زیادتی کے مقدمات دہشتگردی ایکٹ کے تحت درج ہونگے روبینہ قائمخانی
مقدمات سیشن کورٹس میں چلائے گئے تو انصاف کے حصول میں تاخیر ہو سکتی ہے
واقعات کی روک تھام کے لیے تمام اداروں کو اپنی ذمے داریاں پوری کرنی ہوگی،صوبائی وزیر۔فوٹو : این این آئی
صوبائی وزیر برائے سماجی حقوق روبینہ سعادت قائم خانی نے کہا ہے کہ معصوم بچوں کے سا تھ جنسی زیادتی کے مقدمات انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کیے جائیں گے۔
بچیوں کے ساتھ ایسے روح فرسا واقعات کی روک تھام کے لیے تمام اداروں کو اپنی ذمے داریاں پوری کرنی ہوگی ، تعلیمی اداروں سے بچوں کو والدین کے ہی حوالے کرنے کا قانون جلد پاس کرایا جائے گا، وہ ہفتہ کو رکن سندھ اسمبلی ساحرہ شہلیانی کے ہمراہ کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہی تھیں ، روبینہ سعادت قائم خانی نے کہا کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں روز بروز اضافہ تشویش ناک ہے ، جیسے ہی عزیز آباد کی رہائشی 13سالہ نیہا کے ساتھ یہ افسوس ناک واقعہ پیش آیا تو ہمارے ادارے نے فوری کارروائی شروع کر دی تھی ،انھوں نے کہا کہ اس کیس میں پولیس کا کردار بھی قابل تحسین ہے جس نے فوری کاروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کیا ۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم یہ قانون بنا چاہتے ہیں کہ والدین ہی اپنے بچوں کو چھٹی کے اوقات میں خود اسکولوں سے لائیں تا کہ ایسے واقعات کی روک تھام میں مدد مل سکے ، اسی حوالے سے جلد سندھ اسمبلی سے بل پاس کرایا جائے گا ، انھوں نے کہا کہ 13سالہ نیہا کے واقعہ پیش آتے ہی وزیر اعلیٰ نے متعلقہ اداروں کو کارروائی کی ہدایت کی تھی اور ہم نے پولیس کو یہ ہدایات بھی جاری کی ہیں کہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے مقدمات انسداد دہشت گردی کے ایکٹ 7کے تحت درج کیے جائیں اور ان مقدمات کو سیشن کورٹ کے بجائے دہشت گردی کی عدالتوں میں چلایا جائے ۔
انھوں نے کہا کہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے وقعات روکنے کے لیے ججز اور عدالتوں کو بھی اپنی ذمے داریاں پوری کرنی ہوگی ، اگر ایسے مقدمات سیشن کورٹس میں چلائیں گئے تو انصاف کے حصول میں تاخیر ہو سکتی ہے ،جب تک مجرموں کو کڑی سزائیں نہیں دی جائیں گی تب تک جرائم میں کمی ممکن نہیں ہو سکتی ہے ،ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ گھوٹکی میں قتل ہونے والی سماجی کارکن کے کیس پر بھی پیشرفت ہوئی ہے ، اس کیس کے متعلق بھی رپورٹ کو جلد منظر عام پر لائیں گے ۔
بچیوں کے ساتھ ایسے روح فرسا واقعات کی روک تھام کے لیے تمام اداروں کو اپنی ذمے داریاں پوری کرنی ہوگی ، تعلیمی اداروں سے بچوں کو والدین کے ہی حوالے کرنے کا قانون جلد پاس کرایا جائے گا، وہ ہفتہ کو رکن سندھ اسمبلی ساحرہ شہلیانی کے ہمراہ کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہی تھیں ، روبینہ سعادت قائم خانی نے کہا کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں روز بروز اضافہ تشویش ناک ہے ، جیسے ہی عزیز آباد کی رہائشی 13سالہ نیہا کے ساتھ یہ افسوس ناک واقعہ پیش آیا تو ہمارے ادارے نے فوری کارروائی شروع کر دی تھی ،انھوں نے کہا کہ اس کیس میں پولیس کا کردار بھی قابل تحسین ہے جس نے فوری کاروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کیا ۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم یہ قانون بنا چاہتے ہیں کہ والدین ہی اپنے بچوں کو چھٹی کے اوقات میں خود اسکولوں سے لائیں تا کہ ایسے واقعات کی روک تھام میں مدد مل سکے ، اسی حوالے سے جلد سندھ اسمبلی سے بل پاس کرایا جائے گا ، انھوں نے کہا کہ 13سالہ نیہا کے واقعہ پیش آتے ہی وزیر اعلیٰ نے متعلقہ اداروں کو کارروائی کی ہدایت کی تھی اور ہم نے پولیس کو یہ ہدایات بھی جاری کی ہیں کہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے مقدمات انسداد دہشت گردی کے ایکٹ 7کے تحت درج کیے جائیں اور ان مقدمات کو سیشن کورٹ کے بجائے دہشت گردی کی عدالتوں میں چلایا جائے ۔
انھوں نے کہا کہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے وقعات روکنے کے لیے ججز اور عدالتوں کو بھی اپنی ذمے داریاں پوری کرنی ہوگی ، اگر ایسے مقدمات سیشن کورٹس میں چلائیں گئے تو انصاف کے حصول میں تاخیر ہو سکتی ہے ،جب تک مجرموں کو کڑی سزائیں نہیں دی جائیں گی تب تک جرائم میں کمی ممکن نہیں ہو سکتی ہے ،ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ گھوٹکی میں قتل ہونے والی سماجی کارکن کے کیس پر بھی پیشرفت ہوئی ہے ، اس کیس کے متعلق بھی رپورٹ کو جلد منظر عام پر لائیں گے ۔