92فیصدلاپتہ افرادگھر آگئے دیگر جلد آجائینگے جسٹس دوست محمد

تمام ادارے عدلیہ سے تعاون کررہے ہیں،قصورواروںکو سزادی جائیگی، گفتگو۔

تمام ادارے عدلیہ سے تعاون کررہے ہیں،قصورواروںکو سزادی جائیگی، گفتگو۔ فوٹو: فائل

پشاورہائیکورٹ کے چیف جسٹس دوست محمدنے کہاہے کہ خیبر پختونخوااورقبائلی علاقوں سے لاپتہ ہونیوالے افرادسے متعلق سیکیورٹی فورسزکی جانب سے فراہم کی گئی معلومات کے مطابق اب تک 92 فیصد افرادکی گھروںکوواپسی کی تصدیق ہوگئی ہے جبکہ اس سلسلے میں مزید معلومات حاصل کی جارہی ہے جبکہ اگرصوبائی حکومت کو شدت پسندوںکے کیسزمیںانسداددہشت گردی کی عدالتوں کیلیے مزیدججزدرکار ہیں توہائیکورٹ فراہم کردے گی۔


تاہم حکومت بھی ججزکی سہولیات کاخیال رکھے عدالتی ملازمین کے ساتھ ساتھ عام سائلین کوبھی عدالتوں میں بنیادی سہولیات فراہم کی جارہی ہے تاکہ عدالتوں پرعوام کااعتماداورمضبوط ہو سکے،پشاورہائیکورٹ کے دورے اورہائیکورٹ میںسائلین کو فراہم کردہ نئی سہولیات کے جائزے کے موقع پرمیڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ لاپتہ افرادہزاروں کی تعدادمیں گھروں کوبحفاظت پہنچ گئے ہیںاوربہت جلد دیگر لاپتہ افرادکابھی سراغ لگا لیاجائیگا۔

اس سلسلے میں تمام ادارے عدلیہ سے تعاون کررہے ہیںتاہم وہ لوگ یہ بات یاد رکھیں کہ جو قصوروارہیںان کوقانون کیمطابق سزادی جائیگی، سوات میں انسداددہشتگردی کی عدالتوںکوصحیح اورمحفوظ مقام پر منتقل کرنے کیلیے صوبائی حکومت کوفوری اقدامات اٹھانا ہونگے۔
Load Next Story