محکمہ تعلیم میں جعلی بھرتیاں جاری پرانی تاریخ کے آفر لیٹر دیے جانے لگے

خلاف ضابطہ بھرتیوں کے معاملے پر کمیٹی کی رپورٹ سرد خانے کی نذر ہوگئی

امیدواروں کو سرکاری اسکولوں میں مختلف اسامیوں کے لیے آفر لیٹر جاری کردیے گئے۔فوٹو:فائل

QUETTA:
سندھ کے سرکاری اسکولوں میں تدریسی وغیرتدریسی اسامیوں پر کی گئی۔

جعلی بھرتیوں کے ذمے داروں کی رپورٹ سرد خانے کی نذرکیے جانے کے بعد اب ایک بار پھر بڑے پیمانے پر جعلی بھرتیوں کا انکشاف ہوا ہے یہ بھرتیاں ڈائریکٹراسکولز کراچی نیاز لغاری کی جانب سے کی جارہی ہیں جس کے لیے پرانی تاریخوں کا سہارا لیا جارہا ہے اس بات کاانکشاف چیف سیکریٹری سندھ کو پیش کردہ رپورٹ میں کیا گیا ہے کہ ان امیدواروں کو سرکاری اسکولوں میں مختلف اسامیوں کے لیے آفر لیٹر جاری کردیے گئے ہیں لیکن تقرری نہیں دی جا رہی،محکمہ تعلیم میں سابق وزیر تعلیم پیرمظہرالحق کے دورمیں کی گئی خلاف ضابطہ بھرتیوں کے معاملے پر بنائی گئی کمیٹی کی رپورٹ سرد خانے کی نذر ہوچکی ہے۔




سابق ایڈیشنل سیکریٹری شفیق مہیسر کی سربراہی میں کمیٹی نے خلاف ضابطہ بھرتیوں کے ذمے داری12افسران جبار ڈایو، شمس الدین دل ، عطا اللہ بھٹو، لیاقت سولنگی ، بشیرعباسی ، ممتاز شیخ ، عمران سولنگی اور نوید سمیت دیگر پر عائد کی تھی ان افسران کو معطل کیا گیا مگر مزید کارروائی روک دی گئی،جعلی بھرتیوں کے ذمے دار افسران ڈائریکٹر اسکولز کراچی نیاز لغاری کے ماتحت محکمہ تعلیم میں کام کرتے رہے ہیں اور اب بھرتیوں کی تصدیق کے عمل میں اپنے امیدواروں کی تقرریاں درست کرارہے ہیں۔

واضح رہے کہ سندھ حکومت نے جعلی بھرتیوں سے معاملے پر محکمہ خزانہ اور اینٹی کرپشن کو تحقیقات کرکے ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی تھی لیکن با اثر مافیا نے خود کو بچانے کے لیے حیدرآباد کے ڈائریکٹر نیاز لغاری کو کراچی کا چارج بھی دلوادیا اور جعلی بھرتیوں کا ریکارڈ ضایع کیا جارہا ہے، وزیراعلیٰ سندھ نے 4 ماہ قبل نیاز لغاری کو ڈائریکٹر اسکول کراچی کے عہدے سے ہٹا دیا تھا لیکن با اثر مافیا نے وزیراعلیٰ کے احکامات پر عمل نہیں ہونے دیا، مذکورہ افسر نے عہدے کا چارج نہ چھوڑا اور بدستور غیر قانونی طور پر مذکورہ عہدے پر براجمان ہیں جبکہ محکمہ تعلیم اور اینٹی کرپشن کے حکام جعلی بھرتیوں کی انکوائری کے نام پر مسلسل مال بٹورنے میں مصروف ہیں۔
Load Next Story