لاہور کی بارشیں اور وادیٔ سون کی مارم دیو

جب خبر ملتی ہے کہ لاہور میں بارش ہوتی ہے اور وہ بھی موسلادھار تو میں اخبار میں یہ خوشخبری پڑھتے ہی جب یہ...

Abdulqhasan@hotmail.com

جب خبر ملتی ہے کہ لاہور میں بارش ہوتی ہے اور وہ بھی موسلادھار تو میں اخبار میں یہ خوشخبری پڑھتے ہی جب یہ دیکھتا ہوں کہ میں تو جہاں قیام پذیر ہوں وہاں تو بارش نہیں ہو ئی تو پوچھتا ہوں کہ پھر کہاں ہوئی ہے۔ یہ شہر اس قدر پھیل چکا ہے کہ ایک کے کئی لاہور بن گئے ہیں اور 'لکھاں بوہے تے لکھا باریاں' والا شہر ان نئے لاہوروں میں کہیں گم ہو گیا ہے۔ اس کے دروازوں کی محرابیں گر چکی ہیں یا گرتی جا رہی ہیں اور اس کے پرانے مشہور بازار اب پہچانے نہیں جاتے۔ پرانی دکانوں کے تھڑوں کے نیچے راتوں کو کتے آرام نہیں کرتے اور ان تھڑوں کے اوپر دن بھر کے تھکے بے گھر مزدور خراٹے نہیں لیتے۔ لاہور شہر کی یہ کلاسیکی دنیا یکسر بدل چکی ہے اور اس کے لاتعداد گیت اپنی آوازیں گم کر چکے ہیں۔ وہ اب صرف کتابوں میں ملتے ہیں۔ میں بات تو صرف اتنی کرنا چاہتا تھا کہ لاہور میں جب موسلادھار بارش ہوتی ہے تو مجھے اپنے اس نئے شہر میں بیٹھے ہوئے اپنا پیدائشی اور جدی پشتی گاؤں یاد آتا ہے جہاں بارش صرف برستی نہیں بلکہ کئی تماشے دکھاتی ہے۔

وادیٔ سون کی سکیسر کے بعد دوسری اونچی پہاڑی 'مارم دیو' میرے گاؤں پر سایہ کیے ہوئے ہے۔ اس کی چوٹی اتنی اونچی اور دشوار گزار ہے کہ چرواہے بھی ادھر کا رخ نہیں کرتے، اس کی ترائیوں اور ڈھلوانوں میں ریوڑ چرا کر وہ اسے دیکھ کر واپس آ جاتے ہیں۔ میں مارم دیو کی اس پہاڑی پر برسنے والی بارش کو یاد کر رہا ہوں اور جب لاہور میں میری قیام گاہ پر بارش ہوتی ہے تو مجھے حضرت سلیمان علیہ السلام کا کوئی جن یہاں سے اٹھا کر مارم دیو پہاڑی کے دامن میں کسی پر شور نالے کے کنارے لے جا کر بٹھا دیتا ہے جہاں سے مارم دیو کی اونچائی سے سرپٹ بے تابانہ بہتا ہوا پانی پتھروں سے ٹکراتا اور شور مچاتا ہوا گزرتا ہے اور نیچے زمینوں میں پھیل جاتا ہے۔ ان بارانی زمینوں کو نئی زندگی دینے کے لیے اور ان پر آباد کسانوں کو نئی امیدیں دلانے کے لیے۔ مارم دیو کی بلندی سے آنے والا یہ پانی پہاڑ پر پڑے ہوئے پتوں کی کھاد لے کر آتا ہے اور یہاں روزی کی تلاش میں آنے والے جانوروں کا گوبر بھی جو فصل اگاتا ہے۔


