مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی کا خطرہ
بی جے پی نے ہندوؤں کو مقبوضہ کشمیر میں دوبارہ مضبوط کیا،وادی میں مسلمانوں کو دہشتگرد،شرپسند،علیحدگی پسند بنا دیا گیا۔
بی جے پی نے ہندوؤں کو مقبوضہ کشمیر میں دوبارہ مضبوط کیا،وادی میں مسلمانوں کو دہشتگرد،شرپسند،علیحدگی پسند بنا دیا گیا۔ فوٹو:فائل
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ''جینوسائیڈ واچ''نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی فورسز کے مسلسل محاصرے کے تناظر میں مقبوضہ علاقے میں نسل کشی سے متعلق الرٹ جاری کر دیا ہے اور اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کو کشمیریوں کی نسل کشی سے روکے۔
ادھر وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارت سے اب مذاکرات نہیں ہونگے، ایٹمی طاقتیںآمنے سامنے ہیں، کچھ بھی ہوسکتا ہے، بھارت جھوٹا آپریشن کرسکتا ہے، وادی میں نسل کشی کا خدشہ ہوا تو جواب دینے پر مجبور ہونگے، لہٰذا ضروری ہے کہ اقوام متحدہ امن فوج مقبوضہ کشمیر بھیجے۔
یاد رہے امریکی این جی او ''جینو سائیڈ واچ'' جو دنیا بھر کے تنازعات والے علاقوں پر گہری نگاہ رکھتی ہے ،اس نے اپنی رپورٹ میں نسل کشی کا الرٹ جاری کرنے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کا ہندوتوا کا نظریہ، کشمیر میں بھارتی جابرانہ فوجی آمریت، علاقے میں مواصلات کے ذرایع کی معطلی، بنیادی انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیاں، تشدد ، خواتین کی آبروریزی اور بلاجواز بے انتہا پکڑ دھکڑ کشمیر یوں کی نسل کشی کی طرف اشارہ ہیں۔
جینوسائیڈ واچ نے الرٹ میں کشمیریوں کی متوقع نسل کشی کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ بھارت کو کشمیریوں کی نسل کشی سے روکیں۔ ''جینو سائیڈ واچ''نے اپنی رپورٹ میں کشمیریوں کی نسل کشی کے سلسلے میں10مراحل کی نشاندہی کی ہے اورکہا ہے کہ بھارتی فوج نے اب تک 70 ہزار کشمیری شہید کیے۔
مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی نظام اور انٹرنیٹ بند ہے، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں، تشدد، جنسی زیادتی، جرم کے بغیر دوسال تک قید کے واقعات عام ہیں، مسلمان حریت رہنماؤں کو گرفتار یا نظر بند کیا گیا ہے، کشمیریوں کے مد مقابل بھارتی فوج ہندو اور سکھوں پر مشتمل ہے، مقبوضہ وادی میں1990تک ہندو پنڈت معاشی طور پر حاوی تھے۔
بی جے پی نے ہندوؤں کو مقبوضہ کشمیر میں دوبارہ مضبوط کیا، وادی میں مسلمانوں کو دہشتگرد، شرپسند، علیحدگی پسند بنا دیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مقبوضہ کشمیر پر جدید اسلحے سے لیس 6 لاکھ فوجی اور پولیس قابض ہے، مودی اور بی جے پی نے مسلم مخالف نفرت کو ہوا دی اور سوشل میڈیا پر جھوٹا پروپیگنڈا کیا، بی جے پی رہنماؤں نے فوجی قبضے کو مسئلہ کشمیر کا حتمی حل قرار دیا، کشمیریوں کو گرفتار، قتل، محصور کر کے تشدد اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ مسلمان اکثریت پر اقلیتی ہندو فوج کی حکمرانی ہے، مقبوضہ وادی میں بڑے پیمانے پر قتل عام شروع ہو سکتا ہے۔
