بلوچستان زلزلہ متاثرین امداد کے مستحق
بربادی و تباہ کاری کے وسیع تر سیاسی و سماجی تناظر میں بلوچستان خود زلزلے کا ایک اہم مرکز بنا ہوا ہے.
بلوچستان کے عوام اور سیاسی مسائل میں گھری صوبائی انتظامیہ کی بر وقت مدد کا یہی وقت ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
SHIKARPUR:
منگل کی شام 4 بج کر 32 منٹ پر بلوچستان میں زلزلے نے تباہی مچا دی، سیکڑوں مکانات گرنے سے285 افراد جاں بحق اور 300 سے زائد زخمی ہو گئے، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک نے بی بی سی کو بتایا کہ آواران کے علاقے میں بہت تباہی ہوئی ہے جس میں اسکول اور لیویز کا مقامی ہیڈ کوارٹرز بھی منہدم ہو گیا ہے۔ مکانات کے ملبے تلے دبے ہوئے لوگوں کو نکالنے کا کام جاری ہے ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج نے بلوچستان کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن کے لیے خضدار میں بیس کیمپ قائم کر دیا ہے، زلزلے کے جھٹکے کراچی، حیدر آباد، لاڑکانہ، دادو، مستونگ، پڈعیدن، ہنگورجہ، نواب شاہ، ٹھٹھہ، خیرپور، دولت پور، نوکنڈی، تفتان، سبی، پنجگور، نوشکی، ڈیرہ مراد جمالی، آواران، گوادر، قلات، اور کوئٹہ سمیت مختلف علاقوں میں محسوس کیے گئے جس سے خوف و ہراس پھیل گیا، لوگ گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔
پاکستان کے علاوہ بھارت کے شمالی علاقوں، متحدہ عرب امارات، ایران، افغانستان اور مسقط میں بھی زلزلے کے جھٹکے چھ سے دس سیکنڈ تک محسوس کیے گئے۔ زلزلے کی شدت اس قدر تھی کہ گوادر پورٹ کے نزدیک سمندر میں ایک جزیرہ ابھر آیا۔ اس تعجب خیز منظر کو دیکھنے کے لیے شہری جوق در جوق ساحل پر جمع ہوئے۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق جزیرہ20 سے40 فٹ اونچا اور100 فٹ چوڑا ہے، ابھی اس کے ظہور کے بارے میں آرکیالوجیکل رپورٹ کا آنا باقی ہے تاہم طبقات الارض کے ماہرین کے مطابق بلوچستان کا زلزلہ جنوب مشرقی پاکستان کے مکران ٹرنچ سب ڈکشن کے بالائی اور یوریشیا پلیٹ کے داخلی حصوں میں مسلسل دراڑ کا نتیجہ ہے اور عریبئن پلیٹ اور یوریشیا زون کے درمیان تباہی کا باعث بنا ہے۔
بربادی و تباہ کاری کے وسیع تر سیاسی و سماجی تناظر میں بلوچستان خود زلزلے کا ایک اہم مرکز بنا ہوا ہے جہاں شورش، مزاحمت، دہشت گردی، فرقہ وارانہ ہلاکتوں اور سیاسی مجبوریوں کا غم کدہ سجا ہوا ہے، یہ خطہ تو سیاسی، عسکریت پسندی، دہشت گردی اور بھوک و پسماندگی کے کثیر جہتی زلزلوں کی پہلے سے ہی زد میں تھا اب قدرتی آفت کا اسے سامنا ہے، جب کہ زلزلے سے ہونے والی تباہی اور اس کے مضمرات چشم کشا اور فطرت اور انسانی سماج کے درمیان کشمکش اور تسخیر و لاچاری کی عجیب درد ناک داستان کا ایک تسلسل ہیں۔ قدرتی آفات کے سامنے انسانی بساط ہی کیا ہے۔ دنیا کے انتہائی ترقی یافتہ ملکوں میں جب سیلاب سونامی کی شکل اختیار کرتے ہیں، سمندری طوفان، زلزلے اور جنگلوں میں آتشزدگی کے ہولناک واقعات ہوتے ہیں تو زیادہ سے زیادہ یہی کچھ ہوتا ہے کہ ریاستی مشینری، فوج ریسکیو ٹیموں اور عوامی تعاون و اشتراک کے ذریعہ امدادی کاموں کو تیزی سے نمٹایا جاتا ہے تا کہ ہلاکتیں کم ہوں اور تباہی کی شدت کو روکا جا سکے۔
بلوچستان کے عوام اور سیاسی مسائل میں گھری صوبائی انتظامیہ کی بر وقت مدد کا یہی وقت ہے۔ عالمی برادری بھی پاکستان کی امداد کے لیے آگے بڑھے تا کہ مصائب میں گرفتار لوگوں کی اشک شوئی سے زیادہ ٹھوس طریقہ سے مدد کی جا سکے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 7.8 ریکارڈ کی گئی ہے جب کہ اس کا مرکز خضدار سے 120 کلومیٹر دور اور گہرائی 23 کلومیٹر زیر زمین تھی۔ دوسری جانب محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ زلزلے کی شدت 7.7 اور مرکز بلوچستان کا علاقہ خضدار ہے جب کہ اس کی گہرائی 10 کلومیٹر تھی۔ زلزلے کے بعد وقفے وقفے سے آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری رہا۔ مواصلاتی نظام درہم برہم ہو گیا۔ ماشکیل، تربت اور خضدار میں بھی مکانات گرنے سے لوگ ملبے تلے دب گئے جس کے بعد فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں، پاک فوج کے دستے اور امدادی ٹیمیں بھی متاثرہ علاقوں میں پہنچ گئی ہیں۔ ایف سی کے ترجمان نے ابتدا میں 80 ہلاکتوں کی تصدیق کی ۔
