سپریم کورٹ کا سستے نائٹ کال پیکجز سے متعلق دائر درخواست پر اٹارنی جنرل اور پی ٹی اے کو نوٹس
جب تک ٹیلی فون كا غلط استعمال نہ ہو كسی كو رات كو ایک دوسرے سے بات كرنے سے كیسے روكا جاسكتا ہے، جسٹس تصدق حسین جیلانی
پی ٹی اے اس وقت غیر فعال ہے اور وہ كس طرح اس طرح كے معاملات پر پابندی لگا سكتا ہے، جسٹس تصدق حسین جیلانی فوٹو: فائل
سپریم كورٹ نے موبائل فون كمپنیوں كی سستے نائٹ كال پیكجز كے حوالے سے اسلام آباد ہائی كورٹ كے فیصلے كے خلاف دائر درخواست پر اٹارنی جنرل اور پی ٹی اے كو نوٹس جاری كردیئے ہیں۔
موبائل فون کمپنیوں کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کی، دوران سماعت جسٹس تصدق نے ریمارکس دیئے کہ پی ٹی اے اس وقت غیر فعال ہے، وہ كس طرح اس طرح كے معاملات پر پابندی لگا سكتا ہے، جب تک ٹیلی فون كا غلط استعمال نہ ہو كسی كو رات كو ایک دوسرے سے بات كرنے سے كیسے روكا جاسكتا ہے۔ اس موقع پر پی ٹی اے كے وكیل نے مؤقف اختیار كیا كہ پی ٹی اے كے ہیومن رائٹس سیل كو مسلسل شكایات موصول ہورہی تھیں كہ رات گئے سستے کال پیكجز سے نوجوان نسل بے راہ روی كا شكار ہوسكتی ہے جس پر كارروائی كی گئی۔
پی ٹی کے وکیل کے مؤقف پر عدالت نے كہا كہ جب چیئرمین پی ٹی اے اور ممبران ہی موجود نہیں ہیں تو پھر اس طرح كے اقدامات كس طرح كئے جاسكتے ہیں، ویسے بھی اسلام آباد ہائی كورٹ نے تو چیئرمین پی ٹی اے كو كوئی نوٹس جاری ہی نہیں كیا اور فیصلہ كردیا۔ پی ٹی اے كے وكیل نے عدالت کو بتایا كہ چیئرمین اور ممبران كا تقرر اگلے ایک ہفتے میں كردیا جائے گا اس لئے ایک ہفتے كی مہلت دی جائے۔
دوران سماعت موبائل فون كمپنیوں كی جانب سے عدالت سے استدعا كی گئی كہ اسلام آباد ہائی كورٹ كے فیصلے كے خلاف حكم امتناعی جاری كیا جائے، اس پر عدالت نے كہا كہ اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ اٹارنی جنرل پاکستان کا مؤقف سننے کے بعد کیا جائے گا، عدالت نے درخواست کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی كرتے ہوئے اٹارنی جنرل پاكستان اور پی ٹی اے كو نوٹس جاری كردیئے۔
موبائل فون کمپنیوں کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کی، دوران سماعت جسٹس تصدق نے ریمارکس دیئے کہ پی ٹی اے اس وقت غیر فعال ہے، وہ كس طرح اس طرح كے معاملات پر پابندی لگا سكتا ہے، جب تک ٹیلی فون كا غلط استعمال نہ ہو كسی كو رات كو ایک دوسرے سے بات كرنے سے كیسے روكا جاسكتا ہے۔ اس موقع پر پی ٹی اے كے وكیل نے مؤقف اختیار كیا كہ پی ٹی اے كے ہیومن رائٹس سیل كو مسلسل شكایات موصول ہورہی تھیں كہ رات گئے سستے کال پیكجز سے نوجوان نسل بے راہ روی كا شكار ہوسكتی ہے جس پر كارروائی كی گئی۔
پی ٹی کے وکیل کے مؤقف پر عدالت نے كہا كہ جب چیئرمین پی ٹی اے اور ممبران ہی موجود نہیں ہیں تو پھر اس طرح كے اقدامات كس طرح كئے جاسكتے ہیں، ویسے بھی اسلام آباد ہائی كورٹ نے تو چیئرمین پی ٹی اے كو كوئی نوٹس جاری ہی نہیں كیا اور فیصلہ كردیا۔ پی ٹی اے كے وكیل نے عدالت کو بتایا كہ چیئرمین اور ممبران كا تقرر اگلے ایک ہفتے میں كردیا جائے گا اس لئے ایک ہفتے كی مہلت دی جائے۔
دوران سماعت موبائل فون كمپنیوں كی جانب سے عدالت سے استدعا كی گئی كہ اسلام آباد ہائی كورٹ كے فیصلے كے خلاف حكم امتناعی جاری كیا جائے، اس پر عدالت نے كہا كہ اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ اٹارنی جنرل پاکستان کا مؤقف سننے کے بعد کیا جائے گا، عدالت نے درخواست کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی كرتے ہوئے اٹارنی جنرل پاكستان اور پی ٹی اے كو نوٹس جاری كردیئے۔