کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں
’’مالی استحکام کا جائزہ‘‘ میں کہا گیا ہے کہ 2018ء پاکستان کے مالی شعبے کے لیے ایک صبر آزما سال تھا۔
’’مالی استحکام کا جائزہ‘‘ میں کہا گیا ہے کہ 2018ء پاکستان کے مالی شعبے کے لیے ایک صبر آزما سال تھا۔ فوٹو : فائل
ملک میں مہنگائی کنٹرول سے باہر ہو گئی ہے۔ غربت کا وہی حال ہے، خط افلاس سے گرنے والوں کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے، حکومتی دعوے اگرچہ مخالف سمت میں جاری ہیں تاہم اقتصادی صورتحال اور روزمرہ اشیا کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ نے عوام کی کمر دہری کر دی ہے مگر گراں فروشی کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا، مارکیٹ ذرایع کے مطابق یوٹیلٹی اسٹورز نے چینی کے مزید 5 روپے فی کلو ریٹ بڑھا دیے، چینی کی نئی قیمت 74 سے بڑھ کر79 فی کلو ہو گئی ہے، اس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیاگیا ہے۔
گزشتہ ایک سال کے دوران مہنگائی بے قابو رہی ہے، ادارہ شماریات کے مطابق اگست میں مہنگائی کی شرح 11.6 فی صد رہی، موجودہ حکومت کے ایک سالہ دور میں یہ شرح 10.5 فیصد رہی، ایک سال میں تمام اشیائے خوردنی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، بکرے کا گوشت84 ، بیف 45، برائلر 61 روپے کلو مہنگا ہوا، خوردنی تیل کے ڈھائی کلو ڈبہ کی قیمت میں 82 روپے اضافہ ہوا، ایک سال کے دوران 10 کلو گندم 29 روپے، اور آٹے کا 10 کلو تھیلا 39 روپے اور مہنگا ہوا، اس کے علاوہ باسمتی چاول6روپے فی کلو، دال مسور 2 روپے فی کلو، دال مونگ57 روپے فی کلو ، دال ماش 34 روپے فی کلو، اور دال چنا 13 روپے فی کلو مہنگی ہوئی۔
موجودہ حکومت کے پہلے سال میں لہسن 133روپے فی کلو، اور تازہ دودھ دہی 7.7 روپے فی کلو ، پیاز 23 روپے اور آلو 7 روپے مہنگے ہوئے، جب کہ 200گرام چائے کی پتی کی قیمت میں 16 روپے اضافہ ہوا، سگریٹ کا پیکٹ 25 روپے مہنگا ہوا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ دکانداروں اور تاجروں نے ہر چیز مہنگی کر دی ہے، دوائیوں میں 400 فی صد تک اضافہ نوٹ کیا گیا ہے، زندگی بچانے والی دوائیں عام آدمی کی دسترس سے باہر ہو گئی ہیں، لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے۔
اسٹاک ایکسچینج میں مندی کے باعث سرمایہ کاروں کے 28 ارب ڈوب گئے۔ ادھر اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے سال 2018کے لیے مالی استحکام کی جائزہ رپورٹ جاری کر دی ہے۔ جائزے میں بینکاری اداروں، غیر بینکاری مالی اداروں، مالی بازاروں، مبادلہ کمپنیوں، غیر مالی کارپوریٹ اداروں اور مالی منڈیوں کے انفرا اسٹرکچر سمیت مالی شعبے کے مختلف زمروں کی کارکردگی کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، اس میں مالی شعبے کے مجموعی استحکام پر تخمینی خطرات کے ممکنہ مضمرات پر بحث کی گئی ہے۔
''مالی استحکام کا جائزہ'' میں کہا گیا ہے کہ 2018ء پاکستان کے مالی شعبے کے لیے ایک صبر آزما سال تھا۔ جڑواں خساروں اور مہنگائی کی بلند سطح سے ابھرنے والی کلی معاشی کمزوریوں نے استحکام کے اقدامات کو لازم کر دیا جن کے نتیجے میں اقتصادی نمو کی رفتار سست پڑ گئی ہے۔ مالی بازاروں، خصوصاً بازارِ مبادلہ اور ایکویٹی بازاروں میں سست روی کا رجحان پایا گیا جس کے ساتھ تغیر پذیری میں بھی اضافہ ہوا۔ چنانچہ مالی شعبے کی نمو 2018ء میں معتدل ہو کر 7.5 فیصد ہو گئی۔
