امن کی ضرورت
پاکستان اور بھارت کے پارلیمنٹرین نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ، میاں نواز شریف نیویارک میں بامقصد...
tauceeph@gmail.com
پاکستان اور بھارت کے پارلیمنٹرین نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ، میاں نواز شریف نیویارک میں بامقصد مذاکرات کریں۔ ایک غیر سرکاری تنظیم کی کوششوں سے دونوں ممالک کے اراکین پارلیمنٹ نے مذاکرات کے بعد متفقہ طور پر یہ مطالبہ کیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کا عمل جاری رہنا چاہیے۔ غیر سرکاری تنظیم PILDAT کے تحت اسلام آباد میں مذاکرات میں سابق بھارتی وزیر مانی شنکر اور دوسرے پارلیمنٹرین کے علاوہ پاکستان سے شرکت کرنے والوں میں سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، سابق وزیر نوید قمر، سید مشاہد حسین، نواز شریف حکومت کے وزیر زاہد حامد، نسرین جلیل، افراسیاب خٹک شامل تھے۔ ان رہنمائوں کے جاری کردہ مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات کے ایجنڈا میں کشمیر کو بھی شامل کیا جائے، اس طرح پانی کے مسئلے پر بھی بات چیت کی جائے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان پانی پر تنازعات کے حل کے لیے بہترین معاہدہ ہے، اس اعلامیے میں اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت کا حجم 2 بلین ڈالر تک پہنچ گیا ہے مگر دونوں ممالک اس ضمن میں اقدامات کریں تو یہ تجارت 10 بلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ تجارتی معاہدے کے لیے بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے کے لیے اہم اقدامات کی ضرورت ہے۔ قانون دانوں نے اس بات کو محسوس کیا ہے کہ واہگہ کے علاوہ مونابائو، کھوکھرا پار روٹ کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ اس طرح دونوں طرف کے رہنمائوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ کراچی اور ممبئی میں قونصل خانے کھولنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
دونوں ممالک کے قانون ساز اداروں کے اراکین کا یہ اعلامیہ انتہائی اہم ہے۔ جب سے پاکستان میں جمہوری حکومتیں برسراقتدار آئی ہیں بھارت سے تعلقات کو معمول پر لانے کی خواہش کو تقویت ملی ہے۔ جب بے نظیر بھٹو 1988 میں برسر اقتدار میں آئیں تو بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی نے اسلام آباد کا دورہ کیا، دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے اقدامات CBM پر اتفاق ہوا۔ جب میاں نواز شریف کی پہلی حکومت برسر اقتدار آئی تو دونوں ممالک کے درمیان تجارت بڑھانے میں پیش رفت ہوئی۔ بے نظیر بھٹو نے اپنے دوسرے دور حکومت میں دونوں ممالک کے عوام کے درمیان رابطوں میں رکاوٹیں نرم کیں تو پاک انڈیا فرینڈ شپ فورم کے کنونشن بھارت اور پاکستان کے مختلف شہروں میں ہوئے، دونوں ممالک کے آزاد ویزا کی پالیسی سے عام آدمی کو فائدہ حاصل ہوا۔ یہ ہی وجہ تھی کہ دونوں ممالک کے سیاسی کارکن، مزدور، کسان رہنمائوں، غیر سرکاری تنظیموں، وکلاء، خواتین، صحافیوں، ڈاکٹروں کو ایک دوسرے کے ملک جانے اور بحث و مباحثے کے مواقعے ملے۔
