چیئر مین نیب کیلیے وزیر اعظم کو میاں اجمل کے نام پر اعتراضاپوزیشن لیڈر سے ملاقات بے نتیجہ
نوازشریف نے جسٹس ریٹائرڈ اعجاز چوہدری کا نام دیدیا،چیئرمین نیب کے لیے کسی نام پراتفاق نہ ہوسکا
میاں اجمل نے 3 نومبر کی ایمرجنسی اور اس وقت کے آمر جنرل مشرف کا بطور وفاقی سیکریٹری قانون ساتھ دیا تھا۔فوٹو: فائل
KARACHI:
وزیراعظم نوازشریف اور اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین کے لیے کسی نام پر تاحال متفق نہیں ہو سکے۔
جبکہ حکومت نے چیئرمین کیلیے جسٹس ریٹائرڈاعجاز چوہدری کا نام پیش کر دیا جس پر دونوں فریق مزید بات چیت کریں گے۔ خورشید شاہ نے کہا کہ یہ گڈے گڑیا کا کھیل نہیں، جو کام 3 ماہ میں نہیں ہو سکا اس میں مزید 2یا3 دن لگ جائیں تو کیا حرج ہے، کوشش ہے کہ غیر متنازع شخصیت سامنے لائیں تاکہ کرپشن پر قابو پایا جا سکے۔ ہفتے کو وزیراعظم نواز شریف سے قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف خورشید شاہ نے دوسرے روز ہفتے کو بھی ملاقات کی تاہم چیئرمین نیب کے نام پر اتفاق نہ ہوسکا، ملاقات کے دوران وزیر خزانہ اسحاق ڈاربھی موجود تھے۔
وزیراعظم نے قائد حزب اختلاف کو بتایا کہ میاں اجمل نے 3 نومبر کی ایمرجنسی اور اس وقت کے آمر جنرل مشرف کا بطور وفاقی سیکریٹری قانون ساتھ دیا تھا اور جب 60 ججز کو سابق صدر پرویز مشرف نے نظر بند کیا تو اس وقت بھی میاں اجمل سیکریٹری قانون تھے اور آمر کے غیر آئینی و غیر قانونی اقدامات کی مخالفت کرنے کے بجائے انھوں نے غیر قانونی اقدامات کا ساتھ دیا تھا۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے خورشیدشاہ نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف سے خوشگوار ماحول میں ملاقات ہوئی، وزیراعظم کی جانب سے جسٹس اعجاز چوہدری کا نام آیا ہے جس پر غور کیا جائے گا، ایک سوال پر خورشید شاہ نے کہاکہ وزیراعظم کی طرف سے میاں اجمل کے نام پر کوئی ایسا اعتراض سامنے نہیں آیا، چئیرمین نیب کی تقرری کے بعد بھی وزیر اعظم سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہے گا کیونکہ پیپلز پارٹی مفاہمت کی سیاست پر یقین رکھتی ہے،جمہوریت کے استحکام کے لیے حکومت اور اپوزیشن کو قومی ایشوز پر مشاورت کرنی ہو گی تاکہ کسی بھی غلط فیصلے سے بچا جا سکے۔
وزیراعظم نوازشریف اور اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین کے لیے کسی نام پر تاحال متفق نہیں ہو سکے۔
جبکہ حکومت نے چیئرمین کیلیے جسٹس ریٹائرڈاعجاز چوہدری کا نام پیش کر دیا جس پر دونوں فریق مزید بات چیت کریں گے۔ خورشید شاہ نے کہا کہ یہ گڈے گڑیا کا کھیل نہیں، جو کام 3 ماہ میں نہیں ہو سکا اس میں مزید 2یا3 دن لگ جائیں تو کیا حرج ہے، کوشش ہے کہ غیر متنازع شخصیت سامنے لائیں تاکہ کرپشن پر قابو پایا جا سکے۔ ہفتے کو وزیراعظم نواز شریف سے قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف خورشید شاہ نے دوسرے روز ہفتے کو بھی ملاقات کی تاہم چیئرمین نیب کے نام پر اتفاق نہ ہوسکا، ملاقات کے دوران وزیر خزانہ اسحاق ڈاربھی موجود تھے۔
وزیراعظم نے قائد حزب اختلاف کو بتایا کہ میاں اجمل نے 3 نومبر کی ایمرجنسی اور اس وقت کے آمر جنرل مشرف کا بطور وفاقی سیکریٹری قانون ساتھ دیا تھا اور جب 60 ججز کو سابق صدر پرویز مشرف نے نظر بند کیا تو اس وقت بھی میاں اجمل سیکریٹری قانون تھے اور آمر کے غیر آئینی و غیر قانونی اقدامات کی مخالفت کرنے کے بجائے انھوں نے غیر قانونی اقدامات کا ساتھ دیا تھا۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے خورشیدشاہ نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف سے خوشگوار ماحول میں ملاقات ہوئی، وزیراعظم کی جانب سے جسٹس اعجاز چوہدری کا نام آیا ہے جس پر غور کیا جائے گا، ایک سوال پر خورشید شاہ نے کہاکہ وزیراعظم کی طرف سے میاں اجمل کے نام پر کوئی ایسا اعتراض سامنے نہیں آیا، چئیرمین نیب کی تقرری کے بعد بھی وزیر اعظم سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہے گا کیونکہ پیپلز پارٹی مفاہمت کی سیاست پر یقین رکھتی ہے،جمہوریت کے استحکام کے لیے حکومت اور اپوزیشن کو قومی ایشوز پر مشاورت کرنی ہو گی تاکہ کسی بھی غلط فیصلے سے بچا جا سکے۔