ایرا کے سربراہ بریگیڈیئر واجد نے بتایا کہ امدادی ٹیموں نے دس لاشیں ملبے سے نکال لیں، ایک مدرسے سے20 طلبا کی لاشیں نکالی گئیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ متاثرہ علاقوں میں سول انتظامیہ، لیویز اور ایف سی رابطہ میں ہیں، ایف سی کی امدادی ٹیمیں آواران بازار، بیدی، لاباچ، پیران دار، ترتیج اور جاہو کے علاقوں کو روانہ کر دی گئی ہیں۔ آواران میں تین لاکھ کی آبادی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ گوادر میں بھی ایک مکان کے ملبے سے دو افراد کی لاشیں نکالی گئیں، تیرج کے علاقے میں ایک اسکول کی عمارت گرنے سے تین خواتین اور ایک بچہ جاں بحق ہو گئے۔ تربت میں بھی تین افراد جاں بحق ہوئے۔ متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کر کے صوبہ بھر سے امدادی ٹیمیں طلب کر لی گئی ہیں، اسپتالوں میں بھی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ بلوچستان اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ زلزلے سے بلوچستان کے شہروں اور دیہات میں بے شمار گھر تباہ ہوئے ہیں جب کہ تیرج میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ آبادی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
آواران میں 40 فیصد مکانات تباہ ہو گئے ہیں جب کہ 285 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ لیویز ذرایع کے مطابق 250 سے زائد زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا۔ دالبندین میں زیادہ نقصان نہیں ہوا۔ ترجمان حکومت بلوچستان کے مطابق فوری طور پر ایک ہزار خیمے اور دیگر ضروری اشیا متاثرہ علاقوں میں بھیج دی گئی ہیں۔ جماعۃالدعوۃ اور فلاح انسانیت فائونڈیشن نے بھی بلوچستان کے زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔محکمہ موسمیات کے مطابق حالیہ زلزلہ بلوچستان میں گزشتہ سات سال کے دوران آنے والا شدید ترین زلزلہ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بلوچستان کے صرف ایک گائوں سے چالیس لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ وزیر اعظم نے وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ کو زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں پہنچنے کی ہدایت کر دی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج نے بلوچستان کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن کے لیے خضدار میں بیس کیمپ قائم کر دیا ہے، پاک فوج کے 300 جوان متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔ صدر ممنون حسین اور وزیر اعظم نواز شریف نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں زلزلے سے جانی و مالی نقصان پر گہرے رنج کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے گہری ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعظم نے مقامی انتظامیہ کو متاثرین کو ہر ممکن امداد فراہم کرنے اور چیئرمین این ڈی ایم اے کو صورتحال سے باخبر رہنے کی ہدایت کی ہے۔ کراچی سمیت دیگر شہروں میں زلزلے کے جھٹکے ویک اپ الارم ہیں، خدا کا شکر ہے کہ بڑے شہر زلزلے سے محفوظ ہیں، ورنہ کتنی ''کاغذی عمارتیں'' ہیں جو ذرا سے جھٹکے کی متحمل بھی نہیں ہو سکتیں، اس طرف بھی ارباب اختیار اور تعمیراتی ماہرین توجہ دیں۔ زندہ قومیں آفات سے نمٹنے کی تدابیر کرتی رہتی ہیں، ہمیں ہمت سے کام لینا چاہیے۔