اس ہی زمانے میں اخبارات اور کتابوں کی تجارت پر پابندیاں ختم کرنے پر اتفاق ہوا۔ میاں نواز شریف نے وزیراعظم واجپائی کو دوستی بس کے ذریعے لاہور مدعو کیا، وزیراعظم واجپائی نے یادگار پاکستان پر حاضری دی مگر جنرل پرویز مشرف نے کارگل میں محاذ آرائی کرکے سب کچھ پیچھے دھکیل دیا۔ جنرل مشرف نے اقتدار میں آنے کے بعد کارگل ڈاکٹرین کو خدا حافظ کیا، بھارت سے دوستی کے لیے سفر کا آغاز کرنے کی کوشش کی۔ انھوں نے پہلی دفعہ کشمیرکے مسئلے کے روایتی حل سے ہٹ کر کئی اور حل پیش کیے، پاکستان کی 60 سالہ تاریخ میں یہ بڑی تبدیلی تھی مگر بھارتی قیادت اس صورتحال کا ادراک نہیں کرسکی۔ دونوں ممالک کے انتہاپسندوں کے رویے کی بنا پر آگرہ کانفرنس ناکام ہوئی۔ صدر پرویز مشرف عسکری اسٹبلشمنٹ کے دبائو پر سرحدی دہشت گردوں کوختم کرنے پر متفق نہیں ہوئے مگر بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے بعد کشمیر میں جاری جہادی تنظیموں کی سرگرمیوں پر پابندی عائد ہوگئی۔
پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما آصف علی زرداری نے صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلی پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے سرحدی علاقوں میں صنعتی زون قائم کیے جائیں گے۔ سرحدی علاقوں میں صنعتی زون کے قیام کا مطلب دونوں ممالک کی سرحدیں ہر قسم کی دہشت گردوں سے محفوظ ہوجاتیں۔ بعد ازاں ممبئی میں دہشت گردی کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات جنگ کی سطح تک پہنچ گئے ، یہ انتہائی افسوسناک صورتحال تھی، بھارتی حکومت میڈیا کے پیدا کردہ جنون کا شکار ہوئی، آئی ٹی ماہرین کے شور مچانے پر جنگ کا ماحول ختم ہوا مگر دونوں ممالک کے درمیان ویزے کی پالیسی انتہائی سخت ہوگئی، اب پاکستانی شہری کو بھارت کا ویزاحاصل کرنا امریکا کے ویزے کی طرح مشکل ہوگیا۔
بھارتی حکومت نے ممبئی دہشت گردوں کے واقعے کے بعد دوطرفہ مذاکرات کا عمل معطل کردیا، شہریوں کی مشکلات بڑھنے کے ساتھ دونوں طرف کی انتہاپسند قوتوں کو تقویت ملی۔ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور ڈاکٹر من موہن سنگھ کے درمیان شرم الشیخ میں مذاکرات کے بعد تعلقات معمول پرآنا شروع ہوئے مگر دونوں ممالک کے درمیان شہریوں کے سفر پر نئی پابندیاں عائد ہوگئیں۔ اب پاکستانی شہری کو بھارت میں اپنے عزیز کے سرٹیفیکٹ کے ساتھ بھارتی عزیز کو اپنے یوٹیلٹی بل اور ویزہ فارم پر ایس ایچ او، اسکول کے ہیڈ ماسٹر، کالج کے پرنسپل اور اس سے بڑے عہدے کے افسر کا تصدیق نامہ پیش کرنا ضروری ہوگیا۔ اساتذہ، صحافیوں، وکلا، صنعتکاروں، خواتین اور غیر سرکاری تنظیموں کے اراکین کے لیے پولیس رپورٹنگ لازمی قرار دے دی گئی۔
بہت سے لوگ اپنے قریبی رشتے داروں سے مل نہیں سکے، ریل گاڑی اور بسوں میں مسافر ناپید ہوگئے، اس کشیدگی کی بنا پر بھارتی فضائی کمپنی کی کراچی، لاہور، اسلام آباد کی پروازیں منسوخ ہوئیں۔ صرف پی آئی اے کو کراچی، ممبئی کراچی سے دہلی پروازوں کی اجازت دی گئی۔ یوں محسوس ہونے لگا کہ دونوں ممالک کی اسٹبلشمنٹ اپنے مقاصد حاصل کررہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان لبرل ویزا پالیسی کا معاہدا ہوا، اس معاہدے کے تحت 5 شہروں کے ویزے کے ساتھ طلبا اورسیاحت کے لیے بھی گروپ ویزے دینے کا فیصلہ ہوا۔ اس طرف 65 سال سے زیادہ عمر کے افراد کو سرحدوں پر ویزا جاری کرنے پر اتفاق ہوا، دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والے اس معاہدے کی کچھ دنوں بعد وفاقی کابینہ نے توثیق کردی مگر اس معاہدے پر عمل درآمد نہیں ہوا۔
