کاجل آنکھوں کی منڈیر پر سوگئی رات
کاجل لگی آنکھیں دیکھ کر لگتا ہے جیسے آنکھ کی منڈیر پر رات سوگئی ہو،
ماڈل: عینی، فوٹو: موسیٰ رضا/ایکسپریس
ISLAMABAD:
آنکھیں، ہونٹوں سے زیادہ بولتی ہیں۔ ان دریچوں سے شخصیت کا سارا حُسن جھلکتا ہے، سارے جذبے ان سے عیاں ہوتے ہیں، ساری کیفیتیں ان سے چھلکتی ہیں۔
یہ دل کے راز تک کہہ دیتی ہیں۔ سو جب یہ سجتی سنورتی ہیں تو پوری شخصیت دل کش ہوجاتی ہے، اور نینوں کی سجاوٹ کا جو سامان کاجل کرتا ہے وہ کسی اور ذریعے سے نہیں ہوسکتا۔
کاجل آنکھوں کا حُسن کی دوبالا نہیں کرتا انھیں نمایاں بھی کرتا ہے۔ کاجل لگی آنکھیں دیکھ کر لگتا ہے جیسے آنکھ کی منڈیر پر رات سوگئی ہو، جیسے روشنی کے سائے میں اندھیرا بسیرا کیے ہوئے ہو، جیسے پلکوں کی چھاؤں گہری ہوگئی ہو۔ اور جب نیند اور آنسو کاجل کو پھیلادیں تو حسن کچھ اور نکھر جاتا ہے، روپ کچھ اور سنور جاتا ہے۔
آنکھیں، ہونٹوں سے زیادہ بولتی ہیں۔ ان دریچوں سے شخصیت کا سارا حُسن جھلکتا ہے، سارے جذبے ان سے عیاں ہوتے ہیں، ساری کیفیتیں ان سے چھلکتی ہیں۔
یہ دل کے راز تک کہہ دیتی ہیں۔ سو جب یہ سجتی سنورتی ہیں تو پوری شخصیت دل کش ہوجاتی ہے، اور نینوں کی سجاوٹ کا جو سامان کاجل کرتا ہے وہ کسی اور ذریعے سے نہیں ہوسکتا۔
کاجل آنکھوں کا حُسن کی دوبالا نہیں کرتا انھیں نمایاں بھی کرتا ہے۔ کاجل لگی آنکھیں دیکھ کر لگتا ہے جیسے آنکھ کی منڈیر پر رات سوگئی ہو، جیسے روشنی کے سائے میں اندھیرا بسیرا کیے ہوئے ہو، جیسے پلکوں کی چھاؤں گہری ہوگئی ہو۔ اور جب نیند اور آنسو کاجل کو پھیلادیں تو حسن کچھ اور نکھر جاتا ہے، روپ کچھ اور سنور جاتا ہے۔