ایس ای سی پی نے انشورنس ایکٹ2012میں ترامیم تجویزکردیں

مسودہ عوامی آراجاننے کیلیے جاری،19اکتوبرتک سفارشات فراہم کی جاسکتی ہیں

شراکت دار ان قوانین کے حوالے سے کمیشن کو 19اکتوبر تک رائے دے سکتے ہیں۔ فوٹو: فائل

سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے انشورنس انڈسٹری کے فروغ کیلیے 2002 کے انشورنس قوانین میں تبدیلی کی تجاویز دے دی ہیں جن کا مقصد انشورنس کمپنیوں کی استعداد کار کو بڑھانا اور ان کے مالی معاملات میں شفافیت لانا ہے۔

مجوزہ ترامیم گزٹ آف پاکستان کے ذریعے لوگوں کی آرا جاننے کے لیے جاری کی گئی ہیں، شراکت دار ان قوانین کے حوالے سے کمیشن کو 19اکتوبر تک رائے دے سکتے ہیں۔




جمعہ کو ایس ای سی پی کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق مجوزہ ترامیم کے ذریعے بروکرز کے لائسنس، اداشدہ سرمائے، اثاثہ جات کی قدر، رجسٹریشن اور تجدیدی فیس، قانونی ڈپازٹ کی ضروریات، پیشہ ور لوگوں کی انشورنس ضروریات اور انشورنس بروکرز کے ڈائریکٹرز وچیف ایگزیکٹوز کے لیے معیار جیسے امور کا احاطہ کیا گیا ہے۔ کمشنر انشورنس محمد آصف عارف نے امید ظاہر کی ہے کہ مجوزہ قوانین کے نفاذ سے انشورنس انڈسٹری کو فروغ حاصل ہو گا اور عوام الناس کے سرمائے کو بھی مناسب تحفظ میسر آئے گا۔
Load Next Story