ترکی ہمارے لیے ایک مثال
اخباروں میں وزیر اعظم کے دورۂ ترکی کا شہرہ رہا۔ وہ مختلف معاہدوں پر دستخط کر کے یہ کہتے ہوئے واپس آئے کہ...
zahedahina@gmail.com
اخباروں میں وزیر اعظم کے دورۂ ترکی کا شہرہ رہا۔ وہ مختلف معاہدوں پر دستخط کر کے یہ کہتے ہوئے واپس آئے کہ ہم دو ملک ہیں لیکن ہمارا دل ایک ہے۔ برصغیر کا اور ترکی کا بہت پرانا رشتہ ہے۔ قونیہ کے مولانا روم، مثنوی مولوی معنوی اور شمس تبریزی کے دامن پر بوسے دیتا ہوا اور سلطنت عثمانیہ کو نذریں گزارتا ہوا ہندی مسلمان۔ ترکوں سے ہماری ادبی وابستگی کا یہ عالم تھا کہ ہمارے ادیب شہیر سید سجاد حیدر نے ترکی سیکھی۔ اپنے نام میں ''یلدرم'' کا اضافہ کیا۔ بغداد اور قسطنطنیہ (آج کا استنبول) کے برطانوی قونصل خانے میں ترکی زبان کے مترجم کے طور پر کام کیا، انھوں نے 1906ء میں خلیل رشدی کا افسانہ ''نشے کی پہلی ترنگ'' ترجمہ کر کے چھپوایا اور اس کے بعد بھی ترکی سے کئی ڈرامے اور افسانے ترجمہ کیے یہ اختصاص ان ہی کا ہے جسے ہم فراموش کر چکے اور یہ بھی ترکی سے اردو ادیبوں کی محبت تھی کہ 1922ء میں علامہ نیاز فتح پوری نے ایک
علمی اور ادبی پرچے کا آغاز کیا تو ایک ترک شاعرہ نگار بنت عثمان کی نسبت سے اس کا نام ''نگار'' رکھا۔ خالدہ ادیب خانم 20ء کی دہائی میں ہندوستان آئیں تو ان کا استقبال شہزادیوں کی طرح کیا گیا، اسی طرح دوسرے ترک ادیب بھی ہندوستان کے اردو ادب میں مقبول و محبوب رہے۔
سیاست میں ترکوں اور سلطنت عثمانیہ سے وابستگی اور اس کے لیے وارفتگی کا یہ عالم تھا کہ ہندوستان میں خلافت تحریک چلی تو یہ مسلم ہندو اتحاد کا نشان بن گئی جس کے سرخیلوں میں سے ایک گاندھی جی بھی تھے۔ ادھر ینگ ٹرکس تھے جو اپنے بوڑھے، بے اثر اور نااہل سلطان کا اقتدار آبنائے باسفورس میں غرق کرنے کے درپے تھے اور ترکی جو یورپ کا مرد بیمار کہلاتا تھا، وہاں خلافت کو جمہوریت سے بدلنا چاہ رہے تھے۔
پہلی جنگ عظیم نے جہاں دنیا کا نقشہ بدل دیا، وہیں سلطنت عثمانیہ کا سورج بھی ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔ کمال اتا ترک نے خلافت کا ادارہ بہ یک جنبش قلم منسوخ کیا اور 1923ء میں جدید ترکی کا سنگ بنیاد رکھا، صدیوں سے قائم شرعی عدالتوں کو یکسر موقوف کر کے ترکی میں جدید مغربی خیالات و افکار اور بود و باش کا دور شروع ہوا۔ وہ ملک جو یورپ کا ''مردِ بیمار'' کہلاتا تھا اور بہت پسماندہ اور بدحال تھا اس کی حالت قدرے بہتر ہونا شروع ہوئی لیکن 1929ء میں دنیا شدید معاشی بحران کا شکار ہو گئی جسے گریٹ ڈپریشن کہتے ہیں۔ یہی بحران آگے چل کر دوسری عالمی جنگ کا ایک سبب بنا۔ ان حالات نے ترکی پر بہت ناخوشگوار اثرات مرتب کیے۔ ترکی بدترین معاشی بحرانوں کی زد میں آتا رہا۔ اس کے سکے کی قیمت خطرناک حد تک گر گئی۔ قرضوں اور درآمدات کی ادائیگیوں کے لیے خزانہ خالی تھا۔ ایسے میں آئی ایم ایف ترک حکومت کی مدد کو آیا اور معاشی بحالی کا عمل شروع ہوا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مملکت ترکیہ کی معاشی حالت سلطنت عثمایہ کے خاتمے کے بعد بدترین تھی۔
