صنعتکاری کیلیے جامع منصوبہ بندی کرلی شرجیل انعام
بیمارصنعتوں کیلیے2 ارب،سائٹ کاانفرااسٹرکچربہتربنانے کیلیے40 کروڑ مختص کردیے
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کی عوام کوروزگار فراہم کرنے کے لیے صنعتکاروں اورسرمایہ کاروں کی جانب سے دی جانے والی تجاویزات پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائیگا۔ فوٹو: محمد نعمان / ایکسپریس
صوبائی وزیراطلاعات وصنعت شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ حکومت سندھ نے سندھ میں صنعت کاری وسرمایہ کاری کے فروغ کے لیے جامع منصوبہ بندی کرلی ہے، سندھ میں بیمارصنعتوں کی بحالی کے لیے2 ارب روپے اورسائٹ صنعتی علاقے کے انفرااسٹرکچر کو بہتربنانے کے لیے 40 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں اوریہ فنڈوزیراعلی سندھ کی جانب سے فراہم کیے جائیں گے۔
یہ بات انہوں نے گزشتہ شب کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر میاں زاہد حسین کی جانب سے کراچی یونین آف جرنلسٹ کے عہدیداروں کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے سے خطاب کے دوران کہی۔ اس موقع پر تاجربرادری کے سربراہ ایس ایم منیر،فرحان الرحمن اورمیاں زاہدحسین، کے یوجے کے صدرجی ایم جمالی، نائب صدررفیق بشیر نے بھی خطاب کیا۔ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کے فروغ کے لیے صحافیوں کی قربانیوں کو کھبی بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا، انہوں نے کہا کہ سندھ کی عوام کوروزگار فراہم کرنے کے لیے صنعتکاروں اورسرمایہ کاروں کی جانب سے دی جانے والی تجاویزات پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائیگا، ماضی اورموجودہ حکومت کو درپیش چیلنجوں کے لیے پوری سوسائٹی کویکجاہوناپڑیگا کیونکہ پاکستان اب مزید کشیدگی برداشت نہیں کرسکتا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایس ایم منیر نے کہا کہ حکومت سندھ کی جانب سے امن وامان کی صورتحال کوبہتربنانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات قابل تحسین ہیں اگر کراچی میں امن قائم ہوجائے تو صنعتوں کا جال دوبارہ بچھنا شروع ہوجائے گااور بند صنعتوں کی بحالی ممکن ہے، انہوں نے کہا کہ تاجربرادری وزیراعظم نوازشریف کاہاتھ مضبوط کرناچاہتی ہے لیکن پاورٹیرف میں حالیہ اضافہ کسی طورقبول نہیں ہے کیونکہ صعنتی شعبے کے صرف بجلی کے بلوں کے اخراجات76 فیصد بڑھ گئے ہیں اور زائد پیداواری لاگت کے ساتھ برآمدی صنعتوں کی بقا خطرے میں پڑگئی ہے۔
جبکہ گھریلوصارفین کے ٹیرف میں بھی30 فیصد اضافہ کیا جارہا ہیلہٰذاپاورٹیرف مزید اضافہ صنعتوں کو تباہی سے دوچار کردیگا اور مہنگائی کاطوفان غریب عوام کی مشکلات میں اضافے کاسبب بنے گا جس سے افراط زرکی شرح سنگین حد تک پہنچ جائے گی۔ کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر میاں زاہد حسین نے کہا کہ تاجربرادری ،میڈیا اور حکومت ملکر ملک سے مہنگائی دورکرسکتی ہے۔ حکومتی عہدیداران ملک کے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورتی پہلو کواپناتے ہوئے ریونیو میں بھی اضافے کرسکتے ہیں اور معاشی ترقی کی راہ بھی ہموارکرسکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ تاجربرادری صدر ،وزیراعظم اور وفاقی وزیرخزانہ سے مطالبہ کرتی ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے پر نظرثانی کرتے ہوئے اضافے کے فیصلے کو فوری واپس لے۔
یہ بات انہوں نے گزشتہ شب کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر میاں زاہد حسین کی جانب سے کراچی یونین آف جرنلسٹ کے عہدیداروں کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے سے خطاب کے دوران کہی۔ اس موقع پر تاجربرادری کے سربراہ ایس ایم منیر،فرحان الرحمن اورمیاں زاہدحسین، کے یوجے کے صدرجی ایم جمالی، نائب صدررفیق بشیر نے بھی خطاب کیا۔ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کے فروغ کے لیے صحافیوں کی قربانیوں کو کھبی بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا، انہوں نے کہا کہ سندھ کی عوام کوروزگار فراہم کرنے کے لیے صنعتکاروں اورسرمایہ کاروں کی جانب سے دی جانے والی تجاویزات پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائیگا، ماضی اورموجودہ حکومت کو درپیش چیلنجوں کے لیے پوری سوسائٹی کویکجاہوناپڑیگا کیونکہ پاکستان اب مزید کشیدگی برداشت نہیں کرسکتا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایس ایم منیر نے کہا کہ حکومت سندھ کی جانب سے امن وامان کی صورتحال کوبہتربنانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات قابل تحسین ہیں اگر کراچی میں امن قائم ہوجائے تو صنعتوں کا جال دوبارہ بچھنا شروع ہوجائے گااور بند صنعتوں کی بحالی ممکن ہے، انہوں نے کہا کہ تاجربرادری وزیراعظم نوازشریف کاہاتھ مضبوط کرناچاہتی ہے لیکن پاورٹیرف میں حالیہ اضافہ کسی طورقبول نہیں ہے کیونکہ صعنتی شعبے کے صرف بجلی کے بلوں کے اخراجات76 فیصد بڑھ گئے ہیں اور زائد پیداواری لاگت کے ساتھ برآمدی صنعتوں کی بقا خطرے میں پڑگئی ہے۔
جبکہ گھریلوصارفین کے ٹیرف میں بھی30 فیصد اضافہ کیا جارہا ہیلہٰذاپاورٹیرف مزید اضافہ صنعتوں کو تباہی سے دوچار کردیگا اور مہنگائی کاطوفان غریب عوام کی مشکلات میں اضافے کاسبب بنے گا جس سے افراط زرکی شرح سنگین حد تک پہنچ جائے گی۔ کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر میاں زاہد حسین نے کہا کہ تاجربرادری ،میڈیا اور حکومت ملکر ملک سے مہنگائی دورکرسکتی ہے۔ حکومتی عہدیداران ملک کے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورتی پہلو کواپناتے ہوئے ریونیو میں بھی اضافے کرسکتے ہیں اور معاشی ترقی کی راہ بھی ہموارکرسکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ تاجربرادری صدر ،وزیراعظم اور وفاقی وزیرخزانہ سے مطالبہ کرتی ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے پر نظرثانی کرتے ہوئے اضافے کے فیصلے کو فوری واپس لے۔