اسی طرح مالی گہرائی، جس کی پیمائش مالی اثاثہ جات بہ نسبت جی ڈی پی سے کی جاتی ہے، 2018 میں کم ہو کر 73.0 فیصد رہ گئی جب کہ ایک سال قبل یہ 74.5 فیصد تھی۔ تاہم مالی اداروں اور مالی بازاروں کا انفرااسٹرکچر زیرِ جائزہ سال کے دوران بڑی حد تک مضبوط رہا اور مستقل مزاجی سے کارکردگی دکھاتا رہا۔
مالی اداروں میں بینکاری کا شعبہ مضبوط رہا، جس کی شرحِ کفایتِ سرمایہ 16.2 فیصد کی مستحکم اور بلند سطح پر ہے، جس کی کم از کم ضوابطی سطح 11.9 فیصد ہے۔ دیگر عوامل میں سے، کارپوریٹ شعبے میں درجہ بندی کا کلچر پروان چڑھنے سے شرحِ کفایتِ سرمایہ میں اضافے کو آسانی ہوئی ہے۔ قرضوں اور ڈپازٹ کی شرح بڑھ کر 55.8 فیصد ہو جانے سے مالی حالت بہتر ہوئی ہے، یہ شرح گزشتہ 8 سال کی بلند ترین سطح پر ہے۔
قرضوں میں اضافے نے مجموعی قرضوں اور غیر فعال قرضوں کا تناسب کم کرنے میں مدد دی ہے، تاہم اثاثہ جاتی معیار کے دیگر اظہاریوں میں معمولی کمی آئی کیونکہ 2018 کے دوران غیر فعال قرضوں کی مقدار بڑھ گئی ہے۔ یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ مالکاری کی سرگرمیوں سے سودی آمدنی کے تناسب میں اضافے نے خالص سودی مارجن کو بہتر کر دیا ہے، جو کہ گزشتہ 3 سال سے گر رہا تھا۔
''مالی استحکام کا جائزہ'' میں شعبہ بینکاری کو درپیش چند دشواریاں بھی اجاگر کی گئی ہیں۔ یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ مضبوطی کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ شعبہ بینکاری وسط مدت میں ملکی اور عالمی طور پر شدید دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
معاشی ماہرین اور حکومت کو اقتصادی اہداف پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ حکومت کے ایک سال کے دوران غربت اور مہنگائی کم تو ہونی چاہیے، یا تو اس کا مطلب صاف واضح ہے کہ ملکی اقتصادی ترجیحات اور معیشت کا درست تعین ابھی ہونا باقی ہے۔
گزشتہ ایک سال کے دوران مہنگائی بے قابو رہی ہے، ادارہ شماریات کے مطابق اگست میں مہنگائی کی شرح 11.6 فی صد رہی، موجودہ حکومت کے ایک سالہ دور میں یہ شرح 10.5 فیصد رہی، ایک سال میں تمام اشیائے خوردنی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، بکرے کا گوشت84 ، بیف 45، برائلر 61 روپے کلو مہنگا ہوا، خوردنی تیل کے ڈھائی کلو ڈبہ کی قیمت میں 82 روپے اضافہ ہوا، ایک سال کے دوران 10 کلو گندم 29 روپے، اور آٹے کا 10 کلو تھیلا 39 روپے اور مہنگا ہوا، اس کے علاوہ باسمتی چاول6روپے فی کلو، دال مسور 2 روپے فی کلو، دال مونگ57 روپے فی کلو ، دال ماش 34 روپے فی کلو، اور دال چنا 13 روپے فی کلو مہنگی ہوئی۔
موجودہ حکومت کے پہلے سال میں لہسن 133روپے فی کلو، اور تازہ دودھ دہی 7.7 روپے فی کلو ، پیاز 23 روپے اور آلو 7 روپے مہنگے ہوئے، جب کہ 200گرام چائے کی پتی کی قیمت میں 16 روپے اضافہ ہوا، سگریٹ کا پیکٹ 25 روپے مہنگا ہوا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ دکانداروں اور تاجروں نے ہر چیز مہنگی کر دی ہے، دوائیوں میں 400 فی صد تک اضافہ نوٹ کیا گیا ہے، زندگی بچانے والی دوائیں عام آدمی کی دسترس سے باہر ہو گئی ہیں، لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے۔
