2018 صبر آزما سال اقتصادی نمو کی رفتار سست پڑ گئی اسٹیٹ بینک جائزہ رپورٹ
جڑواں خساروں اور مہنگائی کی بلند سطح سے ابھرنے والی کلّی معاشی کمزوریوں نے استحکام کے اقدامات کو لازم کر دیا
مالی اداروں اور مالی بازاروں کا انفرا اسٹرکچر بڑی حد تک مضبوط رہا اور مستقل مزاجی سے کارکردگی دکھاتا رہا، مرکزی بینک (فوٹو: فائل)
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے سال 2018کے لیے مالی استحکام کی جائزہ رپورٹ جاری کردی ہے۔
جائزے میں بینکاری اداروں، غیر بینکاری مالی اداروں، مالی بازاروں، مبادلہ کمپنیوں، غیر مالی کارپوریٹ اداروں اور مالی منڈیوں کے انفرا اسٹرکچر سمیت مالی شعبے کے مختلف زمروں کی کارکردگی اور خطرے کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، اس میں مالی شعبے کے مجموعی استحکام پر تخمینی خطرات کے ممکنہ مضمرات پر بحث کی گئی ہے۔
''مالی استحکام کا جائزہ'' میں کہا گیا ہے کہ 2018 پاکستان کے مالی شعبے کے لیے ایک صبر آزما سال تھا۔ جڑواں خساروں اور مہنگائی کی بلند سطح سے ابھرنے والی کلّی معاشی کمزوریوں نے استحکام کے اقدامات کو لازم کر دیا جن کے نتیجے میں اقتصادی نمو کی رفتار سست پڑ گئی ہے۔
مالی بازاروں، خصوصاً بازارِ مبادلہ اور ایکویٹی بازاروں میں سست روی کا رجحان پایا گیا جس کے ساتھ تغیر پذیری میں بھی اضافہ ہوا۔ چنانچہ مالی شعبے کی نمو 2018ء میں معتدل ہو کر 7.5 فیصد ہوگئی۔
اسی طرح مالی گہرائی، جس کی پیمائش مالی اثاثہ جات بہ نسبت جی ڈی پی سے کی جاتی ہے، 2018ء میں کم ہو کر 73.0 فیصد رہ گئی جبکہ ایک سال قبل یہ 74.5 فیصد تھی تاہم مالی اداروں اور مالی بازاروں کا انفرا اسٹرکچر زیرِ جائزہ سال کے دوران بڑی حد تک مضبوط رہا اور مستقل مزاجی سے کارکردگی دکھاتا رہا۔
مالی اداروں میں بینکاری کا شعبہ مضبوط رہا، جس کی شرحِ کفایتِ سرمایہ 16.2 فیصد کی مستحکم اور بلند سطح پر ہے ، جس کی کم از کم ضوابطی سطح 11.9 فیصد ہے، جبکہ رقم پر مبنی سیالیت بھی بلند ہے۔ دیگر عوامل میں سے، کارپوریٹ شعبے میں درجہ بندی کا کلچر پروان چڑھنے سے شرحِ کفایتِ سرمایہ میں اضافے کو آسانی ہوئی ہے۔
قرضوں اور ڈپازٹ کی شرح بڑھ کر 55.8 فیصد ہو جانے سے مالی وساطت بہتر ہوئی ہے، یہ شرح گذشتہ 8 سال کی بلند ترین سطح پر ہے۔ قرضوں میں اضافے نے مجموعی قرضوں اور غیر فعال قرضوں کا تناسب کم کرنے میں مدد دی ہے، تاہم اثاثہ جاتی معیار کے دیگر اظہاریوں میں معمولی کمی آئی کیونکہ 2018ء کے دوران غیر فعال قرضوں کی مقدار بڑھ گئی ہے۔
یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ مالکاری کی سرگرمیوں سے سودی آمدنی کے تناسب میں اضافے نے خالص سودی مارجن کو بہتر کر دیا ہے، جو کہ گذشتہ 3 سال سے گر رہا تھا۔''مالی استحکام کا جائزہ'' میں شعبہ بینکاری کو درپیش چند دشواریاں بھی اجاگر کی گئی ہیں۔ مضبوطی کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ شعبہ بینکاری وسط مدت میں ملکی اور عالمی طور پر شدید دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