منگل کی شام 4 بج کر 32 منٹ پر بلوچستان میں زلزلے نے تباہی مچا دی، سیکڑوں مکانات گرنے سے285 افراد جاں بحق اور 300 سے زائد زخمی ہو گئے، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک نے بی بی سی کو بتایا کہ آواران کے علاقے میں بہت تباہی ہوئی ہے جس میں اسکول اور لیویز کا مقامی ہیڈ کوارٹرز بھی منہدم ہو گیا ہے۔ مکانات کے ملبے تلے دبے ہوئے لوگوں کو نکالنے کا کام جاری ہے ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج نے بلوچستان کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن کے لیے خضدار میں بیس کیمپ قائم کر دیا ہے، زلزلے کے جھٹکے کراچی، حیدر آباد، لاڑکانہ، دادو، مستونگ، پڈعیدن، ہنگورجہ، نواب شاہ، ٹھٹھہ، خیرپور، دولت پور، نوکنڈی، تفتان، سبی، پنجگور، نوشکی، ڈیرہ مراد جمالی، آواران، گوادر، قلات، اور کوئٹہ سمیت مختلف علاقوں میں محسوس کیے گئے جس سے خوف و ہراس پھیل گیا، لوگ گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔
پاکستان کے علاوہ بھارت کے شمالی علاقوں، متحدہ عرب امارات، ایران، افغانستان اور مسقط میں بھی زلزلے کے جھٹکے چھ سے دس سیکنڈ تک محسوس کیے گئے۔ زلزلے کی شدت اس قدر تھی کہ گوادر پورٹ کے نزدیک سمندر میں ایک جزیرہ ابھر آیا۔ اس تعجب خیز منظر کو دیکھنے کے لیے شہری جوق در جوق ساحل پر جمع ہوئے۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق جزیرہ20 سے40 فٹ اونچا اور100 فٹ چوڑا ہے، ابھی اس کے ظہور کے بارے میں آرکیالوجیکل رپورٹ کا آنا باقی ہے تاہم طبقات الارض کے ماہرین کے مطابق بلوچستان کا زلزلہ جنوب مشرقی پاکستان کے مکران ٹرنچ سب ڈکشن کے بالائی اور یوریشیا پلیٹ کے داخلی حصوں میں مسلسل دراڑ کا نتیجہ ہے اور عریبئن پلیٹ اور یوریشیا زون کے درمیان تباہی کا باعث بنا ہے۔
بربادی و تباہ کاری کے وسیع تر سیاسی و سماجی تناظر میں بلوچستان خود زلزلے کا ایک اہم مرکز بنا ہوا ہے جہاں شورش، مزاحمت، دہشت گردی، فرقہ وارانہ ہلاکتوں اور سیاسی مجبوریوں کا غم کدہ سجا ہوا ہے، یہ خطہ تو سیاسی، عسکریت پسندی، دہشت گردی اور بھوک و پسماندگی کے کثیر جہتی زلزلوں کی پہلے سے ہی زد میں تھا اب قدرتی آفت کا اسے سامنا ہے، جب کہ زلزلے سے ہونے والی تباہی اور اس کے مضمرات چشم کشا اور فطرت اور انسانی سماج کے درمیان کشمکش اور تسخیر و لاچاری کی عجیب درد ناک داستان کا ایک تسلسل ہیں۔ قدرتی آفات کے سامنے انسانی بساط ہی کیا ہے۔ دنیا کے انتہائی ترقی یافتہ ملکوں میں جب سیلاب سونامی کی شکل اختیار کرتے ہیں، سمندری طوفان، زلزلے اور جنگلوں میں آتشزدگی کے ہولناک واقعات ہوتے ہیں تو زیادہ سے زیادہ یہی کچھ ہوتا ہے کہ ریاستی مشینری، فوج ریسکیو ٹیموں اور عوامی تعاون و اشتراک کے ذریعہ امدادی کاموں کو تیزی سے نمٹایا جاتا ہے تا کہ ہلاکتیں کم ہوں اور تباہی کی شدت کو روکا جا سکے۔
بلوچستان کے عوام اور سیاسی مسائل میں گھری صوبائی انتظامیہ کی بر وقت مدد کا یہی وقت ہے۔ عالمی برادری بھی پاکستان کی امداد کے لیے آگے بڑھے تا کہ مصائب میں گرفتار لوگوں کی اشک شوئی سے زیادہ ٹھوس طریقہ سے مدد کی جا سکے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 7.8 ریکارڈ کی گئی ہے جب کہ اس کا مرکز خضدار سے 120 کلومیٹر دور اور گہرائی 23 کلومیٹر زیر زمین تھی۔ دوسری جانب محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ زلزلے کی شدت 7.7 اور مرکز بلوچستان کا علاقہ خضدار ہے جب کہ اس کی گہرائی 10 کلومیٹر تھی۔ زلزلے کے بعد وقفے وقفے سے آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری رہا۔ مواصلاتی نظام درہم برہم ہو گیا۔ ماشکیل، تربت اور خضدار میں بھی مکانات گرنے سے لوگ ملبے تلے دب گئے جس کے بعد فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں، پاک فوج کے دستے اور امدادی ٹیمیں بھی متاثرہ علاقوں میں پہنچ گئی ہیں۔ ایف سی کے ترجمان نے ابتدا میں 80 ہلاکتوں کی تصدیق کی ۔