بس یہی زندگی ہے جو مارم دیو کی بلندی سے اترتی ہے اور بے تابی سے منتظر کاشتکاروں کو ایک اور زندگی کی مہلت دے جاتی ہے' ایک نئے سال کی خوشخبری اور جب کبھی مارم دیو پریشان ہو جاتا ہے کہ اس پر بارش نہیں برستی اور وہ اپنے کاشتکاروں کو مایوس کر دیتا ہے تو پھر قحط کے اس سال میں کسان اپنے مال مویشی ہانک کر وادیٔ سون کی بلندیوں سے نیچے اتر آتے ہیں، آبپاش نہری زمینوں کی طرف' یہاں وہ کسی کے مہمان بن جاتے ہیں یا اپنی بچی کچھی پونجی سے چارہ خرید کر اپنے مویشیوں کو زندہ رکھتے ہیں۔ لیکن دن رات وہ اپنے قریب کی پہاڑیوں کی طرف دیکھتے رہتے ہیں کہ بادلوں کا کوئی ٹکڑا دکھائی دیتا ہے یا نہیں اور جب تھوڑی بہت بارش کی خبر بھی ملتی ہے تو وہ فوراً اپنے مویشیوں کے ساتھ واپسی کا سفر شروع کر دیتے ہیں۔ اپنی قحط زدہ خاک اڑاتی زمینوں کی طرف۔ یہی زمینیں ان کی زندگی ہیں اور پھر کسی دن انھیں ان ہی زمینوں کے اندر ہمیشہ کے لیے سو جانا ہے۔ وہ زندگی جو ان زمینوں کی مٹی سے شروع ہوئی ان ہی زمینوں کی مٹی میں جا کر ختم ہو جاتی ہے۔ تعجب ہے کہ کوئی کسی دور دیس میں بھی زندگی کو خیر باد کہتا ہے تو اس کے وارث اسے واپس ان ہی زمینوں میں لے آتے ہیں، مرحوم ان ہی زمینوں کی امانت ہوتا ہے اور اس میں کوئی بھی خیانت نہیں کرتا۔

لاہور میں برسنے والی بارش ایک پردیسی کو کیا کیا یاد دلا دیتی ہے اور وہ اس بے مثال شہر میں بیٹھا ہوا بھی کن جہانوں میں کھو جاتا ہے۔ عمر لاہور میں گزر گئی اور اس شہر نے اس دیہاتی کو نئی زندگی عطا کی' علم دیا' روزی دی اور دوست احباب کا ایک ہجوم دیا' نام اور شہرت دی اور کسی کے کام آنے کے لائق بنایا۔ صحت بھی اسی شہر نے دی اور مہربان ڈاکٹر بھی اسی شہر کا عطیہ ہیں۔ لاہور سے چند قدم باہر نکلیں تو تاریخ کا کوئی نقش سامنے آ جاتا ہے۔ بلکہ خود یہ شہر بھی تاریخ کا ایک زندہ مرقع ہے جسے شاہی مسجد کے مینار دن رات ہی اسے دیکھتے رہتے ہیں اور یوں لگتا ہے جیسے قلعہ بھی ابھی تک اس کی حفاظت میں زندہ ہے اور مغل بادشاہوں کے لشکروں کو دیکھتا رہتا ہے۔

اگر وادیٔ سون' کی مٹی کی خوشبو نہ ہوتی تو شاید یہ پردیسی لاہوری بن کر یہیں رہ جاتا۔ بے شک راوی کی خوشبو بھی راحت جان ہے اور مغلوں کے وقت میں گم ہوتا ہوا یہ دریا اپنے بادشاہوں کی یاد میں بے قرار رہتا ہے لیکن آج کے مغل اس کا پانی بند کرنے والوں کے سامنے چپ ہیں جب کہ یہ صرف ایک دریا نہیں' لاہور شہر ہے ایک تہذیب ہے اور اس کی تاریخ ہے۔ معلوم نہیں راوی کی روانی کے بغیر لاہور کیا ہو گا اور اگر سکیسر اور مارم دیو کی پہاڑیاں نہ ہوں تو یہی وادیٔ سون کا کیا ہو گا اور لاہور کی بارشیں کس کی یاد دلائیں گی۔ وہ بارشیں جو مارم دیو کی بلندیوں سے شور مچاتی ہوئی اترتی ہیں اور نئی زندگی ساتھ لاتی ہیں۔
Load Next Story