وزیراعظم کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب

وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے گزشتہ روز نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں دہشت گردی...

فوٹو: ایکسپریس نیوز

QUETTA:
وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے گزشتہ روز نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں دہشت گردی' طالبان سے مذاکرات' تنازع کشمیر' پاک بھارت تعلقات، پاک افغان تعلقات، مسئلہ کشمیر اور شام کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کی بھرپور وضاحت کی ہے۔ انھوں نے اقوام عالم کے رہنماؤں کے سامنے واضح کیا کہ ڈرون حملے پاکستان کی خودمختاری ا ور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہیں۔ انھوں نے اس حوالے سے مؤقف پیش کیا کہ ڈرون حملوں میں بے گناہ افراد نشانہ بنتے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ بین الاقوامی قوانین کے تحت لڑی جانی چاہیے۔

اقوام عالم کے اس سب سے بڑے فورم پر وزیر اعظم میاں نواز شریف نے ڈرون حملوں پر جو ردعمل دیا ہے اس کے یقینی طور پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی حکومت پر عالمی دباؤ میں اضافہ ہو گا۔ صدر بارک اوباما جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ڈرون حملے محدود کر دیے گئے ہیں تاہم انھوں نے انھیں جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو امریکا کی حکومت اور پاکستانی حکومت ڈرون حملوں کے حوالے سے ایک پیج پر نہیں ہیں اور مستقبل میں ان کے درمیان اس ایشو پر تناؤ پیدا ہونے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

وزیر اعظم میاں نواز شریف کے خطاب کا ایک حصہ طالبان سے مجوزہ مذاکرات کے بارے میں ہے۔ انھوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ طالبان سے مذاکرات کی خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔ پاکستان دہشت گردی کی کسی بھی شکل کی مذمت کرتا ہے۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف اس حوالے سے امریکا کے اخبار وال اسٹریٹ جرنل سے انٹرویو میں بھی کہہ چکے ہیں کہ طالبان سے مذاکرات تب ہوں گے جب وہ ہتھیار ڈالیں گے اور پاکستان کے آئین کو تسلیم کریں گے۔ انھوں نے اقوام عالم کے رہنماؤں کو بتا دیا ہے کہ پاکستان کی حکومت طالبان کے ساتھ مذاکرات کی خواہاں ضرور ہے لیکن یہ کسی کمزوری کی بناء پر نہیں ہیں بلکہ ملک میں امن لانے کی خواہش کا اظہار ہے۔ انھوں نے یہ وضاحت بھی کی کہ اسلام کو دہشت گردی سے نہیں جوڑا جانا چاہیے۔ افغانستان کے بارے میں انھوں نے کہا کہ پاکستان کا افغانستان میں کوئی پسندیدہ گروپ نہیں ہے اور پاکستان افغان قیادت کی طرف سے جاری امن عمل کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور خطے میں قیام امن کے لیے موثر کردار ادا کرتا رہے گا۔


ان کے خطاب کا ایک اہم حصہ پاک بھارت تعلقات اور تنازع کشمیر کے بارے میں ہے۔ انھوں نے اقوام متحدہ کی توجہ دلائی کہ سات دہائیاں گزر چکی ہیں لیکن اس تنازع کے حل کے لیے کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ بلاشبہ تنازع کشمیر کے باعث ہی اس خطے میں جنگیں ہوئی ہیں۔ اگر یہ تنازع حل ہو جاتا تو اس خطے میں شاید امن ہو چکا ہوتا۔ وزیر اعظم کے خطاب سے یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ موجودہ حکومت بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کی خواہش مند ضرور ہے لیکن وہ تنازع کشمیر پر کوئی لچک نہیں دکھائے گی اور کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔ انھوں نے انتہائی منطقی بات کی ہے کہ پاکستان اور بھارت اپنے قیمتی وسائل اسلحے پر ضایع کر رہے ہیں' اگر دونوں ملک اپنے تنازعات حل کر لیں تو اس خطے میں ترقی کا نیا دور شروع ہو جائے گا۔ اس عالمی فورم پر وزیر اعظم پاکستان نے فلسطینیوں کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔ انھوں نے کہا کہ ریاست فلسطین کو اقوام متحدہ میں غیر مستقل رکن کا درجہ ملنا خوش آئند ہے لیکن انھوں نے مطالبہ کیا کہ فلسطین کو مستقل رکن بنایا جائے۔

پاکستان نے فلسطینیوں کی جدوجہد آزادی کی ہمیشہ حمایت کی ہے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ شام کے معاملے میں بھی وزیر اعظم پاکستان نے کہا کہ پاکستان کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا سخت مخالف ہے اور شام میں ان کے استعمال کی مذمت کرتا ہے۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف نے شام کے معاملے میں امریکا کی حمایت نہیں کی اور یہ نہیں کہا کہ شامی حکومت کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کی ذمے دار ہے۔ یوں دیکھا جائے تو وزیر اعظم میاں نواز شریف کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب غیر جانبدار پالیسی کا اعادہ کرتا ہے۔ انھوں نے عالمی ایشوز پر امریکا کی پالیسی کی حمایت کا اعلان نہیں کیا۔ ان کی تقریر سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ امریکا کی عالمی پالیسیوں کے حق میں نہیں ہیں۔ شام کے معاملے میں وہ روس اور ایران کے مؤقف کے قریب نظر آتے ہیں۔ ڈرون حملوں پر وہ امریکا کی کھل کر مخالفت کرتے نظر آ رہے ہیں جب کہ بھارت کے ساتھ تعلقات کے بارے میں ان کے نظریات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ اس معاملے پر امریکا کے پالیسی ساز بھی مطمئن ہوں گے۔

وزیر اعظم میاں نواز شریف کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب دراصل پاکستان کی مستقبل کی خارجہ پالیسی کے خدوخال کو واضح کرتا نظر آتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیر اعظم اگر بھارت کے ساتھ تعلقات خوشگوار بنانا چاہتے ہیں تو یہ کسی کی ڈکٹیشن نہیں ہے بلکہ اس خطے کے حوالے سے ان کا اپنا ویژن ہے اور جو کہ درست ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس خطے کے فہمیدہ حلقے ان کی حمایت کر رہے ہیں۔ دہشت گردی اور طالبان کے ساتھ مذاکرات پر بھی ابہام ختم ہو گیا ہے اور آنے والے دنوں میں اس حوالے سے صورت حال مزید واضح ہو جائے گی۔
Load Next Story