وزیراعظم نواز شریف نے انتخابی مہم کے دوران بھارتی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ اعلان کیا تھا کہ بھارت سے بجلی درآمدکی جائے گی اور تعلقات کا عمل جو 1999 میں سابق وزیراعظم واجپائی کے دورہ لاہور کے وقت تھا، اب وہاں سے یہ سلسلہ شروع ہوگا۔ یہ ایک خوشگوار اعلان تھا مگر پھر کشمیر کی کنٹرول لائن پر فائرنگ شروع ہوگئی، برسوں بعد پاکستان اور بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کی خبریں میڈیا کی نشریات کا حصہ بن گئیں۔ اگرچہ میاں نواز شریف نے گزشتہ 3 ماہ کے دوران بصیرت کا ثبوت دیا مگر پاکستان کے دوسرے حلقوں اور اہلکاروں نے خوب آگ برسائی، پھر یہ آگ دوسری طرف سے بھی برسائی گئی۔ بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید نے یہ موقف اختیار کیا کہ حالات بہتر کیے بغیر نواز شریف اور ڈاکٹر من موہن سنگھ مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں اگلے سال انتخابات کی بنا پر انتہا پسندانہ موقف اختیار کیا جارہا ہے۔ ان حالات میں دونوں ممالک کے منتخب اراکین نے انتہائی باریک بینی سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کا جائزہ لیا۔ ان کا یہ مطالبہ درست ہے کہ ممبئی اورکراچی میںقونصل خانوں کے قیام کے لیے پیش رفت ہونی چاہیے اور مذاکرات کا عمل جاری رہنا چاہیے۔ بھارت کے ان رہنمائوں کے اس بیان سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہاں پر تمام لوگ محض انتخابات کے ڈر سے جذباتی باتیں نہیں کررہے ہیں اور اراکین پارلیمنٹ فوری طور پر حالات بہتر کرنا چاہتے ہیں۔ دونوں حکومتوں کو ان تجاویز پر توجہ دینی چاہیے، امن سب کی ضرورت ہے، کروڑوں لوگوں کو امن کے لیے ان اقدامات کی حمایت کرنی چاہیے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان پانی پر تنازعات کے حل کے لیے بہترین معاہدہ ہے، اس اعلامیے میں اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت کا حجم 2 بلین ڈالر تک پہنچ گیا ہے مگر دونوں ممالک اس ضمن میں اقدامات کریں تو یہ تجارت 10 بلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ تجارتی معاہدے کے لیے بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے کے لیے اہم اقدامات کی ضرورت ہے۔ قانون دانوں نے اس بات کو محسوس کیا ہے کہ واہگہ کے علاوہ مونابائو، کھوکھرا پار روٹ کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ اس طرح دونوں طرف کے رہنمائوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ کراچی اور ممبئی میں قونصل خانے کھولنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
