امراض قلب کے مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے ماہرین طب

جدید انداززندگی اور اس کی آسائشیں انسانی صحت پر مضر اثرات مرتب کر رہی ہیں،ڈاکٹر جاوید حسن اور ڈاکٹر کاشف شیخ کا خطاب

مرغن غذائیں اور ذہنی دباؤ دل کے امراض میں اضافے کا سبب ہیں۔ فوٹو: فائل

سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سید جاوید حسن رضوی نے کہاہے کہ صحت مند طرزِزندگی اختیار کرکے مستقبل کی نسلوں کو ابتدا ہی سے دل کے امراض سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔

یہ بات بڑی تشویشناک ہے کہ دینا بھر میں دل کے مریضوں کی تعداد میں بڑی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، دل کے امراض نہ صرف بڑی عمر کے افراد کو بلکہ بچوں اور عورتوں کو بھی اپنی گرفت میں لے رہے ہیں جس کی بنیادی وجہ ہمارا سہل طرزِ زندگی ہے، لوگ ورزش اور بھاگ دوڑ سے گریز کرنے لگے ہیں،سستی کاہلی اور مرغن غذاؤں کا بڑھتا ہوا استعمال، ذہنی دبائو، ڈپریشن وغیرہ دل کے امراض میں اضافہ کا ایک بہت بڑا سبب ہے، یہ بات انھوں نے ''عالمی یوم قلب''کے موقع پرمنعقدہ سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے کہی، انھوںنے کہا کہ جدید اندازِ زندگی اور اس کی آسائشیں انسانی صحت پر مضر اثرات مرتب کرنے کا ذریعہ بن رہی ہیں، اگر لوگ ابتدا ہی سے صحت مند طرزِ زندگی اپنائیں تو وہ اپنے آپ کو دل کے امراض سے کافی حد تک محفوظ رہ سکتے ہیں۔




سرسید یونیورسٹی کے کوالٹی انہانسمنٹ سیل کی جانب سے عالمی یوم قلب کے موقع پر ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں ٹبہ ہارٹ انسٹی ٹیوٹ کے ماہر امراض قلب ڈاکٹر کاشف شیخ نے دل کے امراض اور ان کے سدباب پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ جوانی میں دل کا دورہ انتہائی مہلک ثابت ہوتا ہے، ڈاکٹر کاشف نے مشورہ دیا کہ سینے میں درد کی صورت میں فوراََ ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے اور ایمرجنسی میں ڈاکٹر یا اسپتال جانے سے پہلے فوراََ 300 ملی گرام کی ڈسپرین کھالیں،زیابطیس کے مرض میں دل کے امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، انھوں نے بتایا کہ کولیسٹرول کی 60 فیصد مقدار غذا سے حاصل ہوتی ہے جبکہ باقی ماندہ 40 فیصد جسم میں پیدا ہوتی ہے۔
Load Next Story