مغربی یورپ کی بلند ترین چوٹی ’’ماؤنٹ بلانک‘‘ سے قیمتی پھتروں سے بھرا صندوق برآمد
صندوق میں موجود قيمتی پتھروں كی كل ماليت 2لاکھ 64000 یورو ہے اوراس پر ’’میڈان انڈیا‘‘ تحریرہے
فرانس كے قوانين كے مطابق جس شخص كو خزانہ ملتا ہے وہ يہ خزانہ اپنے پاس ركھ سكتا ہے بشرطیکہ اس خزانے كے مالک يا اس كے وارثوں كا پتہ معلوم نہ كيا جا سكے، فوٹو اے ایف پی
فرانسیسی کوہ پیما نے مغربی یورپ کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ بلانک پر زمرد، نيلم اور لعل جيسے قيمتی پتھروں سے بھرا صندوق برآمد کیا ہے۔
كوہ پيما نے صندوق پوليس كے حوالے كر ديا ہے، صندوق میں موجود قيمتی پتھروں كی كل ماليت 2لاکھ 46000 يورو ہے، فرانسيسی پوليس كے مطابق یہ بات معلوم کرنا آسان ہے کہ پہاڑ کی چوٹی پر قيمتی پتھر كہاں سے آئے تھے كيونكہ اس قيمتی پتھروں كے پيكٹوں پر "ميڈ ان انڈيا" تحریر ہے اورایک اندازے کے مطابق یہ صندوق 50سال پرانا ہے۔
فرانس كے قوانين كے مطابق جس شخص كو خزانہ ملتا ہے وہ يہ خزانہ اپنے پاس ركھ سكتا ہے بشرطیکہ اس خزانے كے مالک يا اس كے وارثوں كا پتہ معلوم نہ كيا جا سكے، تاہم فرانس كے حكام بھارت كے ساتھ رابطہ قائم كركے قيمتی پھتروں كے مالک كے بارے ميں معلومات حاصل كرنے كے ليے كوشاں ہيں ۔
واضح رہے كہ سن 1950 اور سن 1966 ميں مونٹ بلانک چوٹی پر ہندوستان كی فضائی كمپنی ائير انڈيا كے 2 طيارے گر كر تباہ ہوئے تھے، جس کی وجہ سے اس علاقے ميں انسانی ميتيں، مسافروں كی اشيا كی باقيات اور طياروں كے پرزے آج بھی موجود ہيں۔
كوہ پيما نے صندوق پوليس كے حوالے كر ديا ہے، صندوق میں موجود قيمتی پتھروں كی كل ماليت 2لاکھ 46000 يورو ہے، فرانسيسی پوليس كے مطابق یہ بات معلوم کرنا آسان ہے کہ پہاڑ کی چوٹی پر قيمتی پتھر كہاں سے آئے تھے كيونكہ اس قيمتی پتھروں كے پيكٹوں پر "ميڈ ان انڈيا" تحریر ہے اورایک اندازے کے مطابق یہ صندوق 50سال پرانا ہے۔
فرانس كے قوانين كے مطابق جس شخص كو خزانہ ملتا ہے وہ يہ خزانہ اپنے پاس ركھ سكتا ہے بشرطیکہ اس خزانے كے مالک يا اس كے وارثوں كا پتہ معلوم نہ كيا جا سكے، تاہم فرانس كے حكام بھارت كے ساتھ رابطہ قائم كركے قيمتی پھتروں كے مالک كے بارے ميں معلومات حاصل كرنے كے ليے كوشاں ہيں ۔
واضح رہے كہ سن 1950 اور سن 1966 ميں مونٹ بلانک چوٹی پر ہندوستان كی فضائی كمپنی ائير انڈيا كے 2 طيارے گر كر تباہ ہوئے تھے، جس کی وجہ سے اس علاقے ميں انسانی ميتيں، مسافروں كی اشيا كی باقيات اور طياروں كے پرزے آج بھی موجود ہيں۔