ٹیکس مسائل ہائی برڈ الیکٹرک گاڑیاں متعارف کرانے میں حائل

صنعتی ذرائع کا کہنا ہے کہ استعمال شدہ کاروں کی پالیسی کے تحت جولائی میں تقریباً 90گاڑیاں در آمد کی گئی تھی

پاکستان میں گاڑیاں اسمبل کرنے والی وہ کمپنیاں مشکلات کا شکار ہیں جو بیرون ملک سے ہائی برڈ کاریں درآمد کرکے صارفین کو فروخت کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD:
مقامی کار مینوفیکچررز پاکستان میں ہائی برڈ الیکٹرک گاڑیاں متعارف کرانے کے لیے تیار بیٹھے ہیں لیکن سیلز ٹیکس کے قوانین اور بجٹ میں ہائی برڈ کاروں کی درآمد پر دی جانے والی ٹیکس کی چھوٹ کا فرق سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

یاد رہے کہ بجٹ میں دی جانے والی چھوٹ کا اطلاق درآمدی سطح پر کیا گیا ہے جبکہ ہائی برڈ کاروں کی بعد از فروخت پر کوئی چھوٹ نہیں دی گئی، اس صورتحال کی وجہ سے پاکستان میں گاڑیاں اسمبل کرنے والی وہ کمپنیاں مشکلات کا شکار ہیں جو بیرون ملک سے ہائی برڈ کاریں درآمد کرکے صارفین کو فروخت کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ آٹو سیکٹر کے ذرائع نے بتایا کہ سیلز ٹیکس قوانین میں بے قاعدگی تجارتی درآمدکنندگان کی نسبت مقامی سطح پر گاڑیاں اسمبل کرنے والوں کے لیے ناموافق صورت حال پیدا کر رہی ہے جبکہ ان کی نسبت بے اصول درآمد کنندگان سمندرپار پاکستانیوں کے لیے بنائی گئی کار درآمدی پالیسی کا بے جا استعمال کرتے ہوئے اس سے فیضیاب ہو رہے ہیں۔

ہائی برڈ الیکٹرک گاڑیوں کے لیے ایس آر او نمبر 499 (1)/2013 صرف درآمدی سطح پر ٹیکس کی چھوٹ فراہم کر رہا ہے اور پرچون کی سطح پر دستیاب نہیں، چونکہ اسمبلرز پہلے گاڑیاں درآمد کریں گے اور پھر انہیںصارفین کو فروخت کریں گے لہٰذا انہیں موجودہ شرح پر پورا 17فیصد سیلز ٹیکس ادا کرنا ہوگا، جبکہ تجارتی درآمد کنندہ کو17 فیصد کے بجائے 8.5 فیصد کی شرح سے درآمدی سطح پر سیلز ٹیکس ادا کرنا ہوگا نتیجتاً مقامی اسمبلر جو پوری طرح دستاویزی عمل پر عملدرآمد کرتے ہیں حکومت کی اعلان کردہ ٹیکس چھوٹ کی پالیسی سے صارفین کیلیے درآمد کی جانے والی ہائی برڈ الیکٹرک گاڑیوں پرکوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔کار اسمبلرز نے وزارت خزانہ سے درخواست کی ہے کہ اس بے قاعدگی کوجتنی جلد ہو سکے دور کریں تاکہ ان کے لیے ایک جیسا میدان یقینی بنایا جا سکے۔




اسمبلرز نے پہلے ہی سے یہ منصوبہ بنا رکھا ہے کہ بالکل نئی ہائی برڈ گاڑیاں مکمل وارنٹی اور بعد از فروخت سہولت کے ساتھ فراہم کی جائیں گی تاکہ صارفین کو ذہنی سکون میسر آ سکے۔ انڈس موٹر کمپنی (آئی ایم سی) نے پہلے ہی سے اس سال درآمدی برانڈ کی نئی ہائی برڈ کار متعارف کرانے کا منصوبہ بنا رکھا ہے جبکہ معلوم ہوا ہے کہ ہنڈا اٹلس کاروالے بھی ہائی برڈ کاریں متعارف کرانے کے بارے میں غور کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ مالی سال 2012-13 میں 2800 کے قریب استعمال شدہ ٹویوٹا Prius گاڑیاں ملک میں پہنچی تھیں، 2013-14کے بجٹ میں حکومت نے 1200سی سی تک کی ہائی برڈ کاروں پر درآمدی ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس کو زیرو فیصد کر دیا تھا جب 1201 سے 1800 سی سی کی ہائی برڈ کاروں کیلیے ڈیوٹی میں 50فیصد اور 1800 سے 2500سی سی کی ہائی برڈ کاروں کیلیے 25 فیصد کمی کا اعلان کیا گیا۔

صنعتی ذرائع کا کہنا ہے کہ استعمال شدہ کاروں کی پالیسی کے تحت جولائی میں تقریباً 90گاڑیاں در آمد کی گئی تھیں اور اگست 2013میں 218کے قریب ہائی برڈ کاریں درآمد کی گئیں، ان کاروں کو درآمد کرنے والے ٹیکس وغیرہ میں چھوٹ کے مزے لینے کے باوجود صارف کو کسی قسم کی وارنٹی یا بعد از فروخت سروس فراہم نہیں کرتے جبکہ کار اسمبلرز جو نئی ہائی برڈ گاڑیاں درآمد کر رہے ہیں وہ فالتو پرزوں، بعد از فروخت سروس اور وارنٹی سمیت مکمل بیک اپ سپورٹ فراہم کرتے ہیں۔
Load Next Story