نیو یارک سے اچھی اطلاعات

یہ اطلاع خوش آیند ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کے درمیان...

پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کے درمیان یہ ملاقات تقریباً 3 برس کے بعد ہو رہی ہے. فوٹو فائل

یہ اطلاع خوش آیند ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کے درمیان نیو یارک میں ملاقات کا باضابطہ فیصلہ ہو گیا ہے۔ نئی دہلی سے امریکا روانگی سے پہلے جاری کردہ ایک بیان میں بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کی تصدیق کی ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق یہ ملاقات اتوار کو ہو گی۔ تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم من موہن سنگھ نیو یارک میں اس ہوٹل میں تشریف لائیں گے جہاں پاکستان کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف مقیم ہیں اور ان کے ہمراہ ناشتا کریں گے۔ یوں ناشتے کی یہ میز دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کے درمیان مذاکرات کا مقام بن جائے گی۔

پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کے درمیان یہ ملاقات تقریباً 3 برس کے بعد ہو رہی ہے' آخری ملاقات سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی اور من موہن سنگھ کے درمیان 2010ء میں بھوٹان میں ہوئی تھی' ادھر نیو یارک میں وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے حوالے سے یہ خبر شایع ہوئی ہے کہ انھیں بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کے ساتھ مل کر بہت خوشی ہو گی۔ میں وزیر اعظم کی حیثیت سے ملاقات کے لیے پر امید ہوں۔ اس ملاقات میں بھارت کے ساتھ 1999ء میں چھوڑے گئے تعلقات بحال ہونے کی امید ہے۔ اسی دوران اخبارات میں بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید کا حوصلہ افزاء بیان بھی شایع ہوا ہے جس میں انھوں نے امید ظاہر کی ہے کہ نیو یارک میں پاک بھارت وزرائے اعظم ملاقات سے دونوں ملکوں کے حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔

نیو یارک میں پاک بھارت وزرائے اعظم کے درمیان ملاقات موجودہ حالات کے تناظر میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے' اس ملاقات سے دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطح کے رکے ہوئے مذاکرات بحال ہونے کی امید پیدا ہو سکتی ہے۔ یہ ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ پاکستان اور بھارت میں ایسی قوتیں موجود ہیں جو دونوں ملکوں میں اچھے تعلقات نہیں چاہتیں' ''اسٹیٹس کو'' کی حامی یہ قوتیں اس خطے میں کشیدگی برقرار رکھ کر اپنے مفادات کا تحفظ چاہتی ہیں۔ وزیر اعظم نواز شریف جب دوسری بار برسراقتدار آئے تھے تو اس وقت انھوں نے بڑی تیزی سے بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں شروع کی تھیں' ان کے مثبت اثرات بھی سامنے آئے۔ بھارت پر اس وقت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت تھی اور اٹل بہاری واجپائی وزیر اعظم تھے' وہ پاکستان کے دورے پر آئے تھے' انھوں نے واہگہ کی سرحد پیدل چل کر عبور کی تھی اور پھر یاد گار پاکستان گئے' یہ ایک انقلابی قدم تھا' اس کے بعد اعلان لاہور جاری ہوا لیکن جنرل پرویز مشرف اور ان کے ساتھیوں نے کارگل برپا کر دیا۔


اور پھر 12 اکتوبر1999ء کو وزیر اعظم میاں نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔ یوں دونوں ملکوں نے جس عمل کا آغاز کیا' وہ ختم ہو گیا۔ جنرل پرویز مشرف نے اپنے دور اقتدار میں بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ بھی اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے' اس کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی' اس دوران بمبئی میں دہشت گردی کے واقعات رونما ہو گئے جس کے باعث دونوں ملکوں میں کشیدگی بہت زیادہ بڑھ گئی۔ اس وقت سے پاکستان اور بھارت کے درمیان باضابطہ مذاکرات معطل ہیں۔ اب میاں نواز شریف دوبارہ برسراقتدار آئے ہیں' انھوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کھل کر بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی بات کی تھی۔ بھارت میں بھی ان کے اس جذبے کا خیر مقدم کیا گیا۔ پاکستان میں کسی اور سیاسی جماعت نے انتخابی مہم کے دوران بھارت سے دوستی کا نعرہ نہیں لگایا۔ مسلم لیگ ن نے عام انتخابات میں فتح حاصل کی۔ یوں میاں نواز شریف یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ انھیں بھارت سے اچھے تعلقات قائم کرنے کا عوامی مینڈیٹ حاصل ہے۔ وہ بھارت سے بجلی بھی خریدنا چاہتے ہیں۔

