کلفٹن اور ڈیفنس میں شراب کھلے عام ملتی ہے خرم شیر زمان
50 فیصد سے زائد ریسٹورنٹس پر شراب دستیاب ہوتی ہے، کیا ایکسائز ڈیوٹی وصول کی جاتی ہے؟
سندھ اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران تحریک انصاف کے رکن خرم شیرزمان کا ضمنی سوال .فوٹو: فائل
کراچی کے علاقوں کلفٹن اورڈیفنس میں50فیصدسے زائدریسٹورنٹس پرشراب کھلے عام فراہم کی جاتی ہے۔
اس بات کاانکشاف منگل کوسندھ اسمبلی کے اجلاس میں محکمہ ایکسائزاینڈٹیکسیشن سے متعلق وقفہ سوالات کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے رکن خرم شیرزمان نے ضمنی سوال پرکیا۔انھوں نے کہا کہ ان ریسٹورنٹس کے خلاف کارروائی کی جائے کیونکہ لوگ وہاں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ جاتے ہیں۔ انھوں نے سوال کیاکہ ان ریسٹورنٹس سے ایکسائزڈیوٹی وصول کی جاتی ہے یا نہیں ؟وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن مکیش کمارچاؤلہ نے کہاکہ ایکسائزڈیوٹی صرف شراب کی فروخت پر وصول کی جاتی ہے ،یہ طے کرنا چاہیے کہ ان ریسٹورنٹس میں شراب فروخت کی جاتی ہے اور ریسٹورنٹس باہرسے خرید کرشراب سے تواضع کرتے ہیں یالوگ خود شراب لے کر آتے ہیں ،حکومت نے صرف فائیواسٹار ہوٹلز کو غیر ملکیوں کو شراب فروخت کرنے کالائسنس دیا ہواہے،ان ریسٹورنٹس کو شراب فروخت کرنے کی اجازت نہیں ۔
متحدہ قومی موومنٹ کے رکن خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ معزز رکن خرم شیر زمان نے پہلے اس مسئلے کی نشاندہی کی تھی کہ کلفٹن اور ڈیفنس کے علاقوں پر سڑکوں پر عصمت فروشی کرنے والے لوگ کھڑے ہوتے ہیں،اب انھوں نے ریسٹورنٹس میں شراب کے استعمال کی نشاندہی کی ہے،یہ بہت اہم ایشوز ہیں،حکومت کو اس کا سنجیدگی سے نوٹس لیناچاہیے اوران معاملات پر اسمبلی میں تحریک التوالاکر بحث کی جائے۔مکیش کمار چاؤلہ نے کہا کہ یہ اچھی تجویزہے تاکہ دنیا کو معلوم ہوکہ ڈیفنس اور کلفٹن میں کیا ہورہاہے۔قبل ازیں وزیرایکسائز اینڈٹیکسیشن نے کہا کہ گورنر سندھ کے زبانی حکم پر سینماگھروں کو تفریحی ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیاہے ۔
اس بات کاانکشاف منگل کوسندھ اسمبلی کے اجلاس میں محکمہ ایکسائزاینڈٹیکسیشن سے متعلق وقفہ سوالات کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے رکن خرم شیرزمان نے ضمنی سوال پرکیا۔انھوں نے کہا کہ ان ریسٹورنٹس کے خلاف کارروائی کی جائے کیونکہ لوگ وہاں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ جاتے ہیں۔ انھوں نے سوال کیاکہ ان ریسٹورنٹس سے ایکسائزڈیوٹی وصول کی جاتی ہے یا نہیں ؟وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن مکیش کمارچاؤلہ نے کہاکہ ایکسائزڈیوٹی صرف شراب کی فروخت پر وصول کی جاتی ہے ،یہ طے کرنا چاہیے کہ ان ریسٹورنٹس میں شراب فروخت کی جاتی ہے اور ریسٹورنٹس باہرسے خرید کرشراب سے تواضع کرتے ہیں یالوگ خود شراب لے کر آتے ہیں ،حکومت نے صرف فائیواسٹار ہوٹلز کو غیر ملکیوں کو شراب فروخت کرنے کالائسنس دیا ہواہے،ان ریسٹورنٹس کو شراب فروخت کرنے کی اجازت نہیں ۔
متحدہ قومی موومنٹ کے رکن خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ معزز رکن خرم شیر زمان نے پہلے اس مسئلے کی نشاندہی کی تھی کہ کلفٹن اور ڈیفنس کے علاقوں پر سڑکوں پر عصمت فروشی کرنے والے لوگ کھڑے ہوتے ہیں،اب انھوں نے ریسٹورنٹس میں شراب کے استعمال کی نشاندہی کی ہے،یہ بہت اہم ایشوز ہیں،حکومت کو اس کا سنجیدگی سے نوٹس لیناچاہیے اوران معاملات پر اسمبلی میں تحریک التوالاکر بحث کی جائے۔مکیش کمار چاؤلہ نے کہا کہ یہ اچھی تجویزہے تاکہ دنیا کو معلوم ہوکہ ڈیفنس اور کلفٹن میں کیا ہورہاہے۔قبل ازیں وزیرایکسائز اینڈٹیکسیشن نے کہا کہ گورنر سندھ کے زبانی حکم پر سینماگھروں کو تفریحی ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیاہے ۔