افغانستان میں امن خطے کی ضرورت

فریقین کو ہوش کے ناخن لیتے ہوئے مسئلے کو مذاکرات کی میز پر حل کرنے کے سنہری موقعے کو ضایع نہیں کرنا چاہیے۔

فریقین کو ہوش کے ناخن لیتے ہوئے مسئلے کو مذاکرات کی میز پر حل کرنے کے سنہری موقعے کو ضایع نہیں کرنا چاہیے۔ فوٹو : فائل

افغانستان میں جاری اٹھارہ سالہ طویل جنگ کا خاتمہ مذاکرات کی میز پر حل ہونے سے آخری لمحات میں رہ گیا، جب امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے طالبان کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط سے انکارکر دیا، کیونکہ پومپیو سمجھتے ہیں کہ دستخط کرنا طالبان کو اصل سیاسی قوت کے طور پر تسلیم کرنے کے مترادف ہوگا۔

دراصل طویل جاری مذاکرات کے نتیجے میں جو معاہدہ طے پائے جانے کی نوید سنائی جا رہی تھی، اس میں فریقین کے درمیان اعتماد اور بھروسے کا فقدان نظر آرہا ہے، کیونکہ معاہدے میں القاعدہ کے خلاف جنگ کے لیے امریکا کی انسداد دہشت گردی فورسزکی مسلسل موجودگی کی ضمانت فراہم نہیں کی گئی اور نہ ہی یہ گارنٹی موجود ہے کہ کابل کی امریکا نواز حکومت قائم رہے گی، جب کہ افغانستان میں لڑائیوں کے خاتمے کی بھی یقین دہانی نہیں کرائی گئی۔

یوں لگتا ہے کہ فریقین کی نیک نیتی اور اخلاص کے شواہد موجود نہیں ہیں اور ایسا ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ یہ سوچ رہے ہیں کہ انھوں نے ایک دوسرے کو بے وقوف بنا دیا ہے، جب کہ یہ بھی خیال ہے کہ اگر کسی ایک نے دھوکا دیا تو مخالف کو بھی اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔


ہر گزرتے دن کے ساتھ افغانوں میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ اْنہیں کس پر بھروسہ کرنا چاہیے، لیکن انھیں یہ معلوم ہے کہ صدر ٹرمپ یہاں سے نکلنا چاہتے ہیں، اگر ٹرمپ نے کسی بھی معاہدے کی منظوری دے دی تو افغانستان سے فوجی انخلا شروع ہوجائے گا اور تقریباً 5400 فوجی وہاں سے نکال لیے جائیں گے۔یہ واپسی پانچ فوجی مراکز سے 135 دنوں میں مکمل ہوگی، لیکن بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا؟

سرد جنگ کے دور میں افغانستان سے روسی فوجوں کے انخلا میں طالبان اور پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا تھا لیکن اس کے بعد امریکاخطے سے نکل گیا تھا اور صورتحال دودہائیوں تک انتہائی خراب رہی۔موجودہ صورتحال کے تناظر میں دیکھا جائے تو اگر افغانستان سے فوجوں کی واپسی بغیرکوئی پائیدار معاہدہ امن طے پائے بغیر ہوئی تو اس کے منفی اثرات پاکستان پر مرتب ہونگے۔اس کے باوجود اگر امریکا افغانستان چھوڑنے کا فیصلہ کرتا ہے توکوئی بھی اسے روک نہیں سکتا۔پاکستان کو اپنی سیف سائیڈ بھی سفارتی محاذ پر دیکھنی ہوگی۔

فریقین کو ہوش کے ناخن لیتے ہوئے مسئلے کو مذاکرات کی میز پر حل کرنے کے سنہری موقعے کو ضایع نہیں کرنا چاہیے۔

 
Load Next Story