پاکستان میں گامانائف تکنیک سے یمنی مریض کا کامیاب علاج
ملک میں گامانائف تکنیک سے ٹیومرکا علاج دنیا بھر سے سستا ہے
نیوروسرجن پروفیسر ستار ہاشم نے گامانائف اسٹیریو تیکنیک کے ذریعے مریض کو بے ہوش کیے بغیر محفوظ ریڈی ایشن (شعاعوں) سے علاج کیا۔ فوٹو : ایکسپریس
یمن سے پاکستان آکر کراچی میں علاج کرانے والادماغی ٹیومرکا مریض صحت یاب ہوگیا، محمد کے دماغ میں5 مختلف حجم کے ٹیومر تھے۔
جس سے اس کی بنیائی متاثر ہوگئی تھی، جدید ترین ریڈی ایشن مشین گاما نائف کے ذریعے ان کا کامیاب علاج کیا گیا، یمن کے مریض نے انٹرنیٹ کے ذریعے علاج کیلیے کراچی کے نجی اسپتال سے رابطہ کیا،تفصیلات کے مطابق یمن کے شہری 40 سالہ محمد جس کے دماغ کے مختلف حصوں میں 5 مختلف حجم کے ٹیومر تھے ،اہلخانہ نے علاج کیلیے پاکستان سمیت دنیا بھرکے نیوروسرجن سے رابطہ کیا لیکن مہنگے علاج پر پاکستان میں علاج کو ترجیح دی،محمد کے اہلخانہ نے نجی اسپتال نیورو اسپائنل انسٹیٹیوٹ (این ایم آئی) میں جناح اسپتال کے نیوروسرجری کے سربراہ پروفیسر ستار ہاشم سے رابطہ کرکے اپنے دماغی ٹیومرکے علاج کی خواہش ظاہر کی۔
یمنی مریض نے یہ علاج دنیا بھر میں سستا ہونے پرکراچی کے اسپتال سے کرانے کا فیصلہ کیا اور اہلیہ اور بیٹے کے ہمراہ 3 دن قبل کراچی کے این ایم آئی اسپتال پہنچے،پروفیسر ستار ہاشم نے ضروری ٹیسٹ اور سٹی اسکین کرائے جس پر معلوم ہوا کہ محمدکے دماغ میں مختلف حجم کے 5 ٹیومر موجود ہیں ان ٹیومرز کے دباؤ سے مریض کی بینائی انتہائی کم ہوگئی تھی،نیوروسرجن پروفیسر ستار ہاشم نے گامانائف اسٹیریو تیکنیک کے ذریعے مریض کو بے ہوش کیے بغیر محفوظ ریڈی ایشن (شعاعوں) سے علاج کیا۔
پروفیسر ستار ہاشم نے بتایا کہ ملک میں نجی شعبے میں پہلی جدید ترین گامانائف مشین نصب کی گئی ہے جس سے مریض کے دماغی ٹیومرکو فوکس کرکے محفوظ ریڈی ایشن دی جاتی ہے،دماغی ٹیومرکومحفوظ ریڈی ایشن دینے کیلیے انتہائی محفوظ طریقہ استعمال کیا جاتا ہے تاکہ ریڈی ایشن سے دماغ کے دیگر سیل متاثر نہ ہوں،شعاعوں سے علاج کے دوران مریض کو بیہوش کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی اور دوران سیشن مریض گفتگو کرسکتا ہے ایک سیشن کا دورانیہ30 منٹ سے ڈیڑھ گھنٹے تک ہوتا ہے۔
گامانائف مشین سے 3 ملی میٹر حجمکے ٹیومرکا محفوظ علاج کیاجاتا ہے، انھوں نے بتایا کہ ریڈی ایشن کے دوران مریض کوساؤنڈ سسٹم کے ذریعے یٰسین شریف کی تلاوت بھی سنائی جاتی ہے،پاکستان میں مختلف امراض کے ماہرین کی کمی نہیں حکومت کوچاہیے کہ وہ پاکستان میں شعبہ طب کی صلاحیتوں کو اجاگرکرنے کیلیے سرکاری سطح پر عالمی آگاہی مہم شروع کرے تاکہ بیرونی ممالک کے مریضوںکو پاکستان میں علاج ومعالجے کی ترغیب دی جائے۔