80ء کی دہائی میں معاشی بحالی کا عمل شروع ہوا۔ آٹھ سالہ ایران عراق جنگ نے جہاں ایک دوسرے سے نبرد آزما ان دونوں ملکوں کو برباد کیا، وہیں اس جنگ نے بحران میں پھنسی ہوئی ترک معیشت کو سہارا دیا۔ 1980-88ء کے درمیان عراق اور ایران نے ترکی کے ساتھ تجارت کی، بالخصوص عراق نے ترک بندرگاہوں کو استعمال کیا جس سے ترکی کو اربوں ڈالر کا معاوضہ ملا۔ 90ء کی دہائی میں ترکی میں پائیدار معاشی ترقی کا ایک ایسا عمل شروع ہوا جو آج بھی جاری ہے اور جس نے آج ترکی کو دنیا کا ترقی یافتہ ملک بنا دیا ہے۔
ترکی اس وقت دنیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشت میں شمار کیا جاتا ہے۔ جی ڈی پی کے اعتبار سے وہ دنیا کی 17 ویں سب سے بڑی معیشت ہے۔ کچھ برسوں پہلے جب پوری دنیا بدترین مالیاتی بحران کا شکار تھی تو اس وقت ترک معیشت 8 اور 9 فیصد سالانہ کی شرح سے ترقی کر رہی تھی۔ اس وقت ترکی یورپ کی تیز ترین ترقی کرنے والی معیشت ہے اور فی کس جی ڈی پی کے حوالے سے وہ اعلیٰ متوسط آمدنی والا ملک ہے۔ فوربس سروے کے مطابق استنبول میں ارب پتی لوگوں کی تعداد 28 ہے جب کہ نیویارک میں 60، ماسکو میں 50 اور لندن میں 32 ارب پتی رہتے ہیں۔ اسے یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ استنبول ارب پتیوں کے حوالے سے دنیا میں چوتھے نمبر پر آتا ہے۔
کمال اتاترک نے 1923ء میں جدید ترکی کی بنیاد رکھی تھی اور دوسری جنگ عظیم کا صدمہ جھیل کر ملک کو ایک نئی نہج پر ڈالا۔ پاکستان کی طرح ترکی میں بھی پارلیمانی جمہوریت ہے۔ تمام انتظامی اختیارات وزیر اعظم اور اس کی کابینہ کے پاس ہیں۔ قانون سازی کا اختیار یک ایوانی ترک پارلیمنٹ کو حاصل ہے، رائے دہی کا حق 1933ء سے18 برس کے ہر ترک شہری کو حاصل ہے۔ پاکستان کی طرح اس ملک میں بھی درجنوں سیاسی جماعتیں سر گرم عمل ہیں۔ ترک عورتوں کو قانون کے مطابق 90 برسوں سے مردوں کے مساوی حقوق حاصل ہیں۔ اتاترک نے عورتوں کی آزادی کے لیے اہم اصلاحات کیں۔ پردے کی قدیم پابندی ختم کی، انھیں سول میرج اور طلاق کا حق دیا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ انھیں ووٹ ڈالنے کا حق دیا جس نے انھیں سیاسی، معاشی اور سماجی معاملات میں خود مختار بنا دیا۔ آپ کو یہ جان کر شاید حیرت ہو کہ امریکا سے بہت پہلے ایک ترک خاتون سپریم کورٹ میں جج کے عہدے پر فائز ہو چکی تھیں۔ ترکی میں ایک خاتون حکومت کی سربراہ بھی رہ چکی ہیں جب کہ امریکا میں ایسا ہونا ابھی باقی ہے۔
