بھارتی وزیردفاع کا غیر ذمے دارانہ بیان

پاکستان نے اس بیان پر شدید ردعمل ظاہر کیا اور اسے انتہائی غیر ذمے دارانہ قراردیا۔

پاکستان نے اس بیان پر شدید ردعمل ظاہر کیا اور اسے انتہائی غیر ذمے دارانہ قراردیا۔ فوٹو: فائل

اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب ژنگ جون نے کہا کہ سکیورٹی کونسل اجلاس میں کشمیر کے معاملے پر تفصیلی بات ہوئی اور تمام ارکان نے کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے ۔انھوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ تاریخی تنازع ہے۔ تمام ارکان نے اتفاق کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور دو طرفہ معاہدوں کی روشنی میں حل کیا جانا چاہیے۔

ان کاکہنا تھا کہ بھارت نے یکطرفہ طور پر کشمیر کی حیثیت تبدیل کی ہے،انھوں نے لداخ سے متعلق بھارتی اقدام پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے اس سے چین کی خود مختاری کو چیلنج کیا ہے جس سے خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ چین اپنی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

انھوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان چین کے دوست ہمسایہ ممالک ہیں۔ ہم سب ترقی پذیر ممالک ہیں۔ پاکستان اور بھارت دونوں ترقی کے اہم مرحلے پر ہیں۔ ہم فریقین سے کہتے ہیں کہ وہ اپنی اپنی ترقی اور جنوبی ایشیا میں امن کے لیے طاقت کے استعمال سے گریز کریں اور دونوں ممالک تاریخی مسئلہ کو پرامن طور پر حل کریں۔

بلاشبہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مسئلہ کشمیر کوبھارت کا اندرونی معاملہ ماننے سے انکار کرتے ہوئے وہاں انسانی حقوق کی صورتحال پربجا طور پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ جمعہ کے روز تمام 15ارکان کا بند کمرے میں مشاورتی اجلاس ہوا جس میں مستقل ارکان امریکا ، روس،چین، برطانیہ ،فرانس کے علاوہ غیرمستقل ارکان بیلجیئم ، آئیوری کوسٹ ، ڈومینیکن ،ریپبلک جرمنی ، گنی ، انڈونیشیا ، کویت ، پیرو، پولینڈ اور جنوبی افریقہ کے مندوبین نے شرکت کی ۔ 50 سال بعد مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں زیر بحث آیا ہے، بقول شاہ محمود قریشی سلامتی کونسل کی قراردادیں پرانی نہیں اب از سر نو تازہ ہوگئی ہیں،ان میں نئی جان آگئی ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقبل مندوب ملیحہ لودھی نے اجلاس کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اس اجلاس کا خیر مقدم کرتا ہے،مقبوضہ کشمیر کے عوام کی آواز سب سے بڑے بین الاقوامی فورم پر سنی گئی ہے، سلامتی کونسل کی آج کی میٹنگ نے بھارت کے اس موقف کی نفی کردی ہے کہ یہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے۔

لیکن بھارتی ضد اور خطے کو بدامنی کی نذر کردینے کا جنون ابھی ٹھنڈا نہیں ہوا بلکہ بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے حالیہ بیان نے خطے کو نئے بحران کی دعوت دی ہے، بھارتی وزیرداخلہ نے سلامتی کونسل کے اجلاس کے سیاق وسباق میں غالباً سوجھے سمجھے منصوبہ کے تحت ایٹمی ہتھیار ''پہلے'' استعمال کرنے کی دھمکی دی ،تاکہ سلامتی کونسل سے توجہ ہٹائی جاسکے، انھوں نے بھارت کے ایٹمی دھماکہ کرنے کی سائٹ پر اپنی تقریر میں کہا کہ آج تک ہماری جوہری پالیسی ''ایٹمی ہتھیار پہلے استعمال نہ کرنے '' پر مبنی ہے ،مستقبل میں کیا ہوگا اس کا فیصلہ حالات کو دیکھ کر کرنا ہوگا۔


پاکستان نے اس بیان پر شدید ردعمل ظاہر کیا اور اسے انتہائی غیر ذمے دارانہ قراردیا۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا ہے، اور یہ حقیقت اقوام متحدہ میں بھارتی مندوب اکبرالدین احمد کی نیو یارک میں صحافیوں سے گفتگو میں ظاہر ہوگئی جب انھوں نے کہا کہ کشمیر پر شملہ معاہدہ کے تحت مزاکرات ہوسکتے ہیں۔

شاہ محمود نے کہا کہ راج ناتھ کے بیان کی کوئی تائید نہیں کریگا، یہ جلتی پر تیل چھڑکنے کے مترادف ہے، ادھر اسلام آباد میں پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخارجہ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اب اندرونی معاملہ نہیں رہا بلکہ دنیا کی نظرمیں آگیاہے،دنیا نے ہندوستان کے موقف کو ماننے سے انکار کر دیا ہے۔

انھوں نے پوری قوم کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ آج کا دن تاریخی ہے ، بھارت نے کبھی شملہ معاہدے اور کبھی دوطرفہ مذاکرات کی آڑ میں مسئلہ کشمیر کو دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھا، 1965کے بعد پہلی مرتبہ کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل کے زیر بحث آیا ہے۔

وزیر خارجہ کے مطابق ایک پیغام آج کشمیریوںکوگیا ہے کہ وہ اس جدوجہد میں تنہا نہیں، سب ان کے ساتھ ہیں، دوسرا پیغام یہ گیاکہ کشمیر کے مسئلے کا پرامن حل نکلنا چاہیے، آج کشمیرکا مسئلہ انٹرنیشنلائز ہو گیا ہے۔ایک سوال پر انھوں نے کہا میں بھارتی وزیر خارجہ سے رابطہ نہیںکروںگا۔ وہ کشمیریوں کو خنجر مار رہے ہیں ،قاتل ہیں،کشمیریوں کا قتل عام ہورہا ہے۔

بہر حال مبصرین کے مطابق بھارتی وزیر دفاع کی دھمکی نے ثابت کردیا کہ کشمیر نہ صرف فلیش پوائنٹ اور بھارت عالمی امن کے سنگین خطرہ بنا ہوا ہے بلکہ مودی اب بھی کسی گھات میں لگا ہوا ہے لہٰذا پاکستان کو بھارت کے ''بغل میں چھری'' سے ہمیشہ محتاط رہنا چاہیے۔

 
Load Next Story