مقتول پولیس اہلکار کے اہلخانہ کو نامعلوم افراد کی دھمکیاں

دوران غسل انکشاف ہوا کہ شہزاد گولی لگنے سے ہلاک ہوا، مقتول کے بھائی کی گفتگو

شہزاد کا کسی ساتھی اہلکار سے جھگڑا بھی چل رہا تھا۔ فوٹو: فائل

سائٹ ایریا میں پراسرار فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے پولیس اہلکار شہزاد کے اہل خانہ کو قتل کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔

نامعلوم افراد کا کہنا ہے کہ اہلخانہ مکمل خاموشی اختیار کریں اور واقعے کے خلاف کسی قسم کی کوئی کارروائی نہ کریں، شہزاد کا کسی ساتھی اہلکار سے جھگڑا بھی چل رہا تھا ، اہل خانہ نے آئی جی سندھ سے نوٹس لینے کی اپیل کردی ، یہ بات مقتول کے بھائی محمد حسین نے اپنی رہائش گاہ پر ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ، انھوں نے بتایا کہ پولیس کی جانب سے انھیں جمعہ کی شب اطلاع دی گئی کہ ان کا بھائی ہارٹ اٹیک کے باعث انتقال کرگیا ہے ، وہ میٹروول میں قائم نجی اسپتال پہنچے وہاں پولیس نے ان کے بھائی کی میت ان کے حوالے کردی ، رات زیادہ گزرنے پر انھوں نے میت کو ایدھی سرد خانے میں رکھوادیا لیکن ہفتہ کی صبح جب وہاں اسے غسل دیا جارہا تھا تو اس دوران شہزاد کے جسم سے خون بہنے لگا۔




اس پر انکشاف ہوا کہ اسے گولی لگی تھی ، فوری طور پر میت کو عباسی شہید اسپتال لے جایا گیا جہاں پوسٹ مارٹم کیا گیا ، محمد حسین نے کہا کہ واقعے کے بعد پولیس کو آگاہ کیا گیا لیکن کوئی نوٹس نہیں لیا گیا، انھوں نے ہفتہ کو اورنگی ٹائون کے مقامی قبرستان میں سپرد خاک کردیا ، مقتول شہزاد 4 بھائیوں اور 4 بہنوں میں سب سے چھوٹا تھا ، محمد حسین نے مزید بتایا کہ نماز جنازہ و تدفین میں کسی پولیس افسر نے شرکت نہیں کی بلکہ ستم ظریفی یہ ہے کہ نامعلوم افراد کی جانب سے انھیں ٹیلیفون کالز موصول ہورہی ہیں جس میں انھیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔

نامعلوم افراد کا کہنا ہے کہ جو حال شہزاد کا کیا ہے وہی حال تمام اہل خانہ کا کردیں گے ، اہل خانہ مکمل طور پر خاموشی اختیار کریں ، محمد حسین نے آئی جی سندھ سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر ان کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کا نوٹس لیں۔ پولیس نے شہزاد رضا کے قتل کا مقدمہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کرلیا ، ایس ایچ او تھانہ سائٹ اے اسلم بلوچ نے ایکسپریس کو بتایا کہ پولیس نے واقعے کا مقدمہ مقتول شہزاد رضا کے بھائی محمد حسین کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کرلیا ، انھوں نے کہا کہ تفتیش کا آغاز کردیا گیا ہے اور جو بھی اس واقعے میں ملوث پایا گیا اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
Load Next Story