چیمپئنز لیگ ٹی 20 ڈی کوک ہیرو سے زیرو بن گئے
پرتھ کو 9وکٹ سے مات دینے والی راجستھان رائلز کی فائنل فور میں رسائی
چیمپئنز لیگ :اوٹاگو کیخلاف سنچری کی تکمیل پر ڈی کوک مداحوں کی داد کا جواب دے رہے ہیں۔ فوٹو: سی ایل ٹی 20
چیمپئنز لیگ انتہائی سنسنی خیزمعرکے میں لائنز کے کوئنٹن ڈی کوک ہیرو سے زیرو بن گئے۔
دو بار ٹائی ہونے والے میچ میں ایک اضافی بائونڈری پر اوٹاگو وولٹس نے میدان مارلیا، جیمزنیشام نے میلہ لوٹ لیا۔ دوسرے میچ میں راجستھان رائلز نے پرتھ اسکوچرز کو 9 وکٹ سے پچھاڑکر سیمی فائنل میں رسائی حاصل کرلی۔تفصیلات کے مطابق لائنز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 4 وکٹ پر 167 رنز بنائے، اس میں سب سے زیادہ حصہ ڈی کوک کا تھا جنھوں نے 63 بالز پر 5 چھکوں اور 10 چوکوں کی مدد سے ناٹ آئوٹ 109 رنز بنائے۔ جواب میں اوٹاگو نے 19 ویں اوور کے اختتام تک 7 وکٹ پر 157 رنز بنائے، انھیں آخری اوور میں فتح کیلیے 11 رنز درکار تھے، سہیل تنویر کی پہلی ہی گیند پر نیشام نے چھکا جڑ دیا، آخری بال پر فتح کیلیے دو رن درکار تھے۔
سہیل تنویر نے ویگنر کو بیٹ کیا مگر وکٹ کیپر ڈی بورڈر گیند کو فوری طور پر تھام نہ پائے جس کی وجہ سے بائی کا رن بنا اور میچ ٹائی ہوکر سپر اوور میں چلا گیا، سہیل کو نیشام نے پہلے چوکا اور پھر برینڈن میک کولم نے چھکا جڑ کر ٹیم کا اسکور 13 تک پہنچایا، جواب میں ڈی کوک نے نیشام کو پہلی دو بالز پر چوکا اور چھکا جڑ کر اپنی ٹیم کی فتح کا امکان روشن کیا مگر اگلی گیند پر ایک رن لے کر سیمس کو اسٹرائیک دی اور وہ آئوٹ ہوگئے، پانچویں بال پر ڈی کوک نے دوڑنے میں تیزی نہیں دکھائی یوں ایک رن بنا، اب آخری بال پر لائنز کو دو رنز چاہیے تھے مگر حیران کن طور پر ڈی کاک دوسرا رن لیتے ہوئے وکٹ کے درمیان میں رکے اور پھر واپس لوٹ پڑے جس پر میک کولم کی ڈائریکٹ ہٹ نے نئے بیٹسمین پریٹوریس کو رن آئوٹ کردیا۔
ڈی کوک اگر بھاگنے کا سلسلہ جاری رکھتے تو اپنی ٹیم کو جتوا دیتے۔ یوں میچ سپر اوور میں بھی ٹائی ہوگیا، اب پلیئنگ کنڈیشنز کے تحت فاتح کا فیصلہ مین اننگز اور سپر اوور دونوں میں جڑی گئی مجموعی بائونڈریز (چوکے، چھکے) کی تعداد پر ہوا، لائنز نے مین میچ میں 18 اور سپر اوورز میں دو بائونڈریز جڑیں جبکہ اوٹاگو کی مین میچ میں 19 اور سپر اوور میں دو بائونڈریز تھیں، اس لیے وہ فتح کے حقدار قرار پائے۔دوسرے میچ میں پرتھ اسکوچرز 120 رنز پر آئوٹ ہوئے، کیون کوپر نے چار وکٹیں لیں، جواب میں راجستھان رائلز نے ایک وکٹ پر ہدف حاصل کرلیا، اجنکیا راہنے 62 اور سنجو سیمسن 50 پر ناٹ آئوٹ رہے۔
دو بار ٹائی ہونے والے میچ میں ایک اضافی بائونڈری پر اوٹاگو وولٹس نے میدان مارلیا، جیمزنیشام نے میلہ لوٹ لیا۔ دوسرے میچ میں راجستھان رائلز نے پرتھ اسکوچرز کو 9 وکٹ سے پچھاڑکر سیمی فائنل میں رسائی حاصل کرلی۔تفصیلات کے مطابق لائنز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 4 وکٹ پر 167 رنز بنائے، اس میں سب سے زیادہ حصہ ڈی کوک کا تھا جنھوں نے 63 بالز پر 5 چھکوں اور 10 چوکوں کی مدد سے ناٹ آئوٹ 109 رنز بنائے۔ جواب میں اوٹاگو نے 19 ویں اوور کے اختتام تک 7 وکٹ پر 157 رنز بنائے، انھیں آخری اوور میں فتح کیلیے 11 رنز درکار تھے، سہیل تنویر کی پہلی ہی گیند پر نیشام نے چھکا جڑ دیا، آخری بال پر فتح کیلیے دو رن درکار تھے۔
سہیل تنویر نے ویگنر کو بیٹ کیا مگر وکٹ کیپر ڈی بورڈر گیند کو فوری طور پر تھام نہ پائے جس کی وجہ سے بائی کا رن بنا اور میچ ٹائی ہوکر سپر اوور میں چلا گیا، سہیل کو نیشام نے پہلے چوکا اور پھر برینڈن میک کولم نے چھکا جڑ کر ٹیم کا اسکور 13 تک پہنچایا، جواب میں ڈی کوک نے نیشام کو پہلی دو بالز پر چوکا اور چھکا جڑ کر اپنی ٹیم کی فتح کا امکان روشن کیا مگر اگلی گیند پر ایک رن لے کر سیمس کو اسٹرائیک دی اور وہ آئوٹ ہوگئے، پانچویں بال پر ڈی کوک نے دوڑنے میں تیزی نہیں دکھائی یوں ایک رن بنا، اب آخری بال پر لائنز کو دو رنز چاہیے تھے مگر حیران کن طور پر ڈی کاک دوسرا رن لیتے ہوئے وکٹ کے درمیان میں رکے اور پھر واپس لوٹ پڑے جس پر میک کولم کی ڈائریکٹ ہٹ نے نئے بیٹسمین پریٹوریس کو رن آئوٹ کردیا۔
ڈی کوک اگر بھاگنے کا سلسلہ جاری رکھتے تو اپنی ٹیم کو جتوا دیتے۔ یوں میچ سپر اوور میں بھی ٹائی ہوگیا، اب پلیئنگ کنڈیشنز کے تحت فاتح کا فیصلہ مین اننگز اور سپر اوور دونوں میں جڑی گئی مجموعی بائونڈریز (چوکے، چھکے) کی تعداد پر ہوا، لائنز نے مین میچ میں 18 اور سپر اوورز میں دو بائونڈریز جڑیں جبکہ اوٹاگو کی مین میچ میں 19 اور سپر اوور میں دو بائونڈریز تھیں، اس لیے وہ فتح کے حقدار قرار پائے۔دوسرے میچ میں پرتھ اسکوچرز 120 رنز پر آئوٹ ہوئے، کیون کوپر نے چار وکٹیں لیں، جواب میں راجستھان رائلز نے ایک وکٹ پر ہدف حاصل کرلیا، اجنکیا راہنے 62 اور سنجو سیمسن 50 پر ناٹ آئوٹ رہے۔