ٹیکس دہندگان کو ریفنڈ کا چیلنج

معیشت کی کشتی کو تو ساحل مراد پر لانا ایک چیلنج ہے۔

معیشت کی کشتی کو تو ساحل مراد پر لانا ایک چیلنج ہے۔ فوٹو: فائل

پاکستان آئی ایم ایف کی شرط کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ٹیکس دہندگان کو 75 ارب روپے ریفنڈ نہیں کرپائے گا۔ یہ ایک مشکل ترین صورتحال ہے، جس کا سامنا قومی معیشت کوکرنا پڑ رہا ہے۔

معاشی اعتبار سے وطن عزیز اس وقت تاریخ کے مشکل ترین دورسے گزر رہا ہے' حکومت کو بجٹ خسارہ اورگردشی قرضے ورثے میں ملے۔ دوسری جانب ایف بی آرکا منصوبہ تھا کہ پرومیسری نوٹس کے ذریعے مخصوص مقدار میں ریفنڈز کیے جائیں۔ تاہم پرومیسری نوٹس کو بطور ضمانت تسلیم کرنے میں بینکوں کی ہچکچاہٹ کی وجہ سے یہ نوٹس تیز رفتاری سے جاری نہیں ہوسکے۔

حقیقت میں دیکھا جائے تو ملکی معیشت تاحال آئی سی یو میں ہی ہے۔کیونکہ ایف بی آر مقررہ اہداف حاصل کرنے میں مکمل طورپر ناکام نظر آرہی ہے۔اس کا ایک بڑا سبب تاجروں اورایف بھی آرکے درمیان اعتماد اور اعتبارکی کمی ہے۔یہ ایک ''ٹپنگ پوائنٹ'' ہے، تاجروں اورصنعت کاروں کے بقول یہ ان کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے، بزنس مین طبقے کو ٹیکس ریٹرن فارم میں گوشوارے جمع کرانے میں تاحال مشکلات کا سامنا ہے۔


تاجروں کی رجسٹریشن پر بھی تعطل برقرار ہے، شناختی کارڈکی شرط بھی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ ایف بی آرکے اہلکار بڑی مارکیٹوں میں موجود اسمگل شدہ اشیا کی فہرستیں بنا رہے ہیں۔ سیدھی سی بات ہے کہ ایف بی آر اور تاجر ایک پیج پر نہیں ہونگے تو ملکی معیشت کا پہیہ کیسے چلے گا۔

ایک جانب تو حکومت کا موقف ہے کہ سابقہ حکمرانوں نے کرپشن کا بازارگرم کرکے ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے، اور اسی وجہ سے ملکی خزانے اور وسائل کو لوٹنے والوں کا احتساب جاری ہے، ہم حکومت کی خلوص نیت پر شک نہیں کرتے لیکن جب رزلٹ کچھ نہ نکلے تو پریشان ہونا تو بنتا ہے۔

کامن مین کی کمر ٹوٹ چکی ہے مہنگائی کے بوجھ سے،حالانکہ جمہوری نظام میں یہ بات لازمی ہے پہلے ترقیاتی اہداف کا حصول ممکن بنایا جائے اور عام آدمی تک ان کے ثمرات کو پہنچانا قومی فریضہ بنتا ہے۔اس اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے ضرورت اس امرکی ہے کہ حکومت معیشت سے وابستہ تمام کاروبارکی دستاویز بندی کر کے حکومتی دائرہ اختیار میں لائے،ایف بی آر میں اصلاحات لائی جائیں اور ٹیکس گزاروں کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں تاکہ ملکی معیشت اپنے پاؤں پر کھڑی ہوسکے۔

ایک تجزیہ کارکے مطابق دنیا کے بہت سے ممالک نے آئی ایم ایف پروگرامز سے رجوع کیا ہے تاہم ان پر آئی ایم ایف کی شرائط اور پابندیوں کے ضمن میں اصلاحات کے ڈیفالٹ کے الزامات بھی لگتے رہے، مگر کئی ممالک نے آئی ایم ایف کی فالٹ لائن کی اصلاح بھی کی۔دیکھنا یہ ہے ارباب اختیار ، ہمارے معاشی اور مالیاتی مسیحا ری فنڈ مسئلہ کا کیا تیر بہدف نسخہ نکالتے ہیں۔ معیشت کی کشتی کو تو ساحل مراد پر لانا ایک چیلنج ہے۔
Load Next Story