قائد آباد کالعدم تحریک طالبان کے2 گروپوں میں تصادم کمانڈر ہلاک

مسجد نور کے باہر تصادم آدھے گھنٹے تک جاری رہا، مرنے والاحاتم خان محسود کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا کمانڈر تھا

گلشن بونیر میں مسجد نور کے باہر تصادم آدھے گھنٹے تک جاری رہا، 4نمازی بھی زخمی ہوگئے، مرنے والاحاتم خان محسود کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا کمانڈر تھا.۔فوٹو : فائل

قائد آباد گلشن بونیر میں کالعدم تحریک طالبان کے2مسلح گروپوں میں تصادم کے دوران اندھا دھند فائرنگ سے طالبان کمانڈر ہلاک اور4نمازی زخمی ہو گئے۔

رینجرز اور پولیس نے علاقے کا محاصرہ کر کے گھر گھر تلاشی کے دوران متعدد افراد کو حراست میں لیکر اسلحہ اور پریشر ککر بم برآمد کر لیا، علاقے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں ایک اور شخص ہلاک ہوا تھا جس کی لاش ایمبولینس میں ڈال کر لیجائی جا رہی تھی کہ مسلح افراد اس کی لاش کو ایمبولینس سے اتار کر اپنے ساتھ لے گئے، پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعہ میں زخمی ہونے والے افراد بھی مشتبہ ہیں جنہیں جناح اسپتال میں پولیس نے حراست میں لے لیا گیا ہے، تفصیلات کے مطابق قائد آباد کے علاقے گلشن بونیر میں جامع مسجد نور کے باہر2مسلح گروپوں میں تصادم کے دوران اندھا دھند فائرنگ سے ایک شخص ہلاک جبکہ 4 نمازی40سالہ میر زمان ولد بخت زمان ، 27سالہ زاہد زادہ ولد دلاور خان ، 30سالہ ابرار ولد گل فراز اور30سالہ نصر اﷲ زخمی ہو گئے۔

فائرنگ کا سلسلہ آدھے گھنٹے تک جاری رہا، پولیس اور رینجرز نے موقع پر پہنچ کر پورے علاقے کا محاصرہ کر کے فائرنگ کرنے والے کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے ایک ملزم کو حراست میں لیکر اس سے اسلحہ برآمد کر لیا، زخمی ہونے والوں کو ایمبولینسوں کے ذریعے جناح اسپتال پہنچایا جبکہ ہلاک ہونے والے شخص کی لاش پولیس اپنے ساتھ تھانے لے گئی ، پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے کی شناخت حاتم خان محسود کے نام سے کر لی گئی، مقتول کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا کمانڈر اور کراچی کا امیر تھا، زخمی ہونے والے گلشن بونیر کے رہائشی ہیں جو جمعہ کی نماز ادا کرکے مسجد سے باہر آئے تھے اور ٹھیلوں سے پھل فروٹ خرید رہے تھے کہ دو طرفہ فائرنگ کی زد میں آگئے، پولیس اور رینجرز نے دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے گلشن بونیر کا محاصرہ کر لیا اورسرچ آپریشن کے دوران گھر گھر تلاشی لی گئی ، پولیس کے مطابق آپریشن میں لیڈی اہلکاروں نے بھی حصہ لیا، سرچ آپریشن کے دوران متعدد مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ۔




جبکہ متعدد سب مشین گن اور کلاشن کوف سمیت دیگر اسلحہ اور ایک پریشر ککر بم برآمد کرکے بم ڈسپوزل یونٹ کے عملے کو طلب کر لیا، بم ڈسپوزل یونٹ کے عملے نے موقع پر پہنچ کر اسے ناکارہ بنا دیا، حراست میں لیے جانے والے ملزمان کو تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا، ذرائع کے مطابق واقعے کے بعد گلشن بونیر اور اس سے متصل علاقوں میں دکانیں اور دیگر کاروبار بند ہو گیا، علاقے میں خوف ہراس کے باعث مکین گھروں میں محصور ہو گئے تھے، علاقے سے ملنے والے والی اطلاعات کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں ایک اور شخص ہلاک ہوا تھا جس کی لاش کو ایمبولینس میں ڈالا کر لے جایا جا رہا تھا کہ مسلح افراد نے اس کی لاش کو ایمبولینس سے اتار کر اپنے ساتھ لے کر فرار ہوگئے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعہ میں زخمی ہونے والے افراد بھی مشتبہ ہیں جنہیں جناح اسپتال میں پولیس نے حراست میں لے لیا گیا ہے ، رینجرز نے مزید کہا کہ فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہو نے والا طالبان کمانڈر رینجرز کے ہاتھوں مقابلے میں ہلاک ہو ا ہے، واضح رہے کہ کالعدم تحریک طالبان کے دو گروہ حکیم اللہ محسود اور ولی الرحمن محسود کے کمانڈرشیر خان محسود اور خان زمان محسود کے درمیان بھتے کی رقم کے بٹوارے کے معاملے پر شدید اختلافات چل رہے تھے اور ابتداء میں گزشتہ ماہ منگھوپیر میں دونوں گروہ کے درمیان پہلا تصادم ہوا جس میںشیر خان محسود مارا گیا ، اس واقعے کے بعد دونوں گروہ کے درمیان کراچی پر قبضے کی جنگ شروع ہو گئی ہے اور اس لڑائی میں ابتک دونوں گروہ کے ایک درجن سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔
Load Next Story