پروفیسرپرقاتلانہ حملےکیخلاف سرکاری کالجوں میں ہڑتال

شہرمیں لاقانو نیت عروج پر پہنچ چکی، کوئی بھی محفوظ نہیں ہے،اساتذہ

جامعہ ملیہ کالج کے پروفیسر دلاور کے صا حب زادے کو بھی اغوا کر کے قتل کردیا گیا

سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسو سی ایشن(سپلا) کراچی ریجن کے تحت جمعہ کو پروفیسر غلام علی وسان پر قاتلانہ حملے کے خلاف احتجاج کیا گیااور تدریسی و غیر تدریسی عمل کا با ئیکاٹ کیا گیا۔

پروفیسر غلام علی وسان کی صحت یا بی کے لیے دعا کی گئی اور قا تلانہ حملہ کرنے والے ملزمان کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا ،دریں اثنا سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسو سی ایشن کا ایک ہنگامی اجلاس ڈی جے کالج میں منعقد ہوا اجلاس میں پروفیسر افتخار اعظمی نے اساتذہ کو صورتحا ل سے مطلع کیا اور اِس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ شہر کراچی میں پروفیسرز ، ڈا کٹرز اور وکلا کا قتل روز مرہ کا معمول بنتا جا رہا ہے لیکن قاتل گرفتار نہیں ہورہے چند ماہ پہلے پروفیسر سبط جعفر کا قتل ہوا جس کے قا تل آ ج تک گرفتا ر نہیں ہوسکے۔




انھوں نے کہا کہ جا معہ ملیہ ٹیکنیکل کالج کے پروفیسر دلاور کے صا حب زادے کو اغوا کر کے قتل کردیا گیا شہر کراچی میں لا قا نو نیت عروج پر پہنچ چکی ہے کو ئی بھی محفوظ نہیں ہے کالجوں کے اندر اور باہر اساتذہ کو تحفظ فراہم کرنے کا کوئی طریقہ کار مو جود نھیں ہے اساتذہ اور طلبہ اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں اگر یہی حا لات رہے تو کالج ویرانے کا منظر پیش کریں گے اجلاس میں مطا لبہ کیا گیا کہ شہر میں امن و امان قائم کرکے اساتذہ اور طلبہ کو تحفظ فراہم کیا جائے ،کالجوں میں سیکیورٹی گارڈز تعینات کیے جا ئیں تاکہ اساتذہ یکسوئی سے اپنے تدریسی فرا ئض انجام دے سکیں اجلاس میں بتا یا گیا کہ گیا کہ بہت سے گرلز کالجوں میں اِس وقت مرکزی دروازوں کی چو کیداری کے لیے چو کیدار تک نہیں۔
Load Next Story