سندھ اسمبلی ہیلتھ کیئر کے قیام سے متعلق بل خصوصی کمیٹی کے حوالے
کمیٹی آئندہ اجلاس میں رپورٹ پیش کرے گی، اسپیکر اسمبلی نے خاتون رکن نصرت سحرکو انویسٹی گیشن ایجنسی کھولنےکا مشورہ دیدیا
کمیٹی آئندہ اجلاس میں رپورٹ پیش کرے گی، اسپیکر اسمبلی نے خاتون رکن نصرت سحرکو انویسٹی گیشن ایجنسی کھولنے کا مشورہ دیدیا
سندھ ہیلتھ کئیر کمیشن کے قیام سے متعلق بل سندھ اسمبلی نے بدھ کو خصوصی کمیٹی کے حوالے کردیا ۔
یہ کمیٹی اس بل پر غور کرے گی اور اپنی رپورٹ آئندہ اجلاس میں پیش کرے گی،مجوزہ بل کے تحت صوبے میں وسیع اختیارات رکھنے والا ''سندھ ہیلتھ کئیر کمیشن'' تشکیل دیا جائے گا تاہم کمیشن کے امور کی نگرانی ایک بورڈ کرے گا اور بورڈ کے 9 کمشنرز کی تقرری وزیر صحت کی سربراہی میں قائم کردہ کمیٹی کرے گا،کمیشن کا ہیڈ آفس کراچی میں ہوگا تاہم اس کے دفاتر صوبے کے دیگر شہروں میں بھی قائم کیے جاسکیں گے، ان کا فیصلہ کمیشن کرے گا۔
دوسری جانب اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی کو مشورہ دیا ہے کہ وہ انویسٹی گیشن ایجنسی کھول لیں جو بہت مشہور ہوگی، بدھ کو سندھ اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران نصرت سحر عباسی نے بتایا کہ بھمبھور ڈیری ولیج اینڈ پروسیسنگ زون کے منصوبے میں مبینہ خوردبرد کا سب سے بڑا کردار لئیق میمن تھے جو سیکریٹری لائیو اسٹاک تھے،ایک ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق لئیق میمن 60 کروڑ روپے لے کر کینیڈا فرار ہوگئے ہیں، اس رقم سے وہ کینیڈا میں فارمز چلا رہے ہیں۔
کیا حکومت ان کے خلاف کارروائی کرے گی؟، وزیر لائیو اسٹاک جام خان شورو نے کہا کہ مجھے اس معاملے کا علم نہیں،اسپیکر نے صوبائی وزیر سے کہا کہ فاضل رکن آپ کو اتنی اچھی انفارمیشن دے رہی ہیں، نصرت سحر عباسی نے کہا کہ میں ٹی وی چینل کا حوالہ دے رہی ہوں، اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے ارکان سندھ اسمبلی سے کہا ہے کہ وہ غیر قانونی گاڑیوں کے خلاف پولیس کی مہم میں مدد کریں جو یکم اکتوبر سے شروع ہو رہی ہے، بدھ کو سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران اسپیکر نے کہا کہ رجسٹریشن اور سرکاری نمبر پلیٹس کے بغیر گاڑیاں جرائم میں استعمال ہوتی ہیں سب سے پہلے ارکان سندھ اسمبلی اپنی گاڑیوں کی فینسی نمبر پلیٹس اتار دیں،ہمیں اپنے صوبے کو جرائم سے پاک کرنا ہے، وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ اسمبلی کے اندر کا سیکیورٹی پلان بنایا جائے ۔
کیونکہ دھمکیاں مل رہی ہیں، اس ضمن میں آئی جی سندھ پولیس کو طلب کرکے انھیں ہدایات دی جائیں، سیکیورٹی پلان میں پارلیمانی پارٹیوں سے بھی مشاورت کی جائے، اسپیکر نے کہا کہ اسمبلی کے سامنے گاڑیوں کی پارکنگ کرنے سے منع کردیا ہے،علاوہ ازیں سندھ کے سینئر وزیر تعلیم نثار احمد کھوڑو نے کہا ہے کہ سابق دور حکومت میں محکمہ تعلیم میں ہونے والی بھرتیوں کا حکومت نے سخت نوٹس لیا ہے اور اس حوالے سے ڈائریکٹرز سمیت مختلف افسروں کو معطل کردیا ہے، ان افسروں کو تقرریاں بھی نہیں دی گئی ہیں اور آئندہ تقرریاں دی بھی نہیں جائیں گی۔
وہ بدھ کو سندھ اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی کے نکتہ اعتراض پر بیان دے رہے تھے، نصرت سحر عباسی نے ایک اخبار میں شایع ہونے والی رپورٹ کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ محکمہ تعلیم میں غیر قانونی بھرتیاں ہوئیں،5 سے 10 لاکھ روپے لے کر آفر لیٹرز جاری کیے گئے ہیں ۔
رپورٹ میں ان ارکان سندھ اسمبلی کا نام بھی دیا گیا ہے ، جنھوںنے نوکریاں فروخت کیں ، انھوں نے کہا کہ حکومت اس بات کا جواب دے کہ غیر قانونی بھرتیوں میں ملوث افسروں کے خلاف کیا کارروائی ہوئی، ان لوگوں کا کیا بنے گا جنھیں آفرز لیٹرز جاری کیے گئے اور جو تنخواہوں کے لیے احتجاج کر رہے ہیں اور ان لوگوں کا کیا ہوگا، وزیر تعلیم نے کہا کہ یقیناً ایسی باتیں ہوئی ہوں گی میں نے ہر ڈویژن میں ایک کمیٹی قائم کردی ہے جو معاملات کا جائزہ لے رہی ہے جن لوگوں کو بھرتی کیا گیا ہے ان کی ڈگریوں کی تصدیق کرائی جائے گی۔
