کنٹریکٹ کی تجدید نہیں کی جارہی بلدیہ عظمیٰ کے سیکڑوں ملازمین بےروزگارہوگئے

متاثرہ ملازمین دن بھر سوک سینٹر کے چکر لگاتے رہتے ہیں،ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمیٰ اپنا رویہ تبدیل کرنے کو تیار نہیں،ذرائع

متاثرہ ملازمین نے صوبائی وزیر بلدیات اویس مظفر سے اپیل کی ہے کہ وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لیں۔ فوٹو: فائل

بلدیہ عظمیٰ میں سیکڑوں ملازمین کا کنٹریکٹ ختم ہونے کے بعد ان کے کنٹریکٹ کی تجدید نہیں کی جارہی ہے۔

جس کے باعث سیکڑوں ملازم بے روزگار ہوگئے،متاثرہ ملازمین نے صوبائی وزیر بلدیات اویس مظفر سے اپیل کی ہے کہ وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمیٰ کو ہدایت کریں کہ وہ کنٹریکٹ کی تجدید کرائیں، باخبرذرائع نے اس امر کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ میں 2010کے بعد ملازمیں کو ضرورت کے تحت کنٹریکٹ پر رکھا گیا تھا، ایک سال کے لیے کنٹریکٹ پر رکھے جانے والے ان ملازمین کو صرف دس ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی جاتی ہے تاہم جن ملازمین کو دو ماہ کے دوران کنٹریکٹ ختم ہوا ہے ان ملازمین کے معاہدہ ملازمت کی تجدید نہیں کی جارہی۔




جس کے باعث سیکڑوں تعلیم یافتہ نوجوان بے روزگار ہوگئے ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ سندھ اسمبلی کی طرف سے سندھ بھر میں کنٹریکٹ پر رکھے گئے ملازمین کو مستقل کرنی کی قانون سازی ہوچکی ہے تاہم بلدیہ عظمیٰ میں کنٹریکٹ پر کام کرنے والے ملازمین کو کنفرم کرنے کے بجائے فارغ کردیا گیا ہے جن کی تعداد میں سیکڑوں میں ہے، یہ متاثرہ ملازمین دن بھر سوک سینٹر کے چکر لگاتے رہتے ہیں کہ کاش ایڈمنسٹریٹر کے دل میں ان بے روزگاروں کیلیے کوئی ہمدردی پیدا ہوجائے۔

اس سلسلے میں ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمیٰ ان بے روزگاروں نوجوانوں کے حوالے سے اپنا رویہ ترک کرنے کو تیار نہیں،کنٹریکٹ پر فارغ ملازمین نے ایکسپریس کو بتایا کہ ان کو اس مہنگائی کے دور میں صرف دس ہزار روپے ملتے تھے تاہم اب وہ بھی بند ہوگئے ہیں،ان کے گھروںمیں فاقوں کی نوبت آگئی ہے ، بچوں کو اسکولوں سے نکال دیا گیا ہے، دکان والوں کے ادھار کے باعث وہ اپنے محلوں میں بھی منہ چھپائے پھررہے ہیں مگر ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمیٰ ثاقب سومرو اس سلسلے میں اپنی سخت رویہ تبدیل کرنے کو تیار نہیں،ملازمین نے دھمکی دی ہے کہ اگر ان کے معاہدہ ملازمت کی تجدید نہیں کی گئی تو وہ سوک سینٹر میں خودسوزی کرلیں گے۔
Load Next Story