پاکستانی علاقوں پر افغان شدت پسندوں کے حملے

افغانی صدرحامد کرزئی یا امریکی انتظامیہ کی جانب سےشرپسندی کو...

سرحد پار سے بھی ہمارے علاقوں پر حملوں میں شدت پیدا ہو گئی ہے اور ایسے حملوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ فوٹو: فائل

جنوبی وزیرستان کی تحصیل تیارزہ میں سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کے حملے میں 9اہلکار شہید اور 6 زخمی ہو گئے جبکہ جوابی کارروائی میں 18 شدت پسندوں کو ہلاک اور 21 کو زخمی کر دیا گیا۔ خبر میں ایک سینئر سیکیورٹی اہلکار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ درجنوں شدت پسندوں نے سرنگ بابا زیارت گائوں سیکیورٹی فورسز کی بدر چیک پوسٹ پر راکٹوں اور گرینیڈوں سے حملہ کیا۔ کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان احسان اﷲ احسان نے ٹیلی فون پر حملے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے 12 سے زائد اہلکاروں کی شہادت کا دعویٰ کیا اور ایک عسکریت پسند کی ہلاکت کی تصدیق کی۔

ادھر بنوں میں چیک پوسٹ پر حملے میں 3 اہلکار زخمی ہوئے، فورسز کی جوابی کارروائی میں 5 شدت پسند ہلاک جبکہ 12 زخمی ہو گئے۔ دوسری جانب باجوڑ میں پاک افغان بارڈر پر سیکیورٹی فورسز، مقامی امن لشکر اور شدت پسندوں کے مابین جھڑپیں بدھ کو چھٹے روز بھی جاری رہیں جن میں دونوں جانب سے جانی نقصان کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ یہ سبھی کارروائیاں اس امر کا ثبوت ہیں کہ نہ صرف جنوبی وزیرستان میں شدت پسند ایک بار پھر منظم ہو رہے ہیں بلکہ سرحد پار سے بھی ہمارے علاقوں پر حملوں میں شدت پیدا ہو گئی ہے اور ایسے حملوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔

اس سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ سرحد کے دونوں اطراف شدت پسندوں کے ایک دوسرے کے ساتھ رابطے ہیں اور وہ غالباً ایک دوسرے کی مشاورت سے منظم کارروائیاں کرتے ہیں۔ ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گردی اور پاکستان کے سرحدی علاقوں پر شرپسندوں کے حملوں میں حالیہ دنوں میں جو اضافہ مشاہدے میں آ رہا ہے اس کی ایک وجہ شمالی وزیرستان میں ممکنہ مشترکہ فوجی کارروائی کی وہ افواہوں پر مبنی خبریں ہو سکتی ہیں جو غیرملکی خاص طور پر امریکی پرنٹ میڈیا میں پیش کی گئیں اور جن کی تردید کرتے ہوئے ہماری قیادت نے واضح کیا کہ ایسا کوئی مشترکہ آپریشن ممکن نہیں ہے اور یہ کہ اگر ایسا کوئی آپریشن کرنے کی ضرورت پیش آئی تو اس میں کسی کی مدد نہیں لی جائے گی کیونکہ پاکستانی افواج اور سیکیورٹی فورسز ہر طرح کے حالات اور صورتحال سے نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں اور انھیں اس سلسلے میں کسی ڈکٹیشن یا مدد کی ضرورت نہیں ہے۔


بہرحال یہ بھی حقیقت ہے کہ سرحد پار سے دہشت گردوں کے پاکستانی علاقوں پر حملے افواہوں پر مبنی ان خبروں کے پھیلائے جانے سے پہلے سے جاری ہیں اور یہ کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان کی حکومت اور امریکی انتظامیہ کی توجہ ان حملوں کی طرف کئی بار مبذول کرائی جا چکی ہے لیکن یہ کوششیں لاحاصل رہیں کیونکہ کرزئی یا امریکی انتظامیہ کی جانب سے اس شرپسندی کو روکنے کے سلسلے میں تاحال کوئی ٹھوس اقدام عمل میں نہیں لایا گیا جبکہ یہ واضح ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں پاکستان اور افغانستان کے مابین مسائل بڑھانے کا باعث بن سکتی ہیں۔

صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی ایک بار پھر اسی جانب توجہ مبذول کرائی ہے۔ بدھ کو مائیکل گاہلر کی قیادت میں یورپی پارلیمنٹ کے وفد نے ایوان صدر میں سربراہ مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کی جس میں کئی ایشوز پر بات چیت کی گئی۔ صدر نے وفد کو بتایا کہ سرحد پار سے پاک فوج پر حملے باعث تشویش ہیں، دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ختم کرنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔ پاکستان کے بار بار توجہ مبذول کرانے کے باوجود افغان انتظامیہ کی جانب سے ان حملوں کا مناسب نوٹس نہ لینا ظاہر کرتا ہے کہ وہ ان حملوں کی حقیقت سے آگاہ ہے اور جان بوجھ کر ان کے سدباب کے لیے کچھ نہیں کیا جا رہا تاکہ پاکستان کو زیادہ سے زیادہ تنگ کیا جا سکے لیکن ایسا کرتے ہوئے وہ شاید یہ بھول جاتی ہے کہ تنگ آمد بجنگ آمد کا باعث بنتا ہے۔

دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ حالات واقعی صدر کرزئی کے اختیار سے باہر ہیں اور ان کو کنٹرول کرنا ان کے بس میں نہیں ہے۔ دوسرا سبب زیادہ قرین قیاس لگتا ہے لیکن پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نیٹو فورسز آخر کس مرض کی دوا ہیں اور اگر وہ افغانستان میں پائیدار امن ہی قائم کرنے کے قابل نہیں ہیں تو وہ گزشتہ دس گیارہ برسوں سے افغانستان میں کیا جھک مار رہی ہیں۔ اس زمینی حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ حالات بہت زیادہ گمبھیر ہیں کیونکہ ایک ایسے وقت پر شدت پسندوں کا زور پکڑنا تشویشناک ہے جب امریکا افغانستان سے رخصت ہونے کی تیاریوں میں ہے کیونکہ یہ واضح ہے کہ ان فورسز کے افغانستان سے نکلتے ہی شدت پسند ایک بار پھر چھا جائیں گے اور حالات نائن الیون سے بھی بدتر ہو جائیں گے۔

حالات کا تقاضا ہے کہ اتحادی فورسز اپنی رخصتی سے قبل نہ صرف افغان سیکیورٹی فورسز کو زیادہ سے زیادہ منظم و مضبوط بنائیں بلکہ وہاں موجود انتہا پسندوں و شدت پسندوں کا زور توڑنے کے لیے بھی مربوط لائحہ عمل وضع کریں بصورت دیگر آنے والے وقت میں اس خطے کے حالات زیادہ تکلیف دہ بھی ہو سکتے ہیں۔ اس حوالے سے مناسب صورت یہی نظر آتی ہے کہ پاکستان' افغانستان اور امریکی و اتحادی فورسز کے حکام مل بیٹھیں اور دہشت گردی کے خلاف کئی برسوں سے جاری جنگ کو کسی منطقی انجام تک پہنچانے کی منصوبہ بندی کریں اور پھر اس منصوبہ بندی کے تحت منظم کارروائی کی جائے۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہو گی کہ افغانستان کو غیریقینی حالات کے سپرد کرنا آنے والے برسوں میں ان کے ایک بار پھر افغانستان آنے پر مجبور ہونے کا باعث بن سکتا ہے۔
Load Next Story