ہم ترکوں سے اپنے قلبی تعلق کا بار بار ذکر کرتے ہیں۔ لیکن ہم میں سے بہت کم ہیں جو ترک صنعت، زراعت اور معیشت کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں۔ ترک جمہوریہ کی داخلی مجموعی پیداوار 1358 ارب ڈالر جب کہ پاکستان کی 240 ارب ڈالر ہے۔ کاروبار کے لیے ساز گار ملکوں میں ترکی 71 ویں نمبر پر ہے۔ اس کی سالانہ برآمدات 163.40 ارب ڈالر ہیں اور وہ برآمدات کے حوالے سے دنیا میں 29 واں سب سے بڑا ملک ہے۔2012ء تک ترکی میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری 152.90 ارب ڈالر تھی۔ اس حوالے سے وہ دنیا کا 29 واں ملک تھا۔ اس کی سالانہ آمدنی 209 ارب ڈالر جب کہ سالانہ اخراجات 228.3 ارب ڈالر ہیں۔ اس وقت ہمارے یہاں زر مبادلہ کے ذخائر جس قدر کم ہو چکے ہیں اور ڈالر کو جس طرح پر لگے ہوئے ہیں، اس تناظر میں دیکھئے تو ترکی کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر اگست 2013ء تک: 124.187 ارب ڈالر تھے۔ ترکی دنیا میں فولاد پیدا کرنے والا 10 واں سب سے بڑا کارخانہ رکھتا ہے اور یورپ میں ٹی وی تیار کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔
اس کی تعمیراتی صنعت چین کے بعد دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ اس کی 33 تعمیراتی کمپنیوں کا شمار دنیا کی سب سے بڑی کمپنیوں میں ہوتا ہے اور اس کے طول و عرض میں9 بین الاقوامی ہوائی اڈوں سمیت 102 ہوائی اڈے ہیں۔ ہوائی مسافروں کی سالانہ تعداد 12 کروڑ سے زیادہ ہے جب کہ ریلوے کا 22 واں سب سے بڑا نظام ترکی میں ہے۔ سڑکوں کا جال چار لاکھ 26 ہزار کلومیٹر پر مشتمل ہے۔ جس میں 2 ہزار کلومیٹر کی ایکسپریس وے بھی شامل ہیں۔ ترکی کے پاس 12 سو بحری جہاز ہیں اور یہ دنیا میں جہاز رانی کی 7 ویں بڑی صنعت ہے۔ لینڈ لائن ٹیلی فون اور موبائل کے اعتبار سے ترکی دنیا کا علی الترتیب 18 واں اور 15 واں بڑا ملک ہے۔ سیاحت ترکی کا تیز ترقی کرنے والا شعبہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے 100 بہترین ہوٹلوں میں سے 10 ترکی میں ہیں۔ 3 کروڑ سیاح ہر سال یہاں آتے ہیں جن سے اسے 22 ارب ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے۔
ان خشک اعداد و شمار کو ایک طرف رکھتے ہوئے جب ہم علم و ادب کی دنیا کی طرف نظر کرتے ہیں تو ہمیں وہاں عالمی شہرت یافتہ ادیب اور شاعر ملتے ہیں۔ ناظم حکمت کا ہمارے یہاں شہرہ ہے۔ اسی طرح جدید ترک ادیبوں میں اورحان پامک ادب کا نوبل انعام لے چکا ہے۔ وہ پاکستان نہیں آیا لیکن ہندوستان کے جے پور لٹریری فیسٹول میں اس کی قدر افزائی اپنی آنکھوں سے دیکھ چکی ہوں۔ یہ بھی دیکھا کہ دلی کے ہیبیٹٹ سینٹر میں جہاں مجھ سمیت بمشکل درجن بھر مسلمان تھے، ڈیڑھ ہزار نشستوں والا ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ وہ ہند اسلامی تہذیب اور اسی نوعیت کے معاملات پر لیکچر دے رہا تھا اور ڈیڑھ گھنٹے تک ہال وقفے وقفے سے تالیوں سے گونجتا رہا۔
کل کا قسطنطنیہ جو آج استنبول کے نام سے معروف ہے، اس کے بارے میں اورحان پامک نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ ہر عمر اور ہر نسل کے بچے، نوجوان اور بڑے، عورتیں اور مرد اپنی کھڑکیوں یا بالکونی میں کھڑے ہو کر ان جہازوں کو تکتے اور گنتے رہتے ہیں جو آبنائے باسفورس سے گزرتے ہیں۔ ٹیلی وژن آنے سے پہلے یہ ہر استنبولی کا ایسا مشغلہ تھا جسے وہ کسی فرض کی طرح ادا کرتا تھا۔
