صوبوں کی تقسیم کا ایشو

نئے صوبوں پر صوبائی سطح پر بات چیت کے بجائے وفاق کی جانب سے کمیشن...

وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے صوبوں کی تقسیم کے معاملے پر کہا ہے کہ پنجاب کے عوام سے دشمنی پر تلی ہوئی بعض طاقتیں صوبے کی تقسیم کے نام پر پنجاب کے مفادات کا سودا کرنا چاہتی ہی۔ فوٹو: فائل

اگرچہ ماضی قریب میں تقریباً سبھی سیاسی جماعتیں نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کرتی رہیں لیکن اب جبکہ اس سلسلے میں کچھ عملی اقدامات شروع ہوئے ہیں تو ایک ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔ پنجاب اسمبلی نے نئے صوبوں کے قیام کے لیے بنائے گئے کمیشن کو ملکی سالمیت کے خلاف قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر ختم کرنے کی قرارداد منظور کر لی ہے، اجلاس میں مسلسل تیسرے روز بدترین ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی، بدھ کو نعرے بازی، سپیکر کے گھیرائو اور مارکٹائی کے بعد اجلاس غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی کی طرف سے کمیشن کے لیے دو نام نہ دیے جانے پر اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اسپیکر کا گھیرائو کیا اور ریکارڈنگ اور مائیک سسٹم کو اکھاڑ دیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کہا ہے کہ پنجاب کے عوام سے دشمنی پر تلی ہوئی بعض طاقتیں صوبے کی تقسیم کے نام پر پنجاب کے مفادات کا سودا کرنا چاہتی ہیں۔


پہلی بات یہ ہے کہ ایک ایسے موقع پر جب نئے انتخابات کے لیے فضا ہموار ہو رہی ہے اور کئی معاملات حکومت اور اپوزیشن کے اتفاق رائے سے طے ہو رہے ہیں اس نان ایشو کو اتنی سرعت کے ساتھ اٹھانے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ پھر اگر اس حوالے سے ایک کمیشن تشکیل دیا گیا تو اس میں صرف پنجاب کی تقسیم کا مینڈیٹ دیا گیا حالانکہ خیبر پختونخوا میں صوبہ ہزارہ کی تحریک بھی موجود ہے، یہ صورتحال یقیناً اچھی نہیں ہے۔ دیگر معاملات و ایشوز کی طرح اگر اپوزیشن کی حمایت و تائید حاصل کر لی جاتی تو نئے صوبوں کے قیام کے ایشو کو بھی اتفاق رائے سے حل کیا جا سکتا تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے ایک ہنگامہ آرائی کی کیفیت پیدا ہوئی جو ظاہر ہے کہ خوش آئند نہیں ہے۔ جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے یہ بات بالکل درست کہی ہے کہ نئے صوبوں پر صوبائی سطح پر بات چیت کے بجائے وفاق کی جانب سے کمیشن بنانا عجیب ہے۔

بلوچستان کے وزیر اعلیٰ اسلم رئیسانی نے بھی نئے صوبوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے ، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی فیصل کریم کنڈی ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک کو مجوزہ جنوبی پنجاب صوبہ میں شامل کرانا چاہتے ہیں، اس پر بھی غور نہیں کیا گیا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ چونکہ صوبوں کی تقسیم کا معاملہ صوبوں سے متعلق ہے اس لیے ان کی مرضی اور مشاورت کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کیا جائے اور اس سلسلے میں پہلا اقدام اس حوالے سے قائم کیے گئے کمیشن کے معاملے میں صوبوں کی رائے اور ہم آہنگی حاصل کرنا ہونا چاہیے اور دوسری سب سے اہم بات یہ ہے کہ تقسیم کے اس عمل کو محض کسی ایک صوبے تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ موجودہ اور مستقبل کی انتظامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے چاروں صوبوں میں ایسی تقسیم کے امکانات کا جائزہ لیا جانا چاہئے۔ اس حوالے سے یہ بات ہر دم یاد رکھی جانی چاہیے کہ تقسیم صرف اور صرف انتظامی حوالوں سے ہونی چاہیے کسی بھی دیگر بنیاد پر نہیں۔
Load Next Story