کالا باغ سے لالٹین تک

انھوں نے ایک تجویز دی ہے کہ صوبہ خیبر میں اس سوال پر ریفرنڈم کرایا جائے۔

Abdulqhasan@hotmail.com

کالا باغ ڈیم کا ذکر ہو تو یوں لگتا ہے جیسے یہ پاکستان سے بھی پہلے کے کسی منصوبے کا ذکر ہے کیونکہ دریائے سندھ پر بنائے جانے والے اس مجوزہ بند کا ذکر اس قدر مسلسل اور تواتر سے کیا گیا ہے کہ یہ اپنی مثال آپ ہے، کوئی دوسرا منصوبہ اتنی اہمیت حاصل نہیں کر سکا۔ کالا باغ بند کے سب سے زیادہ مخالف صوبے خیبر پختونخوا کے ایک رہائشی محترم و مکرم جناب شمس الملک جو واپڈا کے چیئرمین بھی رہے ہیں، لاہور میں ایک تقریب میں اپنی یہ بات پھر دہرائی ہے کہ اس بند سے سب سے زیادہ فائدہ صوبے خیبر پی کے کو ہو گا۔ شمس الملک پانی کی سائنس کے ایک بہت بڑے عالمی سطح کے عالم سمجھے جاتے ہیں جو ایک سیاسی پانی میں پھنس گئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر یہ بند ہوتا تو بجلی کی قیمت صرف نو پیسے فی یونٹ ہوتی۔ اس ڈیم سے صوبے خیبر کا جو علاقہ زیر آب آئے گا شمس الملک کا گھر بھی اسی علاقے میں ہے لیکن اس نسل در نسل پٹھان کو ایک سچے پاکستانی کی طرح صرف پاکستان یاد رہتا ہے۔

انھوں نے ایک تجویز دی ہے کہ صوبہ خیبر میں اس سوال پر ریفرنڈم کرایا جائے۔ اگر اس صوبے میں صرف پانچ فی صد ووٹ لینے والی پارٹی اس ڈیم کے خلاف ہے تو اس کا واحد حل ریفرنڈم ہی ہے۔ جب انگریزوں نے برصغیر کو آزادی دی تو اس صوبے میں ریفرنڈم کرایاکہ وہ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتا ہے یا بھارت کے ساتھ۔ اسی طرح کا ریفرنڈم کالا باغ کے سوال پر بھی کرایا جا سکتا ہے۔ پانی زندگی ہے اور اس ڈیم کا سب سے بڑا فائدہ صوبہ خیبر کو ہو گا۔ کون نہیں جانتا کہ کالا باغ ڈیم کی بھارت کی شہ پر مخالفت کی جا رہی ہے، اس لیے کہ یہ پاکستان کی ترقی و خوشحالی کا سب سے بڑا منصوبہ ہے لیکن سیاست میں جس طرح برادریوں کو ذریعہ ووٹ سمجھ لیا جاتا ہے اسی طرح علاقائی برادریوں کو بھی سیاست کا ایک حربہ سمجھا جاتا ہے۔ مثلاً مرحوم محترم ولی خان نے ایک بار شمس الملک سے شکایت کی کہ تم پٹھان ہو کر کالا باغ کی حمایت کرتے ہو تو انھوں نے جواب دیا کہ میں کیا کروں یہ منصوبہ پٹھانوں کے بھی حق میں مفید ہے۔ جناب شمس الملک برسوں سے چیخ و پکار کر رہے ہیں لیکن سیاسی ضرورتیں ان کو کامیاب نہیں ہونے دیتیں۔


اس سوال پر سب سے خوبصورت تقریر اور بریفنگ میرے ناپسندیدہ حکمران جناب جنرل پرویز مشرف نے دی تھی۔ اقتدار میں آنے کے جلد ہی بعد انھوں نے اندرون سندھ غالباً سکھر میں سندھی صحافیوں کو بلایا اور ان کے سامنے کالا باغ کے منصوبے کو تفصیل کے ساتھ پیش کیا اور پھر اس پر سوال و جواب کی محفل شروع کی۔ جنرل کے پاس ہر اعتراض کا جواب تھا، وہ کسی بھی موضوع پر مکمل تیاری کے بعد بات کرتے ہیں۔ یہ بریفنگ ٹی وی پر نشر کی گئی، میں نے پوری سنی اور جب آخر میں جنرل نے کہا کہ اور کوئی سوال تو ایک صحافی نے لاجواب ہونے کے باوجود اٹھ کر کہا کہ پھر بھی نامنظور اور اس پر یہ بریفنگ ختم ہو گئی۔ میں کئی بار عرض کر چکا ہوں کہ یہ بریفنگ ایک بار پھر نشر کی جائے۔ ایسی مدلل گفتگو میں نے نہیں سنی،کالا باغ ڈیم کے حق میں اس سے بہتر بات نہیں ہو سکتی لیکن اس جنرل کے ساتھ سیاسی اختلافات یا اس ڈیم کے مخالفوں کی خوشنودی کے لیے یہ نوبت نہیں آ سکی البتہ کالا باغ پر بے معنی بیانات کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔

اب یہ صرف بیانات کا سلسلہ لوگوں کو بے وقوف بنانے کے لیے ہے۔ حیرت ہے کہ کسی حکمران کے دل میں ملک کے اتنے بڑے مفاد کی کوئی پروا نہیں البتہ صرف بجلی مہنگی کرنے کی فکر ہے اور اب چند ہی دنوں میں بجلی کے نئے نرخ پاگل کرنے کے لیے کافی ہوں گے یعنی عوام کو پاگل کرنے کے لیے کیونکہ خواص کے لیے ضروریات کے ایسے اضافے کوئی بات نہیں ہیں۔ ایک لیڈر نے بیان دیا ہے کہ لوگ لالٹین خرید لیں۔ اول تو اتنی لالٹینیں کہاں سے ملیں گی، پھر ان کے لیے مٹی کا تیل کیا مفت ملے گا یا اس کے لیے مزید بھتہ خوری شروع کرنی ہو گی، پنجاب وغیرہ میں کبھی جگا ٹیکس نام کا بھتہ ہوتا تھا جو محلے علاقے کا بدمعاش دکانداروں سے وصول کرتا تھا اور اس کے عوض انھیں تحفظ بھی دیتا تھا۔ اب یہ نیا غنڈہ ٹیکس کراچی سے آیا ہے۔ یہاں پنجاب میں تو ایک جگا نامی ڈاکو ہوتا تھا، کراچی میں جو ڈاکوہیں، ان کا نام لیتے ہوئے ڈر لگتا ہے مگر اب تو ایسے جگا ڈاکو لاتعداد ہیں جو پنجاب اور لاہور میں بھی پہنچ چکے ہیں اور راولپنڈی میں بھی۔ اگر غریبی اور مہنگائی دونوں ساتھ ساتھ چلتی رہیں تو ہر طاقت ور جگا ہو گا اور وہ آنکھیں بند کر کے ٹیکس لے گا جیسے اب عزیزوں رشتوں داروں کو بھی نشانہ بنا دیا گیا ہے۔ یہ سلسلہ جاری ہے اور ہمارے حکمران کہاں ہیں، ان کا کچھ پتہ نہیں۔ لوگوں نے ملک کے لیے نئے خطروں کی باتیں شروع کر دی ہیں۔
Load Next Story