شام عراقی قونصلیٹ پر باغیوں کا مارٹر حملہ خاتون سفارتکار جاں بحق

قونصلیٹ کے3 اہلکار بھی زخمی، لڑائی کے دوران صومالیہ نژاد کینیڈین القاعدہ جنگجو علی محمد دائری بھی مارا گیا

10ہزار کے قریب غیر ملکی جنگجو شام کے باغیوں کے ساتھ شامل ہوچکے ہیں، عراق۔فوٹو: اے پی/فائل

لاہور:
شام کے دارالحکومت دمشق میں باغیوں کی طرف سے فائر کیا جانے والا مارٹر گولہ عراقی قونصلیٹ پر گرنے کے نتیجے میں ایک عراقی خاتون سفارت کار جاں بحق ہو گئی۔

شام کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق واقعے میں عراقی قونصلیٹ کے 3 اہلکار زخمی بھی ہوئے۔ عراق کے وزیر خارجہ ہوشیار زبیری نے اپنے ایک بیان میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ شامی باغیوں کو سپلائی کیے جانے والے بیرونی ہتھیار انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں جس کے نتیجے میں ملک میں صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے، 10ہزار کے قریب غیر ملکی جنگجو شام کے باغیوں کے ساتھ شامل ہوچکے ہیں، شامی باغیوں کو جو بیرونی ہتھیار فراہم کیے جارہے ہیں وہ جہادی گروپوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں ، بیرونی ممالک کو چاہیے کہ وہ شامی باغیوں کو ہتھیاروں کی سپلائی بند کردیں۔




صومالیہ نژاد کینیڈین القاعدہ جنگجو علی محمد دائری بھی شام میں مارا گیا ہے ، دائری پر کینیڈا کی پارلیمنٹ پر حملے کی منصوبہ بندی کا بھی الزام تھا اور وہ ہتھیاروں کی اسمگلنگ پر جیل بھی بھگت چکا تھا اور 2011 میں رہائی کے بعد کینیڈا کو چھوڑ دیا تھا اور شام میں آکر باغیوں سے مل گیا تھا۔ ادھر نیویارک میں عالمی طاقتیں شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کی قرارداد کے مسودے پر متفق ہو گئی ہیں، اقوام متحدہ میں تعینات سفیروں کے مطابق قرارداد میں کیمیائی ہتھیار تلف کرنے میں ناکامی کی صورت میں شام پر پابندیاں عائد کرنے کی تجویز ہے، یہ پابندیاں اقوام متحدہ کے چارٹر کے 7ویں باب کے تحت عائد کی جائیں گی۔

دریں اثنا گزشتہ روز عالمی معائنہ کار دمشق پہنچ گئے۔وینز ویلا کے ایک ٹی وی انٹرویو میں صدر بشار الاسد نے کہا کہ وہ امریکا اور روس میں ہونے والے سمجھوتے پر قائم ہیں اور اس ڈیل پر مکمل تعاون کریں گے۔انھوں نے کہا کہ ''وہ ایسی کوئی رکاوٹ نہیں دیکھ رہے'' منصوبے کے مطابق دمشق حکومت اپنے کیمیائی ہتھیاروں سے دستبردار ہو جائے گی۔ دمشق نے کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق مطلوبہ معلومات انسداد کیمیائی ہتھیار تنظیم کو بھیجنا شروع کردی ہیں جبکہ ماہرین کی ٹیم بھی یہاں موجود ہے جو ان ہتھیاروں کے اسٹیٹس کو جانچیں گے۔ شامی صدر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ دہشتگرد معائنہ کاروں کے کام میں رکاوٹ پیدا کرسکتے ہیں، حکومت ایسے حملوں کیخلاف لڑے گی۔
Load Next Story