دونوں ممالک کے قانون ساز اداروں کے اراکین کا یہ اعلامیہ انتہائی اہم ہے۔ جب سے پاکستان میں جمہوری حکومتیں برسراقتدار آئی ہیں بھارت سے تعلقات کو معمول پر لانے کی خواہش کو تقویت ملی ہے۔ جب بے نظیر بھٹو 1988 میں برسر اقتدار میں آئیں تو بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی نے اسلام آباد کا دورہ کیا، دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے اقدامات CBM پر اتفاق ہوا۔ جب میاں نواز شریف کی پہلی حکومت برسر اقتدار آئی تو دونوں ممالک کے درمیان تجارت بڑھانے میں پیش رفت ہوئی۔ بے نظیر بھٹو نے اپنے دوسرے دور حکومت میں دونوں ممالک کے عوام کے درمیان رابطوں میں رکاوٹیں نرم کیں تو پاک انڈیا فرینڈ شپ فورم کے کنونشن بھارت اور پاکستان کے مختلف شہروں میں ہوئے، دونوں ممالک کے آزاد ویزا کی پالیسی سے عام آدمی کو فائدہ حاصل ہوا۔ یہ ہی وجہ تھی کہ دونوں ممالک کے سیاسی کارکن، مزدور، کسان رہنمائوں، غیر سرکاری تنظیموں، وکلاء، خواتین، صحافیوں، ڈاکٹروں کو ایک دوسرے کے ملک جانے اور بحث و مباحثے کے مواقعے ملے۔
اس ہی زمانے میں اخبارات اور کتابوں کی تجارت پر پابندیاں ختم کرنے پر اتفاق ہوا۔ میاں نواز شریف نے وزیراعظم واجپائی کو دوستی بس کے ذریعے لاہور مدعو کیا، وزیراعظم واجپائی نے یادگار پاکستان پر حاضری دی مگر جنرل پرویز مشرف نے کارگل میں محاذ آرائی کرکے سب کچھ پیچھے دھکیل دیا۔ جنرل مشرف نے اقتدار میں آنے کے بعد کارگل ڈاکٹرین کو خدا حافظ کیا، بھارت سے دوستی کے لیے سفر کا آغاز کرنے کی کوشش کی۔ انھوں نے پہلی دفعہ کشمیرکے مسئلے کے روایتی حل سے ہٹ کر کئی اور حل پیش کیے، پاکستان کی 60 سالہ تاریخ میں یہ بڑی تبدیلی تھی مگر بھارتی قیادت اس صورتحال کا ادراک نہیں کرسکی۔ دونوں ممالک کے انتہاپسندوں کے رویے کی بنا پر آگرہ کانفرنس ناکام ہوئی۔ صدر پرویز مشرف عسکری اسٹبلشمنٹ کے دبائو پر سرحدی دہشت گردوں کوختم کرنے پر متفق نہیں ہوئے مگر بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے بعد کشمیر میں جاری جہادی تنظیموں کی سرگرمیوں پر پابندی عائد ہوگئی۔
پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما آصف علی زرداری نے صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلی پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے سرحدی علاقوں میں صنعتی زون قائم کیے جائیں گے۔ سرحدی علاقوں میں صنعتی زون کے قیام کا مطلب دونوں ممالک کی سرحدیں ہر قسم کی دہشت گردوں سے محفوظ ہوجاتیں۔ بعد ازاں ممبئی میں دہشت گردی کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات جنگ کی سطح تک پہنچ گئے ، یہ انتہائی افسوسناک صورتحال تھی، بھارتی حکومت میڈیا کے پیدا کردہ جنون کا شکار ہوئی، آئی ٹی ماہرین کے شور مچانے پر جنگ کا ماحول ختم ہوا مگر دونوں ممالک کے درمیان ویزے کی پالیسی انتہائی سخت ہوگئی، اب پاکستانی شہری کو بھارت کا ویزاحاصل کرنا امریکا کے ویزے کی طرح مشکل ہوگیا۔
