شام پر امریکی جارحیت کا خدشہ موجود ہے

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شام کے کیمیاوی ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے قرار داد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے۔۔۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شام کے کیمیاوی ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے قرار داد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے. فوٹو اے ایف پی

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شام کے کیمیاوی ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے قرار داد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے۔ سیکریٹری جنرل بان کی مون نے شامی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ قرار داد پر عملدرآمد کے لیے مخلصانہ اقدامات کرے۔ اس کے ساتھ ہی امریکی وزیر خارجہ نے دھمکی آمیز انداز میں کہا ہے کہ اگر شام نے قرار داد پر عملدرآمد نہ کیا تو اس کو سزا بھگتنا ہو گی۔ واضح رہے کہ سلامتی کونسل میں شام کے کیمیاوی ہتھیاروں کے خلاف قرار داد امریکا اور روس کی جانب سے مشترکہ طور پر پیش کی گئی جسے سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اور دس غیر مستقل ممالک نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ قرار داد میں کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کی مذمت کی گئی اور شام سے مطالبہ کیا گیا وہ اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو اپنے ہتھیاروں کے ذخائر تک بلا رکاوٹ رسائی دے۔

سیکریٹری جنرل بان کی مون نے قرار داد کی منظوری کو تاریخی واقعہ قرار دیا۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بھی قرار داد کی منظوری کا خیر مقدم کیا لیکن ساتھ ہی کہا کہ کوئی ایک ملک ساری دنیا کا لیڈر نہیں بن سکتا بلکہ عالمی مسائل کے حل کے لیے ضروری ہے کہ تمام ملک آپس میں تعاون کریں اور بین الاقوامی قوانین پر کاربند رہیں، فوجی حملے کی دھمکی سے معاملات حل نہیں ہو سکتے۔ ان کا اشارہ شام کو امریکا کی دھمکیوں کی طرف تھا۔ تاہم امریکی وزیر خارجہ جان کیری بدستور شام کو سخت سزا کی دھمکیاں دیتے رہے۔ لیکن روسی وزیر خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ کیمیاوی ہتھیاروں کے اتلاف کے حوالے سے تمام تر ذمے داری صرف شامی حکومت پر ہی نہ ڈالی جائے بلکہ اس حوالے سے شامی حزب مخالف پر بھی تعاون کے لیے زور دیا جائے۔


یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ شامی حکومت کی طرف سے کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کا الزام مخالفین پر عاید کیا جاتا رہا ہے جن کو امریکا کی طرف سے بھرپور امداد دی جا رہی ہے۔ جب کہ یہ حقیقت کسی سے مخفی نہیں کہ کیمیاوی ہتھیاروں کا سب سے بڑا تیار کنندہ خود امریکا ہی ہے جس نے ایران کے خلاف عراق کی جنگ میں یہ ہتھیار عراق کو فراہم کیے۔ عراق نے ان کیمیاوی ہتھیاروں کو ایرانی فوج پر استعمال کیا۔ان مہلک ہتھیاروں کے باعث ایرانی فوج کا بھاری جانی نقصان بھی ہوا تھا۔صدام حسین نے عراقی کردوں کے خلاف بھی یہ ہتھیار استعمال کیے تھے۔ اس موقع پر امریکا کی طرف سے عراق پر کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کا کوئی اعتراض نہیں اٹھایا گیا۔

لیکن جب امریکا کے اپنے مفادات کی باری آئی تو اس نے عراق پر نہ صرف کیمیاوی ہتھیار تیار کرنے کا الزام عائد کیا بلکہ دنیا میں پروپیگنڈا بھی کیا کہ عراق ایٹم بم بھی بنا رہا ہے۔ صدام حسین پر القاعدہ سے تعلقات کے الزامات بھی عائد کیے۔ ان الزامات کا بہانہ بنا کر عراق پر حملہ کر دیا۔لیبیا کے خلاف بھی اسی طرح کی حکمت عملی اختیار کی گئی ۔وہاں معمر القذافی کے خلاف انتہا پسند گروپوں کو مدد فراہم کی گئی۔ اب شام کے بارے میں بھی ایسی ہی پالیسی اختیار کی جا رہی ہے ۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ امریکا اقوام متحدہ کا ساتھ بھی دے رہا ہے اور ادھر شام کو دھمکی بھی دے رہا ہے۔ کیمیاوی ہتھیاروں کا معاملہ اقوام متحدہ کے پاس ہے اور وہی اس معاملے میں حتمی رائے دینے کی مجاز ہے۔ امریکا کو اس معاملے میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ امریکا کی حکمت عملی کو دیکھا جائے تو یہ خدشہ موجود ہے کہ امریکا کو جوں ہی کوئی موقع ملا ، وہ شام پر جارحیت کرسکتا ہے۔
Load Next Story