ہفتہ رفتہ روپے کی قدر میں کمی کے باعث روئی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ

مقامی منڈیوں میں 300تا400روپے اضافہ،پنجاب میں 7400،سندھ میں 7300،اسپاٹ ریٹ 7250روپے من تک پہنچ گئے

رواں ہفتے بھی تیزی رہے گی،گلابی سنڈی کے حملے کے باعث پیداوار میں کمی،معیار بھی متاثرہ ہونے کا اندیشہ ہے، احسان الحق۔ فوٹو: فائل

امریکا میں بارشوں کی پیش گوئیوں کے باعث مجموعی ملکی پیداوار میں متوقع کمی کی اطلاعات کے باعث گزشتہ ہفتے کے دوران نیویارک کاٹن ایکس چینج اور بھارت میں تمام کاٹن زونز میں جاری شدید بارشوں باعث روئی کی قیمتوں میں زبردست تیزی کا رجحان سامنے آیا جبکہ روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں غیر معمولی اضافے کے باعث پاکستان میں گزشتہ ہفتے کے دوران روئی کی قیمتیں غیر معمولی اضافے کے ساتھ جاری سیزن کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔

پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) کے سابق ایگزیکٹو ممبر احسان الحق نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران پاکستان میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر 110روپے تک پہنچنے اور پھٹی کی آمد میں غیر متوقع کمی کے باعث روئی اور سوتی دھاگے کی برآمد کے رجحان میں غیر معمولی اضافے کے پیش نظر پاکستان میں روئی کی قیمتیں 300سے 400روپے فی من اضافے کے ساتھ پنجاب میں 7ہزار 400جبکہ سندھ میں 7ہزار 300روپے فی من تک پہنچ گئیں اور توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ رواں ہفتے کے دوران بھی روئی اور پھٹی کی قیمتوں میں تیزی کا رجحان جاری رہے گا۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران بھارت میں شدید بارشوں کے باعث کپاس کی فصل کو غیر معمولی نقصان پہنچا ہے وہاں کپاس کی نئی فصل کی آمد میں غیر معمولی متوقع تاخیر کے باعث اطلاعات کے مطابق بھارتی حکومت نے کچھ عرصے قبل اعلان کی گئیں روئی اور سوتی دھاگے کی برآمد پر مراعات واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔




جبکہ ڈائریکٹر جنرل فارن ٹریڈ بھارت نے بھی ایک اعلامیے کے ذریعے روئی کی برآمد پر کنٹرول کرنے کیلیے ایک ایکسپورٹر کو زیادہ سے زیادہ 30ہزار بیلز برآمد کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ 2013-14 کے دوران بھارت میں کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار میں غیر متوقع کمی کی صورت میں ملکی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ چین نے بھی روئی کے نیشنل ریزروز کیلیے روئی کی خریداری شروع کر دی ہے اور ابتدائی طور پر 780ٹن روئی ان ریزروز کیلیے خریدی گئیں ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر چین نے اپنے نیشنل ریزروز کیلیے روئی کی خریداری جاری رکھی تو اس سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں روئی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا رجحان سامنے آ سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران نیویارک کاٹن ایکس چینج میں حاضر ڈلیوری روئی کے سودے 0.70سینٹ فی پائونڈ اضافے کے ساتھ 91.45 سینٹ فی پائونڈ،دسمبر ڈیلوری روئی کے سودے 2.11سینٹ فی پائونڈ اضافے کے ساتھ 86.63سینٹ فی پائونڈ تک پہنچ گئیں جبکہ بھارت میں گزشتہ ہفتے کے دوران روئی کی قیمتیں 1ہزار 489روپے فی کینڈی اضافے کے ساتھ 48ہزار 204روپے فی کینڈی، چین میں نومبر ڈلیوری روئی کے سودے 195یو آن فی ٹن اضافے کے ساتھ 20ہزار 280یو آن فی ٹن جبکہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن میں گزشتہ ہفتے کے دوران روئی کے اسپاٹ ریٹ 350روپے فی من اضافے کے ساتھ جاری سیزن کی بلند ترین سطح 7ہزار 250روپے فی من تک پہنچ گئے۔احسان الحق نے بتایا کہ سندھ کے بیشتر کاٹن زونز میں رواں سال کپاس کی فصل پر گلابی سنڈی کا شدید حملہ دیکھنے میں آ رہا ہے جس کے باعث روئی کی پیداوار میں کمی کے ساتھ ساتھ روئی کا معیار بھی متاثرہ ہونے کا اندیشہ بڑ ھ رہا ہے کاشت کاروں کو چاہیے کہ وہ کپاس کی چنائی مکمل ہونے سے پہلے کھیتوں میں بچے کچھے کپا س کے ٹینڈوں کو مکمل طور پر آگ لگائیں اور کپاس کی نئی فصل کی کاشت سے پہلے ان کھیتوں میں جنسی پھندے لگائیں تاکہ گلابی سنڈی دوبارہ کپاس کی فصل پر حملہ آور نہ ہو سکے۔
Load Next Story