شاید کسی کو اندازہ نہیں کہ نسل کشی یا قتل عام کی اس کارروائی کا حجم کس قدر ہولناک ہوسکتاہے ، عالمی ضمیر خوابیدہ ہے، مبصرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اندازہ غلط بھی ہوسکتا ہے، بعض تجزیہ کار اس انداز نظر کے حامل ہیں کہ بھارت صورتحال کو جعل سازی کے ساتھ پر تشدد بنانے سے گریز کرتے ہوئے کشمیریوں کو نفسیاتی دباؤ میں رکھنا چاہتا ہے تاکہ جنگ کے خطرہ کا سارا الزام وہ پلوامہ کی طرح پاکستان پر لگا سکے، مودی کی نظریں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس پر مرکوز ہیں۔
بھارتی وزراء اور ان کے حواریوں کا کہنا ہے کہ اس تاریخ سے پہلے مودی محتاط پالیسی اختیار کرنے پر مجبور ہے، اس نے مشرق وسطیٰ اور یورپ میں اپنے مشیروں اور سفارت کاروں کو مصلحتاً بھارت کی طرف سے صورتحال کو تناؤ اور کشمیریوں کی شورش اور بڑے احتجاج سے بچانا ہے۔
علاوہ ازیں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں آزادی اظہار رائے، معلومات تک رسائی اور پرامن احتجاج کے خلاف کریک ڈاؤن ختم کریں۔ ماہرین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد اقدامات سے خطے میں تناؤ بڑھے گا۔ رپورٹس کے مطا بق4اگست کی شام سے جموں و کشمیر میں مواصلاتی بلیک آؤٹ ہے، انٹرنیٹ، موبائل فون اور ٹی وی چینلز کی نشریات بند ہیں۔
انٹرنیٹ اور ٹیلی مواصلات کی بلاجواز بندش ضرورت اور تناسب کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے۔ مواصلاتی بلیک آؤٹ کشمیریوں کو اجتماعی سزا دینے کی ایک صورت ہے۔ وادی میں کرفیو نافذ کر کے بڑی تعداد میں فوج تعینات کر دی گئی ہے تاکہ آزادانہ نقل وحرکت اور پرامن اجتماعات پر پابندیاں لگائی جاسکیں، ہم بھارتی حکام کو یاد دلاتے ہیں کہ یہ پابندیاں غیر متناسب ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سیاسی شخصیات، صحافیوں، انسانی حقوق کے علمبرداروں، مظاہرین اور دیگر افراد کی گرفتاری میں اضافہ ہوا ہے۔
ماہرین نے ان خبروں پر سخت تشویش ظاہر کی کہ سیکیورٹی فورسز گھروں پر رات کے وقت چھاپے مار رہی ہیں جس کے نتیجے میں نوجوانوں کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ انھوں نے کہا ایسی نظربندیاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سبب بن سکتی ہیں۔ ان الزامات کی مکمل تحقیقات حکام کے ذریعہ کرنی چاہیے ، اور اگر اس کی تصدیق ہوجاتی ہے تو ذمے داران کو بھی جوابدہ ہونا چاہیے۔ ماہرین نے گرفتاریوں کے بعد کشمیریوں کو جبری لاپتہ کرنے اور مظاہرین کے خلاف طاقت کے بے دریغ استعمال پر بھی سخت تشویش ظاہر کی ہے۔ یواین ماہرین میں امریکا کے ڈیوڈ کے، فرانس کے مائیکل فارسٹ، برنارڈ ڈوہائم، کلیمنٹ وول، مس ایگنس کالیمرڈ شامل ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے جارحانہ ڈپلومیسی کے تحت مودی پر اپنی کثیر جہتی سفارتی یلغار بھی اس نکتے پر مرکوز رکھی ہے کہ مودی کو اس بات کا موقع نہ دیا جائے کہ وہ مہلت حاصل کرے اور حسب عادت کوئی ایسی مہم جوئی کرلے جس کا عالمی برادری اندازہ بھی نہ لگا سکے۔
