یوٹیلیٹی اسٹورز بند نہیں بلکہ انھیں مزید بہتر بنایا جائے
حکومت کو یوٹیلیٹی اسٹورز کو کامیاب بنانے کے لیے عملے کی تربیت پر زور دینا چاہیے
حکومت کو یوٹیلیٹی اسٹورز کو کامیاب بنانے کے لیے عملے کی تربیت پر زور دینا چاہیے فوٹو : فائل
اخباری اطلاع کے مطابق یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن نے ملک بھر میں کم کاروبار والے یوٹیلٹی اسٹورز بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، یہ فیصلہ کارپوریشن کے مالی بحران پر قابو پانے کے لیے کیا گیا ہے۔
کم سیل والے اسٹورز بند کرنے کا عمل بھی شروع کر دیا گیا، اب تک شیخوپورہ، بھکر، ڈی آئی خان سمیت کئی شہروں میں کم از کم 28 اسٹورز بند کر دیے گئے ہیں جب کہ مزید اسٹورز بھی بند کرنے کے انتظامات کرنے شروع کر دیے گئے ہیں۔ خبر میں یوٹیلٹی اسٹور کارپوریشن کے ذرایع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایک لاکھ روپے روزانہ سے کم سیل والے اور خسارے میں چلنے والے اسٹورزکو بند کرنے کے بجائے منافع بخش اسٹوروں میں ضم کیا جائے گا۔
اس سلسلے میں سہ ماہی بنیادوں پر کا کردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔ یوٹیلیٹی اسٹور کارپوریشن کے بارے میں یہ بات طے ہے کہ اس سے کم آمدنی والے گھرانوں کو بہت حد تک ریلیف ملتا ہے، کم از کم آٹے کا تھیلا اور چینی اور کوکنگ آئل میں تھوڑی رعایت مل جاتی تھی۔
جس سے ان ہلکی جیب والوں کو کچھ فائدہ ہو جاتا تھا۔ اب بھی سارے کے سارے اسٹورز کو بند نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ انھیں بہتر آمدنی والے اسٹوروں کے ساتھ ضم کر دیا جانا چاہیے تا کہ ان اسٹوروں کا عملہ بھی بے روزگار نہ ہو اور عام لوگوں کو بھی اشیائے ضرورت قدرے کم قیمت پر میسر ہو تی رہیں گی۔ یوٹیلیٹی اسٹورز کا سلسلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ حکومت کو یوٹیلیٹی اسٹورز کو کامیاب بنانے کے لیے عملے کی تربیت پر زور دینا چاہیے، عملہ ایمانداری سے کام کرے تو یہ اسٹورز بہت کامیاب ہوسکتے ہیںاور ان سے متوسط اور غریب طبقے کو بہت فائدہ مل سکتا ہے۔
کم سیل والے اسٹورز بند کرنے کا عمل بھی شروع کر دیا گیا، اب تک شیخوپورہ، بھکر، ڈی آئی خان سمیت کئی شہروں میں کم از کم 28 اسٹورز بند کر دیے گئے ہیں جب کہ مزید اسٹورز بھی بند کرنے کے انتظامات کرنے شروع کر دیے گئے ہیں۔ خبر میں یوٹیلٹی اسٹور کارپوریشن کے ذرایع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایک لاکھ روپے روزانہ سے کم سیل والے اور خسارے میں چلنے والے اسٹورزکو بند کرنے کے بجائے منافع بخش اسٹوروں میں ضم کیا جائے گا۔
اس سلسلے میں سہ ماہی بنیادوں پر کا کردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔ یوٹیلیٹی اسٹور کارپوریشن کے بارے میں یہ بات طے ہے کہ اس سے کم آمدنی والے گھرانوں کو بہت حد تک ریلیف ملتا ہے، کم از کم آٹے کا تھیلا اور چینی اور کوکنگ آئل میں تھوڑی رعایت مل جاتی تھی۔
جس سے ان ہلکی جیب والوں کو کچھ فائدہ ہو جاتا تھا۔ اب بھی سارے کے سارے اسٹورز کو بند نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ انھیں بہتر آمدنی والے اسٹوروں کے ساتھ ضم کر دیا جانا چاہیے تا کہ ان اسٹوروں کا عملہ بھی بے روزگار نہ ہو اور عام لوگوں کو بھی اشیائے ضرورت قدرے کم قیمت پر میسر ہو تی رہیں گی۔ یوٹیلیٹی اسٹورز کا سلسلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ حکومت کو یوٹیلیٹی اسٹورز کو کامیاب بنانے کے لیے عملے کی تربیت پر زور دینا چاہیے، عملہ ایمانداری سے کام کرے تو یہ اسٹورز بہت کامیاب ہوسکتے ہیںاور ان سے متوسط اور غریب طبقے کو بہت فائدہ مل سکتا ہے۔