پاکستان اور ترکی کا موازانہ کرنے بیٹھئے تو انداز ہوتا ہے کہ ماضی میں ہم معاشی طور پر ان سے کہیں مستحکم اور ترقی یافتہ تھے۔ اگر ہم طے کر لیں تو چند برسوں میں اس گرداب سے نکل سکتے ہیں جس میں آج ہم پھنسے ہوئے ہیں۔ ترکی میں بھی قدامت اور جدت کی خونیں کشمکش چل رہی ہے۔ تاریخ کی آبنائے سے نظریات کے نئے اور پرانے جہاز گزر رہے ہیں۔ ہم انھیں گنتے جاتے ہیں اور جانتے ہیں کہ ان میں سے کون منزل پر پہنچے گا اور کس کے مقدر میں غرقابی ہے۔
علمی اور ادبی پرچے کا آغاز کیا تو ایک ترک شاعرہ نگار بنت عثمان کی نسبت سے اس کا نام ''نگار'' رکھا۔ خالدہ ادیب خانم 20ء کی دہائی میں ہندوستان آئیں تو ان کا استقبال شہزادیوں کی طرح کیا گیا، اسی طرح دوسرے ترک ادیب بھی ہندوستان کے اردو ادب میں مقبول و محبوب رہے۔
سیاست میں ترکوں اور سلطنت عثمانیہ سے وابستگی اور اس کے لیے وارفتگی کا یہ عالم تھا کہ ہندوستان میں خلافت تحریک چلی تو یہ مسلم ہندو اتحاد کا نشان بن گئی جس کے سرخیلوں میں سے ایک گاندھی جی بھی تھے۔ ادھر ینگ ٹرکس تھے جو اپنے بوڑھے، بے اثر اور نااہل سلطان کا اقتدار آبنائے باسفورس میں غرق کرنے کے درپے تھے اور ترکی جو یورپ کا مرد بیمار کہلاتا تھا، وہاں خلافت کو جمہوریت سے بدلنا چاہ رہے تھے۔
پہلی جنگ عظیم نے جہاں دنیا کا نقشہ بدل دیا، وہیں سلطنت عثمانیہ کا سورج بھی ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔ کمال اتا ترک نے خلافت کا ادارہ بہ یک جنبش قلم منسوخ کیا اور 1923ء میں جدید ترکی کا سنگ بنیاد رکھا، صدیوں سے قائم شرعی عدالتوں کو یکسر موقوف کر کے ترکی میں جدید مغربی خیالات و افکار اور بود و باش کا دور شروع ہوا۔ وہ ملک جو یورپ کا ''مردِ بیمار'' کہلاتا تھا اور بہت پسماندہ اور بدحال تھا اس کی حالت قدرے بہتر ہونا شروع ہوئی لیکن 1929ء میں دنیا شدید معاشی بحران کا شکار ہو گئی جسے گریٹ ڈپریشن کہتے ہیں۔ یہی بحران آگے چل کر دوسری عالمی جنگ کا ایک سبب بنا۔ ان حالات نے ترکی پر بہت ناخوشگوار اثرات مرتب کیے۔ ترکی بدترین معاشی بحرانوں کی زد میں آتا رہا۔ اس کے سکے کی قیمت خطرناک حد تک گر گئی۔ قرضوں اور درآمدات کی ادائیگیوں کے لیے خزانہ خالی تھا۔ ایسے میں آئی ایم ایف ترک حکومت کی مدد کو آیا اور معاشی بحالی کا عمل شروع ہوا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مملکت ترکیہ کی معاشی حالت سلطنت عثمایہ کے خاتمے کے بعد بدترین تھی۔
80ء کی دہائی میں معاشی بحالی کا عمل شروع ہوا۔ آٹھ سالہ ایران عراق جنگ نے جہاں ایک دوسرے سے نبرد آزما ان دونوں ملکوں کو برباد کیا، وہیں اس جنگ نے بحران میں پھنسی ہوئی ترک معیشت کو سہارا دیا۔ 1980-88ء کے درمیان عراق اور ایران نے ترکی کے ساتھ تجارت کی، بالخصوص عراق نے ترک بندرگاہوں کو استعمال کیا جس سے ترکی کو اربوں ڈالر کا معاوضہ ملا۔ 90ء کی دہائی میں ترکی میں پائیدار معاشی ترقی کا ایک ایسا عمل شروع ہوا جو آج بھی جاری ہے اور جس نے آج ترکی کو دنیا کا ترقی یافتہ ملک بنا دیا ہے۔
