سول اسپتال میں بلوچستان کے زلزلہ متاثرین کو علاج میں دشواریوں کا سامنا
لفٹ کی خرابی سے مریضوں کو اسٹریچر پر شفٹ کیا گیا،کھانا اور پینے کا صاف پانی میسر نہیں
نیوروسرجری یونٹ کے لفٹ کی خرابی سے دیگر مریض بھی مشکلات کا شکار ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس:فائل
بلوچستان میں زلزلے کے متاثرین کوکراچی کے سول اسپتال میں منتقل کردیا گیا ۔
جہاں زخمیوں کو علاج میں دشواریوں کا سامنا ہے،سول اسپتال انتظامیہ نے شعبہ امراض چشم میں زلزلہ متاثرین کیلیے 20 بستروں کا خصوصی یونٹ قائم کیا ہے،اسپتال کی لفٹ خراب ہونے سے متاثرین زلزلہ کی وارڈ منتقلی میں دشواریوںکاسامنا ہے، بلوچستان میں زلزلے سے شدید زخمی ہونے والے15 افراد کو سول اسپتال منتقل کیا گیا ہے، اسپتال انتظامیہ نے زخمیوں کیلیے20 بستروں کا خصوصی یونٹ بنایا ہے جہاں علاج کی سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں،متاثرین کے اہلخانہ نے بتایا ہے کہ اسپتال میں لفٹ کی خرابی سے شدید زخمی مریضوں کو اسٹریچر پرلٹاکر یونٹ منتقل کیاگیا ہے۔
اسپتال کے انتظامی افسر نے بتایاکہ نیوروسرجری یونٹ کے لفٹ کی خرابی سے دیگر مریض بھی مشکلات کا شکار ہیں،ایک شدید زخمی مریضہ کے بھائی نے بتایا کہ میرے ساتھ بلوچستان سے کوئی نہیں آیا لفٹ خراب ہونے سے مریضہ کو منتقلی میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا ہم مجبوری میں سول اسپتال آئے ہیں ۔
اگر رقم ہوتی تو نجی اسپتال سے علاج کراتے دیگر متاثرین نے بھی سول اسپتال انتظامیہ کے رویے کی شکایات کی، اسپتال میں دوائیں باہر سے منگوائی جارہی ہیں جبکہ کھانے کا بھی مناسب انتظام نہیں اسپتال میں گندگی غلاظت ہے پینے کا صاف پانی میسر نہیں،اسپتال کے انتظامی سربراہ پروفیسر سعید قریشی کا کہنا تھا کہ مریضوں کوعلاج کی سہولتیں فراہم کررہے ہیں یہاں آنیوالاہر مریض وی وی آئی پی سہولت مانگتا ہے۔
جہاں زخمیوں کو علاج میں دشواریوں کا سامنا ہے،سول اسپتال انتظامیہ نے شعبہ امراض چشم میں زلزلہ متاثرین کیلیے 20 بستروں کا خصوصی یونٹ قائم کیا ہے،اسپتال کی لفٹ خراب ہونے سے متاثرین زلزلہ کی وارڈ منتقلی میں دشواریوںکاسامنا ہے، بلوچستان میں زلزلے سے شدید زخمی ہونے والے15 افراد کو سول اسپتال منتقل کیا گیا ہے، اسپتال انتظامیہ نے زخمیوں کیلیے20 بستروں کا خصوصی یونٹ بنایا ہے جہاں علاج کی سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں،متاثرین کے اہلخانہ نے بتایا ہے کہ اسپتال میں لفٹ کی خرابی سے شدید زخمی مریضوں کو اسٹریچر پرلٹاکر یونٹ منتقل کیاگیا ہے۔
اسپتال کے انتظامی افسر نے بتایاکہ نیوروسرجری یونٹ کے لفٹ کی خرابی سے دیگر مریض بھی مشکلات کا شکار ہیں،ایک شدید زخمی مریضہ کے بھائی نے بتایا کہ میرے ساتھ بلوچستان سے کوئی نہیں آیا لفٹ خراب ہونے سے مریضہ کو منتقلی میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا ہم مجبوری میں سول اسپتال آئے ہیں ۔
اگر رقم ہوتی تو نجی اسپتال سے علاج کراتے دیگر متاثرین نے بھی سول اسپتال انتظامیہ کے رویے کی شکایات کی، اسپتال میں دوائیں باہر سے منگوائی جارہی ہیں جبکہ کھانے کا بھی مناسب انتظام نہیں اسپتال میں گندگی غلاظت ہے پینے کا صاف پانی میسر نہیں،اسپتال کے انتظامی سربراہ پروفیسر سعید قریشی کا کہنا تھا کہ مریضوں کوعلاج کی سہولتیں فراہم کررہے ہیں یہاں آنیوالاہر مریض وی وی آئی پی سہولت مانگتا ہے۔