بھارتی حکومت نے ممبئی دہشت گردوں کے واقعے کے بعد دوطرفہ مذاکرات کا عمل معطل کردیا، شہریوں کی مشکلات بڑھنے کے ساتھ دونوں طرف کی انتہاپسند قوتوں کو تقویت ملی۔ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور ڈاکٹر من موہن سنگھ کے درمیان شرم الشیخ میں مذاکرات کے بعد تعلقات معمول پرآنا شروع ہوئے مگر دونوں ممالک کے درمیان شہریوں کے سفر پر نئی پابندیاں عائد ہوگئیں۔ اب پاکستانی شہری کو بھارت میں اپنے عزیز کے سرٹیفیکٹ کے ساتھ بھارتی عزیز کو اپنے یوٹیلٹی بل اور ویزہ فارم پر ایس ایچ او، اسکول کے ہیڈ ماسٹر، کالج کے پرنسپل اور اس سے بڑے عہدے کے افسر کا تصدیق نامہ پیش کرنا ضروری ہوگیا۔ اساتذہ، صحافیوں، وکلا، صنعتکاروں، خواتین اور غیر سرکاری تنظیموں کے اراکین کے لیے پولیس رپورٹنگ لازمی قرار دے دی گئی۔
بہت سے لوگ اپنے قریبی رشتے داروں سے مل نہیں سکے، ریل گاڑی اور بسوں میں مسافر ناپید ہوگئے، اس کشیدگی کی بنا پر بھارتی فضائی کمپنی کی کراچی، لاہور، اسلام آباد کی پروازیں منسوخ ہوئیں۔ صرف پی آئی اے کو کراچی، ممبئی کراچی سے دہلی پروازوں کی اجازت دی گئی۔ یوں محسوس ہونے لگا کہ دونوں ممالک کی اسٹبلشمنٹ اپنے مقاصد حاصل کررہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان لبرل ویزا پالیسی کا معاہدا ہوا، اس معاہدے کے تحت 5 شہروں کے ویزے کے ساتھ طلبا اورسیاحت کے لیے بھی گروپ ویزے دینے کا فیصلہ ہوا۔ اس طرف 65 سال سے زیادہ عمر کے افراد کو سرحدوں پر ویزا جاری کرنے پر اتفاق ہوا، دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والے اس معاہدے کی کچھ دنوں بعد وفاقی کابینہ نے توثیق کردی مگر اس معاہدے پر عمل درآمد نہیں ہوا۔
وزیراعظم نواز شریف نے انتخابی مہم کے دوران بھارتی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ اعلان کیا تھا کہ بھارت سے بجلی درآمدکی جائے گی اور تعلقات کا عمل جو 1999 میں سابق وزیراعظم واجپائی کے دورہ لاہور کے وقت تھا، اب وہاں سے یہ سلسلہ شروع ہوگا۔ یہ ایک خوشگوار اعلان تھا مگر پھر کشمیر کی کنٹرول لائن پر فائرنگ شروع ہوگئی، برسوں بعد پاکستان اور بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کی خبریں میڈیا کی نشریات کا حصہ بن گئیں۔ اگرچہ میاں نواز شریف نے گزشتہ 3 ماہ کے دوران بصیرت کا ثبوت دیا مگر پاکستان کے دوسرے حلقوں اور اہلکاروں نے خوب آگ برسائی، پھر یہ آگ دوسری طرف سے بھی برسائی گئی۔ بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید نے یہ موقف اختیار کیا کہ حالات بہتر کیے بغیر نواز شریف اور ڈاکٹر من موہن سنگھ مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں اگلے سال انتخابات کی بنا پر انتہا پسندانہ موقف اختیار کیا جارہا ہے۔ ان حالات میں دونوں ممالک کے منتخب اراکین نے انتہائی باریک بینی سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کا جائزہ لیا۔ ان کا یہ مطالبہ درست ہے کہ ممبئی اورکراچی میںقونصل خانوں کے قیام کے لیے پیش رفت ہونی چاہیے اور مذاکرات کا عمل جاری رہنا چاہیے۔ بھارت کے ان رہنمائوں کے اس بیان سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہاں پر تمام لوگ محض انتخابات کے ڈر سے جذباتی باتیں نہیں کررہے ہیں اور اراکین پارلیمنٹ فوری طور پر حالات بہتر کرنا چاہتے ہیں۔ دونوں حکومتوں کو ان تجاویز پر توجہ دینی چاہیے، امن سب کی ضرورت ہے، کروڑوں لوگوں کو امن کے لیے ان اقدامات کی حمایت کرنی چاہیے۔