ایرا کے سربراہ بریگیڈیئر واجد نے بتایا کہ امدادی ٹیموں نے دس لاشیں ملبے سے نکال لیں، ایک مدرسے سے20 طلبا کی لاشیں نکالی گئیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ متاثرہ علاقوں میں سول انتظامیہ، لیویز اور ایف سی رابطہ میں ہیں، ایف سی کی امدادی ٹیمیں آواران بازار، بیدی، لاباچ، پیران دار، ترتیج اور جاہو کے علاقوں کو روانہ کر دی گئی ہیں۔ آواران میں تین لاکھ کی آبادی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ گوادر میں بھی ایک مکان کے ملبے سے دو افراد کی لاشیں نکالی گئیں، تیرج کے علاقے میں ایک اسکول کی عمارت گرنے سے تین خواتین اور ایک بچہ جاں بحق ہو گئے۔ تربت میں بھی تین افراد جاں بحق ہوئے۔ متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کر کے صوبہ بھر سے امدادی ٹیمیں طلب کر لی گئی ہیں، اسپتالوں میں بھی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ بلوچستان اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ زلزلے سے بلوچستان کے شہروں اور دیہات میں بے شمار گھر تباہ ہوئے ہیں جب کہ تیرج میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ آبادی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
آواران میں 40 فیصد مکانات تباہ ہو گئے ہیں جب کہ 285 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ لیویز ذرایع کے مطابق 250 سے زائد زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا۔ دالبندین میں زیادہ نقصان نہیں ہوا۔ ترجمان حکومت بلوچستان کے مطابق فوری طور پر ایک ہزار خیمے اور دیگر ضروری اشیا متاثرہ علاقوں میں بھیج دی گئی ہیں۔ جماعۃالدعوۃ اور فلاح انسانیت فائونڈیشن نے بھی بلوچستان کے زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔محکمہ موسمیات کے مطابق حالیہ زلزلہ بلوچستان میں گزشتہ سات سال کے دوران آنے والا شدید ترین زلزلہ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بلوچستان کے صرف ایک گائوں سے چالیس لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ وزیر اعظم نے وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ کو زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں پہنچنے کی ہدایت کر دی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج نے بلوچستان کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن کے لیے خضدار میں بیس کیمپ قائم کر دیا ہے، پاک فوج کے 300 جوان متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔ صدر ممنون حسین اور وزیر اعظم نواز شریف نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں زلزلے سے جانی و مالی نقصان پر گہرے رنج کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے گہری ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعظم نے مقامی انتظامیہ کو متاثرین کو ہر ممکن امداد فراہم کرنے اور چیئرمین این ڈی ایم اے کو صورتحال سے باخبر رہنے کی ہدایت کی ہے۔ کراچی سمیت دیگر شہروں میں زلزلے کے جھٹکے ویک اپ الارم ہیں، خدا کا شکر ہے کہ بڑے شہر زلزلے سے محفوظ ہیں، ورنہ کتنی ''کاغذی عمارتیں'' ہیں جو ذرا سے جھٹکے کی متحمل بھی نہیں ہو سکتیں، اس طرف بھی ارباب اختیار اور تعمیراتی ماہرین توجہ دیں۔ زندہ قومیں آفات سے نمٹنے کی تدابیر کرتی رہتی ہیں، ہمیں ہمت سے کام لینا چاہیے۔