تاہم مودی پر چیک رکھنے کا بڑا لیور صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا ہے، جس نے واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو میں دوسری بار ثالثی کی تجویز دہرائی اور عمران اور مودی سے فراداً فرداً کشمیر سمیت دو طرفہ معاملات اور خطے کی ہولناک صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، ٹرمپ نے نیا نکتہ اٹھایا ہے کہ پاکستان ہی وہ ملک ہے جس نے افغانستان میں دہشتگردی کے خلاف کارروائی کی ہے ،بھارت نے کچھ نہیں کیا، ایک اور بیان میں ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت دونوں سے یہ توقع رکھی کہ وہ افغانستان میں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
حالانکہ پاکستان کے فلیش پوائنٹ خطے میں انھوں نے پاکستان کے ذمے دارانہ کردار کا اعتراف تو کرلیا لیکن جو بنیادی ضرورت بھارت کو دفاعی پوزیشن پر لانے کی ہے، کشمیریوں کی حالت زار اور بدترین نسل کشی پر مائل بھارتی حکومت کو خبردار کرنے کی ہے، جس کے لیے صدر ٹرمپ کو سخت الفاظ میں مودی کو تنبیہ کرنا اور کشمیر کی عوام کی تالیف قلوب کرنا چاہیے ۔ اس وقت کشمیری تنگ آمد بہ جنگ آمد کے مرحلہ میں پہنچ گئے ہیں،انھیں ایک دردناک محاصرے کا سامنا ہے جس کا ازالہ میڈیا میں پیدا شدہ اضطراب سے بڑھ کر زمینی صورتحال سے ہونا ہے۔
کشمیریوں کو عالمی برادری کرفیو اور غیر انسانی صورتحال سے نکالنے کے لیے اپنا دباؤ استعمال کرے اور اس کے لیے بھارت کو وادی کی ڈیموگرافک تبدیلیوں اور نئی حلقہ بندیوں سے روکے، تاکہ کشمیر کی صورتحال مودی کی چیرہ دستیوں کی توسیعی پالیسیوں کے نتیجہ میں کسی بڑے المیہ پر منتج نہ ہو۔ اروندھتی رائے نے بڑی نپی تلی بات کہی ہے کہ مودی نے کشمیر میں بارود کے ڈھیر میں جلتی ماچس پھینک دی ہے۔
پاکستان کی سفارتی کوششوں کے مثبت اثرات مرتب ہورہے ہیں مگر اصل ضرب کاری مودی توا اور فاشسٹ مودی کی نازی ذہنیت پر مارنی ہے جس نے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیا ہے۔آنے والا وقت خطے کی ڈائنامکس اور تبدیلیوں کی ایک انقلابی پیش رفت کی نشاندہی کرتا ہے ۔حکمرانوں اوراپوزیشن سیاستدانوں کو اس آزمائش میں ہر قیمت پر سرخرو ہونا ہے۔
ادھر وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارت سے اب مذاکرات نہیں ہونگے، ایٹمی طاقتیںآمنے سامنے ہیں، کچھ بھی ہوسکتا ہے، بھارت جھوٹا آپریشن کرسکتا ہے، وادی میں نسل کشی کا خدشہ ہوا تو جواب دینے پر مجبور ہونگے، لہٰذا ضروری ہے کہ اقوام متحدہ امن فوج مقبوضہ کشمیر بھیجے۔
یاد رہے امریکی این جی او ''جینو سائیڈ واچ'' جو دنیا بھر کے تنازعات والے علاقوں پر گہری نگاہ رکھتی ہے ،اس نے اپنی رپورٹ میں نسل کشی کا الرٹ جاری کرنے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کا ہندوتوا کا نظریہ، کشمیر میں بھارتی جابرانہ فوجی آمریت، علاقے میں مواصلات کے ذرایع کی معطلی، بنیادی انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیاں، تشدد ، خواتین کی آبروریزی اور بلاجواز بے انتہا پکڑ دھکڑ کشمیر یوں کی نسل کشی کی طرف اشارہ ہیں۔
جینوسائیڈ واچ نے الرٹ میں کشمیریوں کی متوقع نسل کشی کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ بھارت کو کشمیریوں کی نسل کشی سے روکیں۔ ''جینو سائیڈ واچ''نے اپنی رپورٹ میں کشمیریوں کی نسل کشی کے سلسلے میں10مراحل کی نشاندہی کی ہے اورکہا ہے کہ بھارتی فوج نے اب تک 70 ہزار کشمیری شہید کیے۔
مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی نظام اور انٹرنیٹ بند ہے، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں، تشدد، جنسی زیادتی، جرم کے بغیر دوسال تک قید کے واقعات عام ہیں، مسلمان حریت رہنماؤں کو گرفتار یا نظر بند کیا گیا ہے، کشمیریوں کے مد مقابل بھارتی فوج ہندو اور سکھوں پر مشتمل ہے، مقبوضہ وادی میں1990تک ہندو پنڈت معاشی طور پر حاوی تھے۔
بی جے پی نے ہندوؤں کو مقبوضہ کشمیر میں دوبارہ مضبوط کیا، وادی میں مسلمانوں کو دہشتگرد، شرپسند، علیحدگی پسند بنا دیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مقبوضہ کشمیر پر جدید اسلحے سے لیس 6 لاکھ فوجی اور پولیس قابض ہے، مودی اور بی جے پی نے مسلم مخالف نفرت کو ہوا دی اور سوشل میڈیا پر جھوٹا پروپیگنڈا کیا، بی جے پی رہنماؤں نے فوجی قبضے کو مسئلہ کشمیر کا حتمی حل قرار دیا، کشمیریوں کو گرفتار، قتل، محصور کر کے تشدد اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ مسلمان اکثریت پر اقلیتی ہندو فوج کی حکمرانی ہے، مقبوضہ وادی میں بڑے پیمانے پر قتل عام شروع ہو سکتا ہے۔
شاید کسی کو اندازہ نہیں کہ نسل کشی یا قتل عام کی اس کارروائی کا حجم کس قدر ہولناک ہوسکتاہے ، عالمی ضمیر خوابیدہ ہے، مبصرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اندازہ غلط بھی ہوسکتا ہے، بعض تجزیہ کار اس انداز نظر کے حامل ہیں کہ بھارت صورتحال کو جعل سازی کے ساتھ پر تشدد بنانے سے گریز کرتے ہوئے کشمیریوں کو نفسیاتی دباؤ میں رکھنا چاہتا ہے تاکہ جنگ کے خطرہ کا سارا الزام وہ پلوامہ کی طرح پاکستان پر لگا سکے، مودی کی نظریں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس پر مرکوز ہیں۔
بھارتی وزراء اور ان کے حواریوں کا کہنا ہے کہ اس تاریخ سے پہلے مودی محتاط پالیسی اختیار کرنے پر مجبور ہے، اس نے مشرق وسطیٰ اور یورپ میں اپنے مشیروں اور سفارت کاروں کو مصلحتاً بھارت کی طرف سے صورتحال کو تناؤ اور کشمیریوں کی شورش اور بڑے احتجاج سے بچانا ہے۔
علاوہ ازیں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں آزادی اظہار رائے، معلومات تک رسائی اور پرامن احتجاج کے خلاف کریک ڈاؤن ختم کریں۔ ماہرین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد اقدامات سے خطے میں تناؤ بڑھے گا۔ رپورٹس کے مطا بق4اگست کی شام سے جموں و کشمیر میں مواصلاتی بلیک آؤٹ ہے، انٹرنیٹ، موبائل فون اور ٹی وی چینلز کی نشریات بند ہیں۔
انٹرنیٹ اور ٹیلی مواصلات کی بلاجواز بندش ضرورت اور تناسب کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے۔ مواصلاتی بلیک آؤٹ کشمیریوں کو اجتماعی سزا دینے کی ایک صورت ہے۔ وادی میں کرفیو نافذ کر کے بڑی تعداد میں فوج تعینات کر دی گئی ہے تاکہ آزادانہ نقل وحرکت اور پرامن اجتماعات پر پابندیاں لگائی جاسکیں، ہم بھارتی حکام کو یاد دلاتے ہیں کہ یہ پابندیاں غیر متناسب ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سیاسی شخصیات، صحافیوں، انسانی حقوق کے علمبرداروں، مظاہرین اور دیگر افراد کی گرفتاری میں اضافہ ہوا ہے۔