جس سے اس کی بنیائی متاثر ہوگئی تھی، جدید ترین ریڈی ایشن مشین گاما نائف کے ذریعے ان کا کامیاب علاج کیا گیا، یمن کے مریض نے انٹرنیٹ کے ذریعے علاج کیلیے کراچی کے نجی اسپتال سے رابطہ کیا،تفصیلات کے مطابق یمن کے شہری 40 سالہ محمد جس کے دماغ کے مختلف حصوں میں 5 مختلف حجم کے ٹیومر تھے ،اہلخانہ نے علاج کیلیے پاکستان سمیت دنیا بھرکے نیوروسرجن سے رابطہ کیا لیکن مہنگے علاج پر پاکستان میں علاج کو ترجیح دی،محمد کے اہلخانہ نے نجی اسپتال نیورو اسپائنل انسٹیٹیوٹ (این ایم آئی) میں جناح اسپتال کے نیوروسرجری کے سربراہ پروفیسر ستار ہاشم سے رابطہ کرکے اپنے دماغی ٹیومرکے علاج کی خواہش ظاہر کی۔
یمنی مریض نے یہ علاج دنیا بھر میں سستا ہونے پرکراچی کے اسپتال سے کرانے کا فیصلہ کیا اور اہلیہ اور بیٹے کے ہمراہ 3 دن قبل کراچی کے این ایم آئی اسپتال پہنچے،پروفیسر ستار ہاشم نے ضروری ٹیسٹ اور سٹی اسکین کرائے جس پر معلوم ہوا کہ محمدکے دماغ میں مختلف حجم کے 5 ٹیومر موجود ہیں ان ٹیومرز کے دباؤ سے مریض کی بینائی انتہائی کم ہوگئی تھی،نیوروسرجن پروفیسر ستار ہاشم نے گامانائف اسٹیریو تیکنیک کے ذریعے مریض کو بے ہوش کیے بغیر محفوظ ریڈی ایشن (شعاعوں) سے علاج کیا۔
پروفیسر ستار ہاشم نے بتایا کہ ملک میں نجی شعبے میں پہلی جدید ترین گامانائف مشین نصب کی گئی ہے جس سے مریض کے دماغی ٹیومرکو فوکس کرکے محفوظ ریڈی ایشن دی جاتی ہے،دماغی ٹیومرکومحفوظ ریڈی ایشن دینے کیلیے انتہائی محفوظ طریقہ استعمال کیا جاتا ہے تاکہ ریڈی ایشن سے دماغ کے دیگر سیل متاثر نہ ہوں،شعاعوں سے علاج کے دوران مریض کو بیہوش کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی اور دوران سیشن مریض گفتگو کرسکتا ہے ایک سیشن کا دورانیہ30 منٹ سے ڈیڑھ گھنٹے تک ہوتا ہے۔
گامانائف مشین سے 3 ملی میٹر حجمکے ٹیومرکا محفوظ علاج کیاجاتا ہے، انھوں نے بتایا کہ ریڈی ایشن کے دوران مریض کوساؤنڈ سسٹم کے ذریعے یٰسین شریف کی تلاوت بھی سنائی جاتی ہے،پاکستان میں مختلف امراض کے ماہرین کی کمی نہیں حکومت کوچاہیے کہ وہ پاکستان میں شعبہ طب کی صلاحیتوں کو اجاگرکرنے کیلیے سرکاری سطح پر عالمی آگاہی مہم شروع کرے تاکہ بیرونی ممالک کے مریضوںکو پاکستان میں علاج ومعالجے کی ترغیب دی جائے۔