جائزے میں بینکاری اداروں، غیر بینکاری مالی اداروں، مالی بازاروں، مبادلہ کمپنیوں، غیر مالی کارپوریٹ اداروں اور مالی منڈیوں کے انفرا اسٹرکچر سمیت مالی شعبے کے مختلف زمروں کی کارکردگی اور خطرے کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، اس میں مالی شعبے کے مجموعی استحکام پر تخمینی خطرات کے ممکنہ مضمرات پر بحث کی گئی ہے۔
''مالی استحکام کا جائزہ'' میں کہا گیا ہے کہ 2018 پاکستان کے مالی شعبے کے لیے ایک صبر آزما سال تھا۔ جڑواں خساروں اور مہنگائی کی بلند سطح سے ابھرنے والی کلّی معاشی کمزوریوں نے استحکام کے اقدامات کو لازم کر دیا جن کے نتیجے میں اقتصادی نمو کی رفتار سست پڑ گئی ہے۔
مالی بازاروں، خصوصاً بازارِ مبادلہ اور ایکویٹی بازاروں میں سست روی کا رجحان پایا گیا جس کے ساتھ تغیر پذیری میں بھی اضافہ ہوا۔ چنانچہ مالی شعبے کی نمو 2018ء میں معتدل ہو کر 7.5 فیصد ہوگئی۔
اسی طرح مالی گہرائی، جس کی پیمائش مالی اثاثہ جات بہ نسبت جی ڈی پی سے کی جاتی ہے، 2018ء میں کم ہو کر 73.0 فیصد رہ گئی جبکہ ایک سال قبل یہ 74.5 فیصد تھی تاہم مالی اداروں اور مالی بازاروں کا انفرا اسٹرکچر زیرِ جائزہ سال کے دوران بڑی حد تک مضبوط رہا اور مستقل مزاجی سے کارکردگی دکھاتا رہا۔
مالی اداروں میں بینکاری کا شعبہ مضبوط رہا، جس کی شرحِ کفایتِ سرمایہ 16.2 فیصد کی مستحکم اور بلند سطح پر ہے ، جس کی کم از کم ضوابطی سطح 11.9 فیصد ہے، جبکہ رقم پر مبنی سیالیت بھی بلند ہے۔ دیگر عوامل میں سے، کارپوریٹ شعبے میں درجہ بندی کا کلچر پروان چڑھنے سے شرحِ کفایتِ سرمایہ میں اضافے کو آسانی ہوئی ہے۔
قرضوں اور ڈپازٹ کی شرح بڑھ کر 55.8 فیصد ہو جانے سے مالی وساطت بہتر ہوئی ہے، یہ شرح گذشتہ 8 سال کی بلند ترین سطح پر ہے۔ قرضوں میں اضافے نے مجموعی قرضوں اور غیر فعال قرضوں کا تناسب کم کرنے میں مدد دی ہے، تاہم اثاثہ جاتی معیار کے دیگر اظہاریوں میں معمولی کمی آئی کیونکہ 2018ء کے دوران غیر فعال قرضوں کی مقدار بڑھ گئی ہے۔
یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ مالکاری کی سرگرمیوں سے سودی آمدنی کے تناسب میں اضافے نے خالص سودی مارجن کو بہتر کر دیا ہے، جو کہ گذشتہ 3 سال سے گر رہا تھا۔''مالی استحکام کا جائزہ'' میں شعبہ بینکاری کو درپیش چند دشواریاں بھی اجاگر کی گئی ہیں۔ مضبوطی کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ شعبہ بینکاری وسط مدت میں ملکی اور عالمی طور پر شدید دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