ماہرین نے ان خبروں پر سخت تشویش ظاہر کی کہ سیکیورٹی فورسز گھروں پر رات کے وقت چھاپے مار رہی ہیں جس کے نتیجے میں نوجوانوں کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ انھوں نے کہا ایسی نظربندیاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سبب بن سکتی ہیں۔ ان الزامات کی مکمل تحقیقات حکام کے ذریعہ کرنی چاہیے ، اور اگر اس کی تصدیق ہوجاتی ہے تو ذمے داران کو بھی جوابدہ ہونا چاہیے۔ ماہرین نے گرفتاریوں کے بعد کشمیریوں کو جبری لاپتہ کرنے اور مظاہرین کے خلاف طاقت کے بے دریغ استعمال پر بھی سخت تشویش ظاہر کی ہے۔ یواین ماہرین میں امریکا کے ڈیوڈ کے، فرانس کے مائیکل فارسٹ، برنارڈ ڈوہائم، کلیمنٹ وول، مس ایگنس کالیمرڈ شامل ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے جارحانہ ڈپلومیسی کے تحت مودی پر اپنی کثیر جہتی سفارتی یلغار بھی اس نکتے پر مرکوز رکھی ہے کہ مودی کو اس بات کا موقع نہ دیا جائے کہ وہ مہلت حاصل کرے اور حسب عادت کوئی ایسی مہم جوئی کرلے جس کا عالمی برادری اندازہ بھی نہ لگا سکے۔
تاہم مودی پر چیک رکھنے کا بڑا لیور صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا ہے، جس نے واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو میں دوسری بار ثالثی کی تجویز دہرائی اور عمران اور مودی سے فراداً فرداً کشمیر سمیت دو طرفہ معاملات اور خطے کی ہولناک صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، ٹرمپ نے نیا نکتہ اٹھایا ہے کہ پاکستان ہی وہ ملک ہے جس نے افغانستان میں دہشتگردی کے خلاف کارروائی کی ہے ،بھارت نے کچھ نہیں کیا، ایک اور بیان میں ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت دونوں سے یہ توقع رکھی کہ وہ افغانستان میں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
حالانکہ پاکستان کے فلیش پوائنٹ خطے میں انھوں نے پاکستان کے ذمے دارانہ کردار کا اعتراف تو کرلیا لیکن جو بنیادی ضرورت بھارت کو دفاعی پوزیشن پر لانے کی ہے، کشمیریوں کی حالت زار اور بدترین نسل کشی پر مائل بھارتی حکومت کو خبردار کرنے کی ہے، جس کے لیے صدر ٹرمپ کو سخت الفاظ میں مودی کو تنبیہ کرنا اور کشمیر کی عوام کی تالیف قلوب کرنا چاہیے ۔ اس وقت کشمیری تنگ آمد بہ جنگ آمد کے مرحلہ میں پہنچ گئے ہیں،انھیں ایک دردناک محاصرے کا سامنا ہے جس کا ازالہ میڈیا میں پیدا شدہ اضطراب سے بڑھ کر زمینی صورتحال سے ہونا ہے۔
کشمیریوں کو عالمی برادری کرفیو اور غیر انسانی صورتحال سے نکالنے کے لیے اپنا دباؤ استعمال کرے اور اس کے لیے بھارت کو وادی کی ڈیموگرافک تبدیلیوں اور نئی حلقہ بندیوں سے روکے، تاکہ کشمیر کی صورتحال مودی کی چیرہ دستیوں کی توسیعی پالیسیوں کے نتیجہ میں کسی بڑے المیہ پر منتج نہ ہو۔ اروندھتی رائے نے بڑی نپی تلی بات کہی ہے کہ مودی نے کشمیر میں بارود کے ڈھیر میں جلتی ماچس پھینک دی ہے۔
پاکستان کی سفارتی کوششوں کے مثبت اثرات مرتب ہورہے ہیں مگر اصل ضرب کاری مودی توا اور فاشسٹ مودی کی نازی ذہنیت پر مارنی ہے جس نے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیا ہے۔آنے والا وقت خطے کی ڈائنامکس اور تبدیلیوں کی ایک انقلابی پیش رفت کی نشاندہی کرتا ہے ۔حکمرانوں اوراپوزیشن سیاستدانوں کو اس آزمائش میں ہر قیمت پر سرخرو ہونا ہے۔