دہشت گردی امریکی پالیسیوں کا رد عمل ہے

پاکستان سے ’’ڈو مور‘‘ کا مطالبہ کرنے والوں کو بھی اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے

طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے اے پی سی کی قرارداد پر وزیراعظم نوازشریف کے دورہ امریکا سے واپسی پرحکومتی سطح پرصورتحال پرنظرثانی کریں گے۔ فوٹو اے ایف پی/ فائل

دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ بننے کا خمیازہ پاکستان کو بھگتنا پڑ رہا ہے، اب جب کہ امریکی اورنیٹو افواج افغانستان سے نقل مکانی کے لیے پر تول رہی ہیں ، ایک جانب قطر میں طالبان سے امریکا کا مذاکراتی عمل بھی جاری ہے اور دوسری جانب پاکستانی حدودکے اندر ڈرون حملے بھی تھمنے کا نام نہیں لیتے، ان حملوں کو شدت پسند عناصر اور گروہ اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں ، پشاور میں چرچ پر حملے کے شواہد بھی ان ہی گروہوں سے ملتے ہیں ۔نومنتخب حکومت نے آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرکے متفقہ لائحہ عمل کو اپنایا اور پاکستانی طالبان سے مذاکرات کے عمل کاآغازکرنا چاہا جسے امریکا نے ڈرون حملے کر کے سبوتاژ کرنے کی معاندانہ پالیسی پرعمل کیا ۔اسی حوالے سے وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان کا یہ کہنا صائب ہے کہ پاکستان دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے، طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے اے پی سی کی قرارداد پر وزیراعظم نوازشریف کے دورہ امریکا سے واپسی پرحکومتی سطح پرصورتحال پرنظرثانی کریں گے۔

اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ موجودہ نو منتخب حکومت ہرطرح کی دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے پرخلوص کوششیں کر رہی ہے اور بلاشبہ اس سلسلے میں اسے سیاسی جماعتوں سمیت عوام کی پرزور تائید حاصل ہے ۔ کیونکہ حکومت دہشت گردی اور انتہا پسندی کے عفریت سے نمٹنے کے لیے مکمل عزم رکھتی ہے جن میں عسکریت پسندوں سے مذاکرات کا عمل بھی شامل کیا گیا ہے۔اس وقت ملک انتہائی نازک صورتحال سے دوچار ہے اور امن وامان کا قیام ملک کی اولین ضرورت بن چکا ہے۔ وزیراعظم نوازشریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچ چکے ہیں جہاں وہ اقوام متحدہ میں پاکستان کا نقطہ نظر دنیا کے سامنے رکھیں گے ،عالمی برادری کو تحفظات سے بھی آگاہ کیا جائے گا۔ اس موقعے پر وزیر اعظم نوازشریف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خوب صورت اور پر امن پاکستان ان کا خواب ہے جس کی تعبیرکے لیے تمام وسائل استعمال کیے جائیں گے۔


امریکا کو سوچنا چاہیے کہ ڈرون حملوں کے منفی نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ اگر وہ یہ حملے پاکستان کے ساتھ اپنی دوستی کے ناتے ختم کردے تو قیام امن کے عمل کو کافی مدد ملے گی، دوسری جانب امریکی میڈیا دعویٰ کررہا ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم نوازشریف نے پشاور چرچ دھماکے کے بعد طالبان سے بات چیت کا ارادہ ترک کردیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نوازشریف واضح طور پر اس صورت حال سے پریشان دکھائی دیے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے نیک نیتی سے طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کی تجویز پیش کی تھی لیکن اس حملے کی وجہ سے حکومت مزید پیش رفت سے قاصر ہے۔

دعوے اور پروپیگنڈے کا توڑ تو مثبت اقدامات سے ہی دیا جاسکتا ہے، پاکستان سے ''ڈو مور'' کا مطالبہ کرنے والوں کو بھی اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے، آنے والے دن پاکستان کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ اگلے برس امریکی اور اتحادی افواج افغانستان سے اپنا بوریا بستر باندھ رہی ہیں، نومنتخب حکومت کے خارجہ پالیسی کے کرتا دھرتائوں کی فہم وفراست اور تدبر کا امتحان ہے، بلاشبہ وفاقی حکومت کو افغانستان اور انڈیا کے ساتھ اپنی پالیسی میں تبدیلی لانا ہوگی،اس رائے پر غوروفکرکرنا چاہیے کہ حکومت کو فوجیوں کے گلے کاٹنے والوں کے ساتھ مذاکرات نہیں کرنے چاہئیں۔کیونکہ افغان طالبان رہنمائوں کی جذبہ غیرسگالی کے تحت رہائی نے بھی متشدد گروہوں کی نفسیات اورعمل پر کوئی مثبت اثرات مرتب نہیں کیے بلکہ سوات میں امن بحال کرنے والے آرمی کے میجرجنرل کوساتھیوں سمیت شہید کرکے ریاست کے خلاف بغاوت اور جنگ جاری رکھنے کا اعلان کرچکے ہیں۔ملکی بقا وسلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے ،یہی ہر پاکستانی کی خواہش ہے۔
Load Next Story