بینکوں کے خلاف تحقیقات حصص مارکیٹ میں بد ترین مندی 554 پوائنٹس گر گئے
سرمایہ کاروں کے مزید 1 کھرب 9 ارب72 کروڑ99 لاکھ 10 ہزار410 روپے ڈوب گئے۔
پیر کو مقامی انسٹی ٹیوشنز کی جانب سے حصص کی فروخت کی پیشکشوں پر بھی انہیں کوئی خاطر خواہ جواب نہیں ملا۔ فوٹو: آن لائن
مقامی انسٹی ٹیوٹس اور غیرملکیوں کے سرمائے کے انخلا کے علاوہ ڈالر کی سٹہ بازی میں ملوث بینکوں کے خلاف تحقیقات کی خبروں کے باعث کراچی اسٹاک ایکس چینج میں پیر کو مندی کی بڑی لہر رونما ہوئی جس سے انڈیکس کی5نفسیاتی حدیں بھی گرگئیں، 69.65 فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں۔
جبکہ سرمایہ کاروں کے مزید 1 کھرب 9 ارب72 کروڑ99 لاکھ 10 ہزار410 روپے ڈوب گئے۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا ہے کہ گیس پاورٹیرف کے علاوہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے، آئی ایم ایف کو ادائیگیوں سے ڈالر کی قدر میں اضافے، شرح سود میں مزید اضافے کے خدشات اورامن وامان کی خراب صورتحال کی وجہ سے ریٹیل انویسٹرز تو مارکیٹ سے آؤٹ ہوچکے ہیں جبکہ پیر کو مقامی انسٹی ٹیوشنز کی جانب سے حصص کی فروخت کی پیشکشوں پر بھی انہیں کوئی خاطر خواہ جواب نہیں ملا، ان عوامل نے سرمایہ کاروں کو مایوسی سے دوچار کردیا ہے۔
جس کی وجہ سے غیرملکی بھی بدستور سرمائے کا انخلا کررہے ہیں اور کم قیمتوں پر بھی سرمایہ کاری کے بیشترشعبے حصص کی خریداری سے گریز کررہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ پیر کو کاروبار کا آغاز ہوتے ہی فوری طور پر450 پوائنٹس گرگئے اورایک موقع پر مندی 717 پوائنٹس تک جاپہنچی تھی تاہم فرٹیلائزر اور ٹیلی کام سیکٹر کی بعض کمپنیوں میں خریداری سے مندی کی شدت کم ہوئی، ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں، بینکوں ومالیاتی اداروں، این بی ایف سیز اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے69 لاکھ8 ہزار885 ڈالر کا انخلا کیا گیا۔
جبکہ مقامی کمپنیوں 10 لاکھ73 ہزار152 ڈالر، میوچل فنڈز کی جانب سے29 لاکھ2 ہزار452 ڈالراور انفرادی سرمایہ کاروں کو 29 لاکھ33 ہزار282 ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی،کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس554.63 پوائنٹس گھٹ کر21832.68 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 467.49 پوائنٹس کمی سے 16580.59 اور کے ایم آئی30 انڈیکس724.48 پوائنٹس گھٹ کر36825.25 ہوگیا، کاروباری حجم گزشتہ جمعہ کی نسبت 27.50 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر20 کروڑ82 لاکھ50 ہزار 550 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار346 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں83 کے بھاؤ میں اضافہ، 241 کے دام میں کمی اور22 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
جبکہ سرمایہ کاروں کے مزید 1 کھرب 9 ارب72 کروڑ99 لاکھ 10 ہزار410 روپے ڈوب گئے۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا ہے کہ گیس پاورٹیرف کے علاوہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے، آئی ایم ایف کو ادائیگیوں سے ڈالر کی قدر میں اضافے، شرح سود میں مزید اضافے کے خدشات اورامن وامان کی خراب صورتحال کی وجہ سے ریٹیل انویسٹرز تو مارکیٹ سے آؤٹ ہوچکے ہیں جبکہ پیر کو مقامی انسٹی ٹیوشنز کی جانب سے حصص کی فروخت کی پیشکشوں پر بھی انہیں کوئی خاطر خواہ جواب نہیں ملا، ان عوامل نے سرمایہ کاروں کو مایوسی سے دوچار کردیا ہے۔
جس کی وجہ سے غیرملکی بھی بدستور سرمائے کا انخلا کررہے ہیں اور کم قیمتوں پر بھی سرمایہ کاری کے بیشترشعبے حصص کی خریداری سے گریز کررہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ پیر کو کاروبار کا آغاز ہوتے ہی فوری طور پر450 پوائنٹس گرگئے اورایک موقع پر مندی 717 پوائنٹس تک جاپہنچی تھی تاہم فرٹیلائزر اور ٹیلی کام سیکٹر کی بعض کمپنیوں میں خریداری سے مندی کی شدت کم ہوئی، ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں، بینکوں ومالیاتی اداروں، این بی ایف سیز اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے69 لاکھ8 ہزار885 ڈالر کا انخلا کیا گیا۔
جبکہ مقامی کمپنیوں 10 لاکھ73 ہزار152 ڈالر، میوچل فنڈز کی جانب سے29 لاکھ2 ہزار452 ڈالراور انفرادی سرمایہ کاروں کو 29 لاکھ33 ہزار282 ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی،کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس554.63 پوائنٹس گھٹ کر21832.68 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 467.49 پوائنٹس کمی سے 16580.59 اور کے ایم آئی30 انڈیکس724.48 پوائنٹس گھٹ کر36825.25 ہوگیا، کاروباری حجم گزشتہ جمعہ کی نسبت 27.50 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر20 کروڑ82 لاکھ50 ہزار 550 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار346 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں83 کے بھاؤ میں اضافہ، 241 کے دام میں کمی اور22 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