ٹارگٹڈ آپریشن کے باوجود مختصر مدت کے اغوا کی وارداتیں بڑھ گئیں
کراچی نیورسٹی کے قریب ملزمان نے بینک افسر سے قیمتی موبائل فون اور نقدی لوٹنے کے بعد ڈھائی گھنٹے تک یرغمال بنائے رکھا
شہر میں مختصر مدت کیلیے اغوا کی بڑھتی ہوئی وارداتوں نے شہریوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا ہے۔ فوٹو : فائل
شہر میں رینجرز اور پولیس کے ٹارگٹڈ آپریشن اور چھاپہ مار کارروائیوں کے باوجود مختصر مدت کے اغوا کی وارداتوں میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوگیا۔
وارداتوں سے شہریوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے،ایسا ہی ایک واقعہ سچل تھانے کی علاقے میں پیش آیا جہاں موٹر سائیکل اور کار سوار ملزمان نے نجی بینک کے افسر کو سر راہ روک کر کار سمیت اغوا کرلیا اور ڈھائی گھنٹے تک مختلف علاقوں میں گھماتے رہے، تفصیلات کے مطابق نیو رضویہ سوسائٹی کے رہائشی نجی بینک کے افسر حسب معمول کام پر جا رہے تھے کہ کراچی یونیورسٹی کے قریب موٹر سائیکل پر سوار2ملزمان نے ان کی کار کے سامنے آکر اسلحے کے زور پر دروازہ کھلوایا۔
جس میں سے ایک ملزم کار میں سوار ہوگیا اور وہاں سے گلستان جوہر کامران چورنگی تک لے جایا گیا اور بعدازاں کار سوار ملزمان نے انھیں اپنی گاڑی میں بٹھا کر آنکھوں پر پٹی باندھی دی، اس دوران ملزمان نے ان پر تشدد بھی کیا، ملزمان نے بینک افسر سے2 قیمتی موبائل فون اور جیب میں موجود7ہزار روپے قبضے میں لینے کے بعد بٹوے میں موجود2کریڈٹ کارڈز کی مدد سے اے ٹی ایم مشین سے70ہزار روپے نکلوانے کے بعد مختلف شاہراہوں پر گھماتے رہے اور تقریباً ڈھائی گھنٹے تک یرغمال بنانے کے بعد مغوی کو دوبارہ ان کی کار میں منتقل کیا اور جبکہ ان کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔
ملزمان نے انھیں ایک مقام پر چھوڑنے کے بعد دھمکی دی کہ وہ 10منٹ کے بعد پٹی کھولے اور جب مغوی بینک افسر نے پٹی کھولی تو اس نے خود کو ملیر کینٹ کے قریب پایا،مغوی بینک افسر نے سچل تھانے میں واقعے کی ابتدائی رپورٹ درج کرا دی، ان کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی روڈ پر شیخ زید اسلامک سینٹر کے قریب سڑک پر گڑھوں کی وجہ سے ان کی کار جب آہستہ ہوئی تو موٹر سائیکل پر سوار2ملزمان جس میں ایک نے ہیلمٹ پہنا ہوا تھا سامنے آگئے جس پر وہ سمجھے کہ انھیں اسٹریٹ کریمنلز سے سامنا ہوگیا، انھوں نے بتایا کہ ملزمان کی کل تعداد5تھی جس میں2موٹر سائیکل پر سوار جبکہ3کار میں سوار تھے۔
بینک افسر کا کہنا تھا کہ انھیں شبہ ہے کہ اے ٹی ایم مشین میں نقدی نکلوانے وہی ملزم گیا تھا جس نے ہیلمٹ پہنا ہوا تھا تاکہ وہاں پر نصب کیمرا ریکارڈنگ میں اگر وہ محفوظ ہو بھی جائے تو اس کی شناخت نہ ہو سکے، شہر میں مختصر مدت کیلیے اغوا کی بڑھتی ہوئی وارداتوں نے شہریوں کو نہ صرف خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا ہے۔
وارداتوں سے شہریوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے،ایسا ہی ایک واقعہ سچل تھانے کی علاقے میں پیش آیا جہاں موٹر سائیکل اور کار سوار ملزمان نے نجی بینک کے افسر کو سر راہ روک کر کار سمیت اغوا کرلیا اور ڈھائی گھنٹے تک مختلف علاقوں میں گھماتے رہے، تفصیلات کے مطابق نیو رضویہ سوسائٹی کے رہائشی نجی بینک کے افسر حسب معمول کام پر جا رہے تھے کہ کراچی یونیورسٹی کے قریب موٹر سائیکل پر سوار2ملزمان نے ان کی کار کے سامنے آکر اسلحے کے زور پر دروازہ کھلوایا۔
جس میں سے ایک ملزم کار میں سوار ہوگیا اور وہاں سے گلستان جوہر کامران چورنگی تک لے جایا گیا اور بعدازاں کار سوار ملزمان نے انھیں اپنی گاڑی میں بٹھا کر آنکھوں پر پٹی باندھی دی، اس دوران ملزمان نے ان پر تشدد بھی کیا، ملزمان نے بینک افسر سے2 قیمتی موبائل فون اور جیب میں موجود7ہزار روپے قبضے میں لینے کے بعد بٹوے میں موجود2کریڈٹ کارڈز کی مدد سے اے ٹی ایم مشین سے70ہزار روپے نکلوانے کے بعد مختلف شاہراہوں پر گھماتے رہے اور تقریباً ڈھائی گھنٹے تک یرغمال بنانے کے بعد مغوی کو دوبارہ ان کی کار میں منتقل کیا اور جبکہ ان کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔
ملزمان نے انھیں ایک مقام پر چھوڑنے کے بعد دھمکی دی کہ وہ 10منٹ کے بعد پٹی کھولے اور جب مغوی بینک افسر نے پٹی کھولی تو اس نے خود کو ملیر کینٹ کے قریب پایا،مغوی بینک افسر نے سچل تھانے میں واقعے کی ابتدائی رپورٹ درج کرا دی، ان کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی روڈ پر شیخ زید اسلامک سینٹر کے قریب سڑک پر گڑھوں کی وجہ سے ان کی کار جب آہستہ ہوئی تو موٹر سائیکل پر سوار2ملزمان جس میں ایک نے ہیلمٹ پہنا ہوا تھا سامنے آگئے جس پر وہ سمجھے کہ انھیں اسٹریٹ کریمنلز سے سامنا ہوگیا، انھوں نے بتایا کہ ملزمان کی کل تعداد5تھی جس میں2موٹر سائیکل پر سوار جبکہ3کار میں سوار تھے۔
بینک افسر کا کہنا تھا کہ انھیں شبہ ہے کہ اے ٹی ایم مشین میں نقدی نکلوانے وہی ملزم گیا تھا جس نے ہیلمٹ پہنا ہوا تھا تاکہ وہاں پر نصب کیمرا ریکارڈنگ میں اگر وہ محفوظ ہو بھی جائے تو اس کی شناخت نہ ہو سکے، شہر میں مختصر مدت کیلیے اغوا کی بڑھتی ہوئی وارداتوں نے شہریوں کو نہ صرف خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا ہے۔