اسٹاک ایکسچینج میں مندی کے باعث سرمایہ کاروں کے 28 ارب ڈوب گئے۔ ادھر اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے سال 2018کے لیے مالی استحکام کی جائزہ رپورٹ جاری کر دی ہے۔ جائزے میں بینکاری اداروں، غیر بینکاری مالی اداروں، مالی بازاروں، مبادلہ کمپنیوں، غیر مالی کارپوریٹ اداروں اور مالی منڈیوں کے انفرا اسٹرکچر سمیت مالی شعبے کے مختلف زمروں کی کارکردگی کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، اس میں مالی شعبے کے مجموعی استحکام پر تخمینی خطرات کے ممکنہ مضمرات پر بحث کی گئی ہے۔
''مالی استحکام کا جائزہ'' میں کہا گیا ہے کہ 2018ء پاکستان کے مالی شعبے کے لیے ایک صبر آزما سال تھا۔ جڑواں خساروں اور مہنگائی کی بلند سطح سے ابھرنے والی کلی معاشی کمزوریوں نے استحکام کے اقدامات کو لازم کر دیا جن کے نتیجے میں اقتصادی نمو کی رفتار سست پڑ گئی ہے۔ مالی بازاروں، خصوصاً بازارِ مبادلہ اور ایکویٹی بازاروں میں سست روی کا رجحان پایا گیا جس کے ساتھ تغیر پذیری میں بھی اضافہ ہوا۔ چنانچہ مالی شعبے کی نمو 2018ء میں معتدل ہو کر 7.5 فیصد ہو گئی۔
اسی طرح مالی گہرائی، جس کی پیمائش مالی اثاثہ جات بہ نسبت جی ڈی پی سے کی جاتی ہے، 2018 میں کم ہو کر 73.0 فیصد رہ گئی جب کہ ایک سال قبل یہ 74.5 فیصد تھی۔ تاہم مالی اداروں اور مالی بازاروں کا انفرااسٹرکچر زیرِ جائزہ سال کے دوران بڑی حد تک مضبوط رہا اور مستقل مزاجی سے کارکردگی دکھاتا رہا۔
مالی اداروں میں بینکاری کا شعبہ مضبوط رہا، جس کی شرحِ کفایتِ سرمایہ 16.2 فیصد کی مستحکم اور بلند سطح پر ہے، جس کی کم از کم ضوابطی سطح 11.9 فیصد ہے۔ دیگر عوامل میں سے، کارپوریٹ شعبے میں درجہ بندی کا کلچر پروان چڑھنے سے شرحِ کفایتِ سرمایہ میں اضافے کو آسانی ہوئی ہے۔ قرضوں اور ڈپازٹ کی شرح بڑھ کر 55.8 فیصد ہو جانے سے مالی حالت بہتر ہوئی ہے، یہ شرح گزشتہ 8 سال کی بلند ترین سطح پر ہے۔
قرضوں میں اضافے نے مجموعی قرضوں اور غیر فعال قرضوں کا تناسب کم کرنے میں مدد دی ہے، تاہم اثاثہ جاتی معیار کے دیگر اظہاریوں میں معمولی کمی آئی کیونکہ 2018 کے دوران غیر فعال قرضوں کی مقدار بڑھ گئی ہے۔ یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ مالکاری کی سرگرمیوں سے سودی آمدنی کے تناسب میں اضافے نے خالص سودی مارجن کو بہتر کر دیا ہے، جو کہ گزشتہ 3 سال سے گر رہا تھا۔
''مالی استحکام کا جائزہ'' میں شعبہ بینکاری کو درپیش چند دشواریاں بھی اجاگر کی گئی ہیں۔ یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ مضبوطی کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ شعبہ بینکاری وسط مدت میں ملکی اور عالمی طور پر شدید دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
معاشی ماہرین اور حکومت کو اقتصادی اہداف پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ حکومت کے ایک سال کے دوران غربت اور مہنگائی کم تو ہونی چاہیے، یا تو اس کا مطلب صاف واضح ہے کہ ملکی اقتصادی ترجیحات اور معیشت کا درست تعین ابھی ہونا باقی ہے۔