شام میں دنیا بھر کے ایک لاکھ 30 ہزار جنگجوؤں کے برسر پیکار ہونے کا انکشاف
زیادہ جنگجو ہمسایہ عرب ممالک کے ہیں، اپوزیشن کے غیر مسلح گروپ سے ملاقات کے لیے تیار ہیں، بشارالاسد کی پیشکش
خانہ جنگی میں اب تک ایک لاکھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں، امریکا ،چین ،روس اوربرطانیہ سلامتی کونسل میں شام کے حوالے سے پیدا ہونے والے ڈیڈلاک پر بات کریں، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
شام میں اس وقت دنیا بھر کے ایک لاکھ 30 ہزار جنگجو حکومت کیخلاف برسرپیکار ہیں۔
یہ انکشاف العالم کی رپورٹ میں کیا گیا ہے جسکے مطابق امریکا میں اعداد و شمار کے ادارے پنتاپلیس نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ان دہشتگردوں کا تعلق 49 ملکوں سے ہے اور ان میں اکثریت شدت پسند گروہوں سے ہے۔ رپورٹ میں شام میں ہلاک ہونیوالے عرب دہشتگردوں کی تعداد بتائی گئی ہے جن میں سب سے زیادہ ہمسایہ عرب ممالک کے دہشتگرد ہیں۔ شام میں ان ممالک کے 714دہشتگرد مارے گئے ہیں۔ادھرشامی صدر بشارالاسد نے ایک انٹرویومیں کہاہے کہ جب تک باغی ہتھیار نہیں پھینک دیتے مذاکرات ممکن نہیں، اپوزیشن کے کسی بھی غیر مسلح گروپ سے ملاقات کیلیے تیار ہیں، خانہ جنگی کے باعث ایک لاکھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں، بیرونی مداخلت کی حمایت کرنیوالوں سے مذاکرات نہیں ہوں گے ۔
دریں اثنا اقوام متحدہ کی 6 رکنی تحقیقاتی ٹیم سویڈن کے ماہرین کی قیادت میںشام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے معاملے کی تحقیقات کیلیے دمشق پہنچ گئی ہے۔ علاوہ ازیں جمہوریہ آذربائیجان کی مہاجرین و انصار نامی دہشتگرد جماعت کا سرغنہ ابو یحییٰ شام میں ہلاک ہو گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بڑی طاقتوں کو شام کے حوالے سے پیدا ڈیڈلاک پربات کرنیکا کہاہے۔ بدھ کو ایک لنچ کے دوران امریکا ،چین ،روس اوربرطانیہ کے وزرائے خارجہ سے کہاکہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کی کشیدہ صورتحال اورکیمیائی ہتھیاروں کے حوالے بات کریں۔
یہ انکشاف العالم کی رپورٹ میں کیا گیا ہے جسکے مطابق امریکا میں اعداد و شمار کے ادارے پنتاپلیس نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ان دہشتگردوں کا تعلق 49 ملکوں سے ہے اور ان میں اکثریت شدت پسند گروہوں سے ہے۔ رپورٹ میں شام میں ہلاک ہونیوالے عرب دہشتگردوں کی تعداد بتائی گئی ہے جن میں سب سے زیادہ ہمسایہ عرب ممالک کے دہشتگرد ہیں۔ شام میں ان ممالک کے 714دہشتگرد مارے گئے ہیں۔ادھرشامی صدر بشارالاسد نے ایک انٹرویومیں کہاہے کہ جب تک باغی ہتھیار نہیں پھینک دیتے مذاکرات ممکن نہیں، اپوزیشن کے کسی بھی غیر مسلح گروپ سے ملاقات کیلیے تیار ہیں، خانہ جنگی کے باعث ایک لاکھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں، بیرونی مداخلت کی حمایت کرنیوالوں سے مذاکرات نہیں ہوں گے ۔
دریں اثنا اقوام متحدہ کی 6 رکنی تحقیقاتی ٹیم سویڈن کے ماہرین کی قیادت میںشام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے معاملے کی تحقیقات کیلیے دمشق پہنچ گئی ہے۔ علاوہ ازیں جمہوریہ آذربائیجان کی مہاجرین و انصار نامی دہشتگرد جماعت کا سرغنہ ابو یحییٰ شام میں ہلاک ہو گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بڑی طاقتوں کو شام کے حوالے سے پیدا ڈیڈلاک پربات کرنیکا کہاہے۔ بدھ کو ایک لنچ کے دوران امریکا ،چین ،روس اوربرطانیہ کے وزرائے خارجہ سے کہاکہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کی کشیدہ صورتحال اورکیمیائی ہتھیاروں کے حوالے بات کریں۔