یہ کمیٹی اس بل پر غور کرے گی اور اپنی رپورٹ آئندہ اجلاس میں پیش کرے گی،مجوزہ بل کے تحت صوبے میں وسیع اختیارات رکھنے والا ''سندھ ہیلتھ کئیر کمیشن'' تشکیل دیا جائے گا تاہم کمیشن کے امور کی نگرانی ایک بورڈ کرے گا اور بورڈ کے 9 کمشنرز کی تقرری وزیر صحت کی سربراہی میں قائم کردہ کمیٹی کرے گا،کمیشن کا ہیڈ آفس کراچی میں ہوگا تاہم اس کے دفاتر صوبے کے دیگر شہروں میں بھی قائم کیے جاسکیں گے، ان کا فیصلہ کمیشن کرے گا۔
دوسری جانب اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی کو مشورہ دیا ہے کہ وہ انویسٹی گیشن ایجنسی کھول لیں جو بہت مشہور ہوگی، بدھ کو سندھ اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران نصرت سحر عباسی نے بتایا کہ بھمبھور ڈیری ولیج اینڈ پروسیسنگ زون کے منصوبے میں مبینہ خوردبرد کا سب سے بڑا کردار لئیق میمن تھے جو سیکریٹری لائیو اسٹاک تھے،ایک ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق لئیق میمن 60 کروڑ روپے لے کر کینیڈا فرار ہوگئے ہیں، اس رقم سے وہ کینیڈا میں فارمز چلا رہے ہیں۔
کیا حکومت ان کے خلاف کارروائی کرے گی؟، وزیر لائیو اسٹاک جام خان شورو نے کہا کہ مجھے اس معاملے کا علم نہیں،اسپیکر نے صوبائی وزیر سے کہا کہ فاضل رکن آپ کو اتنی اچھی انفارمیشن دے رہی ہیں، نصرت سحر عباسی نے کہا کہ میں ٹی وی چینل کا حوالہ دے رہی ہوں، اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے ارکان سندھ اسمبلی سے کہا ہے کہ وہ غیر قانونی گاڑیوں کے خلاف پولیس کی مہم میں مدد کریں جو یکم اکتوبر سے شروع ہو رہی ہے، بدھ کو سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران اسپیکر نے کہا کہ رجسٹریشن اور سرکاری نمبر پلیٹس کے بغیر گاڑیاں جرائم میں استعمال ہوتی ہیں سب سے پہلے ارکان سندھ اسمبلی اپنی گاڑیوں کی فینسی نمبر پلیٹس اتار دیں،ہمیں اپنے صوبے کو جرائم سے پاک کرنا ہے، وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ اسمبلی کے اندر کا سیکیورٹی پلان بنایا جائے ۔
کیونکہ دھمکیاں مل رہی ہیں، اس ضمن میں آئی جی سندھ پولیس کو طلب کرکے انھیں ہدایات دی جائیں، سیکیورٹی پلان میں پارلیمانی پارٹیوں سے بھی مشاورت کی جائے، اسپیکر نے کہا کہ اسمبلی کے سامنے گاڑیوں کی پارکنگ کرنے سے منع کردیا ہے،علاوہ ازیں سندھ کے سینئر وزیر تعلیم نثار احمد کھوڑو نے کہا ہے کہ سابق دور حکومت میں محکمہ تعلیم میں ہونے والی بھرتیوں کا حکومت نے سخت نوٹس لیا ہے اور اس حوالے سے ڈائریکٹرز سمیت مختلف افسروں کو معطل کردیا ہے، ان افسروں کو تقرریاں بھی نہیں دی گئی ہیں اور آئندہ تقرریاں دی بھی نہیں جائیں گی۔
وہ بدھ کو سندھ اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی کے نکتہ اعتراض پر بیان دے رہے تھے، نصرت سحر عباسی نے ایک اخبار میں شایع ہونے والی رپورٹ کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ محکمہ تعلیم میں غیر قانونی بھرتیاں ہوئیں،5 سے 10 لاکھ روپے لے کر آفر لیٹرز جاری کیے گئے ہیں ۔
رپورٹ میں ان ارکان سندھ اسمبلی کا نام بھی دیا گیا ہے ، جنھوںنے نوکریاں فروخت کیں ، انھوں نے کہا کہ حکومت اس بات کا جواب دے کہ غیر قانونی بھرتیوں میں ملوث افسروں کے خلاف کیا کارروائی ہوئی، ان لوگوں کا کیا بنے گا جنھیں آفرز لیٹرز جاری کیے گئے اور جو تنخواہوں کے لیے احتجاج کر رہے ہیں اور ان لوگوں کا کیا ہوگا، وزیر تعلیم نے کہا کہ یقیناً ایسی باتیں ہوئی ہوں گی میں نے ہر ڈویژن میں ایک کمیٹی قائم کردی ہے جو معاملات کا جائزہ لے رہی ہے جن لوگوں کو بھرتی کیا گیا ہے ان کی ڈگریوں کی تصدیق کرائی جائے گی۔