آواران میں زلزلے کے مزید جھٹکے امداد لانے والے ہیلی کاپٹروں پر فائرنگ ہلاکتیں515ہو گئیں

اب تک15آفٹرشاکس آچکے،ریکٹراسکیل پرشدت5تھی،فائرنگ سے ہیلی کاپٹرمحفوظ رہے،سامان کی نگرانی پرمامور ایف سی کی گاڑی پر حملہ

ریسکیواوربحالی کاکام جاری،متاثرین کے امدادنہ ملنے کے شکوے، پانی کی شدیدقلت۔ ۔فوٹو؛ فائل

MUZAFFARGARH:
بلوچستان میں زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 515سے تجاوز کرگئی، متاثرہ ضلع آواران میںجمعے کے روزبھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جن کی شدت ریکٹراسکیل پر 5ریکارڈ کی گئی۔

منگل کوآنے والے 7.8شدت کے تباہ کن زلزلے کے بعدسے اب تک 15آفٹرشاکس آچکے ہیںجن کی شدت 5.0سے 5.9 تک ریکارڈکی گئی ہے۔ مشکے میں امدادی سامان لے جانے والے ہیلی کاپٹرپر جبکہ ضلع آواران اور مشکے میں ایف سی کی گاڑیوں پر مسلح افراد نے فائرنگ کردی ہیلی کاپٹر اور عملہ معجزانہ طورپر محفوظ رہے۔ دوسری جانب بلوچستان میں قیامت خیززلزلے میں لقمہ اجل بننے والوں کے اعدادوشمار سے متعلق صوبائی اوروفاقی حکومت کے متضادبیانات سامنے آناشروع ہوگئے۔ حکومت بلوچستان نے کیچ اورآواران میں 359ہلاکتوں کی تصدیق کردی جبکہ وفاقی وزیرجنرل(ر) عبدالقادربلوچ نے انکشاف کیاہے کہ متاثرہ علاقوںمیں ہلاکتوں کی تعداد400 سے بڑھ گئی ہے۔ زلزلہ متاثرین کاکہنا ہے کہ انھیں شیلٹر، خوراک اورپینے کاصاف پانی میسرنہیں۔




ابھی تک حکومت نے کوئی مددنہیں کی ہے۔ سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے انھیں متاثرہ علاقے میں جانے سے روک دیا گیا ہے۔ متاثرین کے پاس نہ راشن ہے اورپینے کے پانی کی بھی شدید قلت ہے۔ آواران کے اسپتال میں متاثرہ خواتین کے لیے صرف ایک خاتون ڈاکٹر ہے۔ مشکے اوردیگر متاثرہ علاقوں میں امدادی اشیالے جانے کے آپریشن میں مصروف ایک ہیلی کاپٹر پرمشکے کے پہاڑی علاقوں سے چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی تاہم خوش قسمتی سے ہیلی کاپٹراور عملہ محفوظ رہا۔ این این آئی کے مطابق جمعے کوآواران اورمشکے میں ایف سی کی گاڑی معمول کے گشت پرتھی اورمتاثرہ افرادکو اشیائے خورونوش پہنچارہی تھی اوراس کی نگرانی بھی کررہی تھی کہ نامعلوم افراد نے فائرنگ کردی۔ جوابی فائرنگ سے ملزمان فرار ہوگئے۔ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

دریں اثنا شدید متاثرہ اضلاع کیچ اورآواران میںپی ڈی ایم اے، آرمی، فرنٹیئرکور اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے امدادی سامان کی ترسیل اور ریسکیو کا کام جمعے کوبھی جاری رہا۔ اب تک پی ڈی ایم اے، پاکستان آرمی اوراین ڈی ایم اے کی جانب سے 13640ٹینٹ، 6300کمبل، 13322اشیائے خورونوش کے پیکٹ اوردیگر سازوسامان متاثرہ علاقوں میں بھجوایاجا چکاہے۔ ڈاکٹروں اورطبی عملے کی بڑی تعداد مختلف علاقوںمیں خدمات انجام دے رہی ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ ، چیف سیکریٹری بلوچستان بابر یعقوب فتح محمد، کمشنرقلات ڈویژن محمد اکبر حریفال خاران میں موجود ہیں اور امدادی کاموں کی نگرانی کر رہے ہیں۔وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر زلزلے سے متاثرہ علاقوں ڈنڈار، سوگئی، قلات، گچرمشکے اورحمیدآباد میں پانی کے نظام کی بحالی کیلیے ہنگامی طورپر کام شروع کیاہے۔ اب تک 8بڑے پینے کے اور 3چھوٹے صاف پانی کے ذرائع بحال کردیے گئے ہیں۔
Load Next Story