ترکی اس وقت دنیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشت میں شمار کیا جاتا ہے۔ جی ڈی پی کے اعتبار سے وہ دنیا کی 17 ویں سب سے بڑی معیشت ہے۔ کچھ برسوں پہلے جب پوری دنیا بدترین مالیاتی بحران کا شکار تھی تو اس وقت ترک معیشت 8 اور 9 فیصد سالانہ کی شرح سے ترقی کر رہی تھی۔ اس وقت ترکی یورپ کی تیز ترین ترقی کرنے والی معیشت ہے اور فی کس جی ڈی پی کے حوالے سے وہ اعلیٰ متوسط آمدنی والا ملک ہے۔ فوربس سروے کے مطابق استنبول میں ارب پتی لوگوں کی تعداد 28 ہے جب کہ نیویارک میں 60، ماسکو میں 50 اور لندن میں 32 ارب پتی رہتے ہیں۔ اسے یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ استنبول ارب پتیوں کے حوالے سے دنیا میں چوتھے نمبر پر آتا ہے۔
کمال اتاترک نے 1923ء میں جدید ترکی کی بنیاد رکھی تھی اور دوسری جنگ عظیم کا صدمہ جھیل کر ملک کو ایک نئی نہج پر ڈالا۔ پاکستان کی طرح ترکی میں بھی پارلیمانی جمہوریت ہے۔ تمام انتظامی اختیارات وزیر اعظم اور اس کی کابینہ کے پاس ہیں۔ قانون سازی کا اختیار یک ایوانی ترک پارلیمنٹ کو حاصل ہے، رائے دہی کا حق 1933ء سے18 برس کے ہر ترک شہری کو حاصل ہے۔ پاکستان کی طرح اس ملک میں بھی درجنوں سیاسی جماعتیں سر گرم عمل ہیں۔ ترک عورتوں کو قانون کے مطابق 90 برسوں سے مردوں کے مساوی حقوق حاصل ہیں۔ اتاترک نے عورتوں کی آزادی کے لیے اہم اصلاحات کیں۔ پردے کی قدیم پابندی ختم کی، انھیں سول میرج اور طلاق کا حق دیا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ انھیں ووٹ ڈالنے کا حق دیا جس نے انھیں سیاسی، معاشی اور سماجی معاملات میں خود مختار بنا دیا۔ آپ کو یہ جان کر شاید حیرت ہو کہ امریکا سے بہت پہلے ایک ترک خاتون سپریم کورٹ میں جج کے عہدے پر فائز ہو چکی تھیں۔ ترکی میں ایک خاتون حکومت کی سربراہ بھی رہ چکی ہیں جب کہ امریکا میں ایسا ہونا ابھی باقی ہے۔
ہم ترکوں سے اپنے قلبی تعلق کا بار بار ذکر کرتے ہیں۔ لیکن ہم میں سے بہت کم ہیں جو ترک صنعت، زراعت اور معیشت کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں۔ ترک جمہوریہ کی داخلی مجموعی پیداوار 1358 ارب ڈالر جب کہ پاکستان کی 240 ارب ڈالر ہے۔ کاروبار کے لیے ساز گار ملکوں میں ترکی 71 ویں نمبر پر ہے۔ اس کی سالانہ برآمدات 163.40 ارب ڈالر ہیں اور وہ برآمدات کے حوالے سے دنیا میں 29 واں سب سے بڑا ملک ہے۔2012ء تک ترکی میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری 152.90 ارب ڈالر تھی۔ اس حوالے سے وہ دنیا کا 29 واں ملک تھا۔ اس کی سالانہ آمدنی 209 ارب ڈالر جب کہ سالانہ اخراجات 228.3 ارب ڈالر ہیں۔ اس وقت ہمارے یہاں زر مبادلہ کے ذخائر جس قدر کم ہو چکے ہیں اور ڈالر کو جس طرح پر لگے ہوئے ہیں، اس تناظر میں دیکھئے تو ترکی کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر اگست 2013ء تک: 124.187 ارب ڈالر تھے۔ ترکی دنیا میں فولاد پیدا کرنے والا 10 واں سب سے بڑا کارخانہ رکھتا ہے اور یورپ میں ٹی وی تیار کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔
اس کی تعمیراتی صنعت چین کے بعد دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ اس کی 33 تعمیراتی کمپنیوں کا شمار دنیا کی سب سے بڑی کمپنیوں میں ہوتا ہے اور اس کے طول و عرض میں9 بین الاقوامی ہوائی اڈوں سمیت 102 ہوائی اڈے ہیں۔ ہوائی مسافروں کی سالانہ تعداد 12 کروڑ سے زیادہ ہے جب کہ ریلوے کا 22 واں سب سے بڑا نظام ترکی میں ہے۔ سڑکوں کا جال چار لاکھ 26 ہزار کلومیٹر پر مشتمل ہے۔ جس میں 2 ہزار کلومیٹر کی ایکسپریس وے بھی شامل ہیں۔ ترکی کے پاس 12 سو بحری جہاز ہیں اور یہ دنیا میں جہاز رانی کی 7 ویں بڑی صنعت ہے۔ لینڈ لائن ٹیلی فون اور موبائل کے اعتبار سے ترکی دنیا کا علی الترتیب 18 واں اور 15 واں بڑا ملک ہے۔ سیاحت ترکی کا تیز ترقی کرنے والا شعبہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے 100 بہترین ہوٹلوں میں سے 10 ترکی میں ہیں۔ 3 کروڑ سیاح ہر سال یہاں آتے ہیں جن سے اسے 22 ارب ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے۔
ان خشک اعداد و شمار کو ایک طرف رکھتے ہوئے جب ہم علم و ادب کی دنیا کی طرف نظر کرتے ہیں تو ہمیں وہاں عالمی شہرت یافتہ ادیب اور شاعر ملتے ہیں۔ ناظم حکمت کا ہمارے یہاں شہرہ ہے۔ اسی طرح جدید ترک ادیبوں میں اورحان پامک ادب کا نوبل انعام لے چکا ہے۔ وہ پاکستان نہیں آیا لیکن ہندوستان کے جے پور لٹریری فیسٹول میں اس کی قدر افزائی اپنی آنکھوں سے دیکھ چکی ہوں۔ یہ بھی دیکھا کہ دلی کے ہیبیٹٹ سینٹر میں جہاں مجھ سمیت بمشکل درجن بھر مسلمان تھے، ڈیڑھ ہزار نشستوں والا ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ وہ ہند اسلامی تہذیب اور اسی نوعیت کے معاملات پر لیکچر دے رہا تھا اور ڈیڑھ گھنٹے تک ہال وقفے وقفے سے تالیوں سے گونجتا رہا۔
کل کا قسطنطنیہ جو آج استنبول کے نام سے معروف ہے، اس کے بارے میں اورحان پامک نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ ہر عمر اور ہر نسل کے بچے، نوجوان اور بڑے، عورتیں اور مرد اپنی کھڑکیوں یا بالکونی میں کھڑے ہو کر ان جہازوں کو تکتے اور گنتے رہتے ہیں جو آبنائے باسفورس سے گزرتے ہیں۔ ٹیلی وژن آنے سے پہلے یہ ہر استنبولی کا ایسا مشغلہ تھا جسے وہ کسی فرض کی طرح ادا کرتا تھا۔
پاکستان اور ترکی کا موازانہ کرنے بیٹھئے تو انداز ہوتا ہے کہ ماضی میں ہم معاشی طور پر ان سے کہیں مستحکم اور ترقی یافتہ تھے۔ اگر ہم طے کر لیں تو چند برسوں میں اس گرداب سے نکل سکتے ہیں جس میں آج ہم پھنسے ہوئے ہیں۔ ترکی میں بھی قدامت اور جدت کی خونیں کشمکش چل رہی ہے۔ تاریخ کی آبنائے سے نظریات کے نئے اور پرانے جہاز گزر رہے ہیں۔ ہم انھیں گنتے جاتے ہیں اور جانتے ہیں کہ ان میں سے کون منزل پر پہنچے گا اور کس کے مقدر میں غرقابی ہے۔