میٹھے پانی کے ذخائرکومحفوظ زون قرار دیا جائےمحمد علی شاہ
فشر فوک فورم کے تحت سیمینار،فشنگ لائسنس کے نظام پر عمل درآمد کا مطالبہ
ٹھیکیداری نظام کا خاتمہ نہ کرنے اورپانی فراہم نہ کرنے کے باعث درجنوں میٹھے پانی کی جھیلیں ختم ہوچکی ہیں۔ فوٹو:فائل
پاکستان فشر فوک فورم کے تحت میٹھے پانی پر غیرقانونی قبضے اور لائسنس نظام کے عدم نفاذ کے موضوع پر ہونے والے سیمینار میں سندھ حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ 10 لاکھ سے زائد ماہی گیروں کا روزگار بچانے کے لیے ماہی گیری لائسنس نظام پر عمل درآمد کرائے جبکہ میٹھے پانی کے تمام ذخائر کو ماحولیات کے حوالے سے محفوظ زون قرار دیا جائے۔
فورم کے چیرمین محمدعلی شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے ٹھیکیداری نظام کا خاتمہ نہ کرنے اورپانی فراہم نہ کرنے کے باعث درجنوں میٹھے پانی کی جھیلیں ختم ہوچکی ہیں یا پھر آلودگی کا شکار ہوگئی ہیں جس کے نتیجے میں ہزاروں ماہی گیروں کی زندگی اور روزگار داؤ پر لگ گئے ہیں، سول سوسائٹی کی جانب سے پائیدار ماہی گیر پالیسی ترتیب دیکر سندھ حکومت کے حوالے کی گئی ہے مگر اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔
شرکاء سے حیدرآباد پریس کلب کے صدر اسحاق منگریو، سافکو کے سلیمان جی ابڑو، اسپارک کے نیشنل منیجر کاشف بجیر، ذوالفقار ہالیپوٹو، عبدالستار سرکی ایڈوکیٹ، دیگراضلاع سے آئے ہوئے ماہی گیر رہنما حسین ملاح، محمد ملاح، مٹھن ملاح ودیگرنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ماہی گیروں کے حقوق اور تحفظ کے لیے ماہی گیروں کے ساتھ ہیں۔ سیمینار میں مطالبہ کیا گیا کہ پانیوں سے ٹھیکیداری نظام مکمل طور پر ختم کیا جائے اور فشر فوک فورم کے نمائندوں کی مشاورت کے بعد مچھلی کا شکار کرکے روزگار کمانے والوں ماہی گیروں کو فوری طور پر لائسنس جاری کیے جائیں اور ایسے افراد کو مچھلی کا شکار کرنے کی اجازت نہ دی جائے جن کے پاس لائسنس نہ ہوں۔
فورم کے چیرمین محمدعلی شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے ٹھیکیداری نظام کا خاتمہ نہ کرنے اورپانی فراہم نہ کرنے کے باعث درجنوں میٹھے پانی کی جھیلیں ختم ہوچکی ہیں یا پھر آلودگی کا شکار ہوگئی ہیں جس کے نتیجے میں ہزاروں ماہی گیروں کی زندگی اور روزگار داؤ پر لگ گئے ہیں، سول سوسائٹی کی جانب سے پائیدار ماہی گیر پالیسی ترتیب دیکر سندھ حکومت کے حوالے کی گئی ہے مگر اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔
شرکاء سے حیدرآباد پریس کلب کے صدر اسحاق منگریو، سافکو کے سلیمان جی ابڑو، اسپارک کے نیشنل منیجر کاشف بجیر، ذوالفقار ہالیپوٹو، عبدالستار سرکی ایڈوکیٹ، دیگراضلاع سے آئے ہوئے ماہی گیر رہنما حسین ملاح، محمد ملاح، مٹھن ملاح ودیگرنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ماہی گیروں کے حقوق اور تحفظ کے لیے ماہی گیروں کے ساتھ ہیں۔ سیمینار میں مطالبہ کیا گیا کہ پانیوں سے ٹھیکیداری نظام مکمل طور پر ختم کیا جائے اور فشر فوک فورم کے نمائندوں کی مشاورت کے بعد مچھلی کا شکار کرکے روزگار کمانے والوں ماہی گیروں کو فوری طور پر لائسنس جاری کیے جائیں اور ایسے افراد کو مچھلی کا شکار کرنے کی اجازت نہ دی جائے جن کے پاس لائسنس نہ ہوں۔