فٹ طویل ہے۔ اس کشتی نے بحراوقیانوس کو عبور کر کے منزل مقصود تک پہنچنا ہے۔
اس کشتی کے کپتان پیریری کیسیر اغی Pierre Casiraghi ہیں جو مناکو YATCH کلب کے صدر ہیں اور حکمران جماعت کے باضابطہ رکن بھی ہیں۔ جب کہ دنیا بھر کا چکر لگانے والے جرمنی کے ماہرکشتی راں بورس ہرمین بھی ان کے ساتھ شامل ہیں۔ پوری دنیا خاص کر یورپ میں آلودگی کے خلاف آگہی بہت زیادہ ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اسکول کے بچوں تک میں ماحولیاتی آلودگی کا شعور پیدا ہو چکا ہے اور وہ عالمی سربراہان مملکت کی توجہ اس اہم ترین مسئلے کی جانب دلانے کے لیے مختلف طریقوں سے احتجاج کرتے رہے ہیں۔ مناکو کے شاہی خاندان سے قریبی تعلق رکھنے والی لڑکی تھنبرگ نے بھی ایک پر خطر سمندری سفر کا آغاز کیا ہے۔
اس کا مقصد اقوام عالم کے طاقتور رہنماؤں کو یہ احساس دلانا ہے کہ ان کے اقدامات کی وجہ سے دنیا ماحولیاتی آلودگی کا شکار ہو رہی جس سے نسل انسانی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے، اب حالت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ انٹارکٹا کے برف زاروں میں بھی پلاسٹک کے ٹکڑے پائے گئے ہیں۔ نسل انسانی کا فرض ہے کہ وہ ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والوں کی راہ روکیں۔
اس کشتی YACHT کی کپتانی کے فرائض مناکو کے شاہی خاندان کا فرد پیریری کیسیراغی انجام دے گا۔ گریٹا کی عمر سولہ سال ہے اور وہ ماحولیاتی آلودگی کے خلاف نوجوانوں کی جدوجہد میں شرکت کر رہی ہے۔
اس لڑکی کے اسکول نے بھی گزشتہ دنوں ماحولیاتی آلودگی کے خلاف ہڑتال کی تھی جس سے پوری دنیا کے بچوں کی توجہ اس اہم مسئلہ پر مبذول ہو گئی۔ بحراوقیاس کو کشتی کے ذریعے پار کرنا بھی ماحولیاتی آلودگی کے خلاف احتجاج کا حصہ ہے۔ گریٹا نے طیارے میں سفر کرنے سے انکار کر دیا ہے کیونکہ طیارہ دوران پرواز بہت زیادہ فضائی آلودگی پھیلاتا ہے۔
گریٹا اور اس کے ساتھیوں نے جس کشتی YATCH کا انتخاب کیا ہے وہ بھی آلودگی سے مکمل طور پر پاک ہے۔ اس میں اس لڑکی کے والد سوانتے اور ایک فلم میکر بھی سوار ہیں جو اس سفر کی فلم بندی کریں گے جس کی بنیاد پر گریٹا نیو یارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس کے باہر مظاہرے میں شرکت کر سکے گی۔ کشتی کا یہ سفر دو ہفتے کے دورانیے کا ہو گا۔
گریٹا کا کہنا ہے کہ وہ کشتی میں سمندری سفر سے ہونے والی بیماری (سی سک نیس) کو خوش دلی سے قبول کرے گی اور بے آرامی کو بخوشی برداشت کرے گی۔ اس نے کہا کہ اس کے خیال میں وہ دنیا بھر کی واحد لڑکی ہے جس نے اس چیلنج کو قبول کیا ہے۔ جس کشتی YATCH پر یہ سفر کیا جا رہا ہے وہ 60 فٹ طویل ہے۔ اس کشتی نے بحراوقیانوس کو عبور کر کے منزل مقصود تک پہنچنا ہے۔
اس کشتی کے کپتان پیریری کیسیر اغی Pierre Casiraghi ہیں جو مناکو YATCH کلب کے صدر ہیں اور حکمران جماعت کے باضابطہ رکن بھی ہیں۔ جب کہ دنیا بھر کا چکر لگانے والے جرمنی کے ماہرکشتی راں بورس ہرمین بھی ان کے ساتھ شامل ہیں۔ پوری دنیا خاص کر یورپ میں آلودگی کے خلاف آگہی بہت زیادہ ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اسکول کے بچوں تک میں ماحولیاتی آلودگی کا شعور پیدا ہو چکا ہے اور وہ عالمی سربراہان مملکت کی توجہ اس اہم ترین مسئلے کی جانب دلانے کے لیے مختلف طریقوں سے احتجاج کرتے رہے ہیں۔ مناکو کے شاہی خاندان سے قریبی تعلق رکھنے والی لڑکی تھنبرگ نے بھی ایک پر خطر سمندری سفر کا آغاز کیا ہے۔
اس کا مقصد اقوام عالم کے طاقتور رہنماؤں کو یہ احساس دلانا ہے کہ ان کے اقدامات کی وجہ سے دنیا ماحولیاتی آلودگی کا شکار ہو رہی جس سے نسل انسانی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے، اب حالت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ انٹارکٹا کے برف زاروں میں بھی پلاسٹک کے ٹکڑے پائے گئے ہیں۔ نسل انسانی کا فرض ہے کہ وہ ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والوں کی راہ روکیں۔