جس پر ابھی تک کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی۔ بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے وزیر اعظم میاں نواز شریف کا ویژن بالکل واضح ہے' وہ اس حقیقت کا ادراک رکھتے ہیں کہ جنوبی ایشیاء میں قیام امن اور ترقی کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان اچھے تعلقات کا قیام انتہائی ضروری ہے۔ متنازعہ امور کو طے کرنے کے لیے بھی ساز گار ماحول ضروری ہوتا ہے اگر دونوں ملکوں کے درمیان اچھے تعلقات ہی نہیں ہوں گے تو مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ ان کا ویژن حقیقت پسندی پر مبنی ہے لیکن انھیں اس مقصد کے حصول کے لیے اندرون ملک انتہا پسند قوتوں کو شکست دینی ہو گی۔ پاکستان میں ایسی جماعتیں موجود ہیں جو کھل کر طالبان اور انتہا پسندوں کی حمایت کر رہی ہیں۔ یہ سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادت عوام کو ابہام کا شکار کر رہی ہے۔

یہ وہ جماعتیں ہیں جنھیں عام انتخابات میں عوام نے مسترد کر دیا ہے لیکن وہ اس کے باوجود خود کو عوام کا نمایندہ کہلاتی ہیں۔ عالمی حالات کی نزاکت کو سمجھے بغیر یہ سیاسی جماعتیں ان قوتوں کے لیے ساز گار ماحول پیدا کرنے کا باعث بن رہی ہیں جو پاکستان اور بھارت تعلقات خراب کرنا چاہتی ہیں' وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اگر بھارت کے ساتھ تعلقات کی کڑی 12 اکتوبر 1999ء سے پہلے سے جوڑنی ہے تو انھیں پاکستان میں انتہا پسند قوتوں اور ان کی حامی سیاسی جماعتوں کو لازمی طور پر شکست دینی ہو گی۔ پاکستان ایک دوراہے پر کھڑا ہے۔ جہاں ایک راستہ روشنی اور دوسرا اندھیرے کی طرف جاتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ میں بھی ایسا طبقہ موجود ہے جو بھارت کے ساتھ تعلقات نہیںچاہتا۔ انھیں اسٹیبلشمنٹ کا قبلہ بھی درست کرنا ہو گا۔ ادھر بھارت میں بھی کم و بیش ایسی ہی صورت حال ہے۔ بھارت میں انتہا پسند قوتیں ہر حکومت میں دبائو لاتی ہیں اور بھارتی عوام کو پاکستان دشمنی پر ابھارتی رہتی ہیں۔ بی جے پی نے وزارت عظمیٰ کے لیے نریندر مودی کو اپنا امید وار نامزد کیا ہے۔ ان کی نامزدگی کا مطلب بھارتی عوام کو یہ پیغام دینا ہے کہ بی جے پی برسراقتدار آئی تو پاکستان کے ساتھ دشمنی کی پالیسی کو برقرار رکھے گی۔

بھارت میں خفیہ ایجنسیاں بھی اپنا کھیل کھیلتی ہیں۔ بھارت میں بہت سے دہشت گردی کے ایسے واقعات ہوئے ہیں جن کے بارے میں بعد میں بھارتی میڈیا نے انکشاف کیا کہ یہ بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے تیار کردہ منصوبے تھے۔ بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے گھنائونے کردار کے بارے میں بھارت کے اپنے میڈیا نے ہی پردہ چاک کر دیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت میں انتہا پسند قوتیں کس قدر بے رحم اور طاقتور ہیں۔ جب تک بھارت میں بھی ان قوتوں کو شکست نہیں ہوتی' خطے میں قیام امن کی راہ ہموار ہونا مشکل ہے۔ بھارت کے ایک سابق آرمی چیف نے ابھی حال ہی میں انکشاف کیا ہے کہ بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر کے سیاستدانوں کو پیسے فراہم کرتی ہے۔ اس انکشاف سے یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ بھارتی فوج بھی حکومت کو پریشر میں لاتی ہے اور اس کا مقصد بھی پاکستان کے ساتھ دشمنی برقرار رکھنا ہے۔ بہر حال نیو یارک سے اچھی خبریں آ رہی ہیں۔ وزیر اعظم نواز شریف اور من موہن سنگھ کے درمیان ملاقات پاک بھارت تعلقات کی بحالی کے حوالے سے بریک تھرو ہو سکتا ہے۔
Load Next Story